جسٹس فائز عیسی کو راستے سے ہٹانے اور ان کے اہل خانہ کو ہراساں کرنے کی کوشش کی جارہی ہے، امان اللہ کنرانی
کوئٹہ) سپریم کورٹ بار ایسوسیشن کے سابق صدر سینیٹر(ر)امان اللہ کنرانی کا بیان ہمیں ان اطلاعات پر تشویش ہے حکومت سپریم کورٹ کے دس رکنی بنچ کے سامنے سپریم کورٹ کے جج و بلوچستان کی نمائندگی پر ممکنہ چیف جسٹس پاکستان کے خلاف ریفرنس کو ثابت کرنے میں بری طرح ناکامی کے بعد اوچھے ہتھکنڈوں پر اتر آئی ہے جس میں ان کو راستے سے ھٹانے اور ان کے اھل خانہ کو ہراساں کرنے کی کوشش کی جارہی ہے جس کی ھم پر زور مذمت کرتے ہیں حکومت کی جانب سے عدلیہ کی آزادی کو سلب کرنے کی راہ ایسے ہتھکنڈے نئے نہیں پہلے بھی 12 مئی 2007 کو عدل کے شمع کے پروانوں کو تلف کرنے کے ظالمانہ طاقت کا مظاہرہ کرتے ھوئے کء جانوں کو ابدی نیند سلاد یا گیا اسی طرح سابق وزیراعظم چوہدری شجاعت حسین نے بھی اپنی ایک کتاب کے اندر ہوشرباء انکشاف کرتے ہوئے بتایا ہے اس کو اس وقت کے حکمرانوں نے وزیراعلی پنجاب کو ھدایت کی تھی عدل کی تلاش میں رواں لشکر کو انکے سالار یعنی چیف جسٹس پاکستان سمیت کچل دیا جائے مگر چوہدری برادران کی دانشمندی سے وہ سانحہ رونما نہ ھوسکا آج ایک بار اقتدار کے نشے میں پھر بدمست حکمران اسی ذھنیت کی عکاسی کرتے ھوئے جناب قاضی فائز عیسی اور ان کے اھل خانہ کو ھراساں کرنا شروع کردیا ہے ہم حکومت کو خبردار کرتے ہیں وہ اپنے گھناؤنے عزائم سے باز آجائے ورنہ اس کو آگ و خون کے دریا کو عبور کرنا ھوگا ایک لاکھ سے زائد وکلاء اور بائیس کروڑ عوام اپنے آئینی حقوق کے محافظ جراتمند جج کی دفاع میں اپنے سر ھتیلی پر رکھ کر کفن پہن کر میدان میں اتریں گے تمام دوستوں وکلاء اداروں سے روابط کے زریعے“جسٹس قاضی فائز عیسی بچاؤ تحریک”کا آغاز کردیں گے جو حکومت کے درودیوار ھلا دے گی
پو


