گڈانی شپ بریکنگ یارڈ میں بحری جہازوں کی آمد، مقامی لوگوں کو روزگار میسر ہونا شروع
حب(یو این اے )گڈانی شپ بریکنگ یارڈ کی ریگولیٹری اتھارٹی بی ڈی اے نے لوکل انڈسٹری کی ترقی کیلئے اہم اقدامات کا آغاز کردیا ہے شپ بریکنگ یارڈ میں ناکارہ بحری جہازوں کی آمد کیساتھ تجارتی سرگرمیاں شروع یوگئ ہیں سرکاری ذرائع کےمطابق گڈانی شپ بریکنگ یارڈ میں واقع بی ڈی اے کے مختلف پلاٹ آپریشنل ہونے سے مقامی لوگوں کیلئے روزگار کے مواقع میسر ہونا شروع ہوگئے ہیں گڈانی شپ بریکنگ انڈسٹری سے وابستہ صنعتکاروں نے موجودہ نگران حکومت کی کامیاب معاشی پالیسی کی بدولت مختلف ممالک سے ناکارہ بحری جہازوں کی خریداری کیلئے سودےشروع کئے ہیں سرکاری ذرائع کیمطابق گڈانی شپ بریکنگ یارڈ کو ماڈرن یارڈ بنانے کیلئے بی ڈی اے نے ون ونڈو آپریشن کی سہولیات صنعت کاروں کو میسر کررہی ہے اورمستقبل کی صنعتی ضروریات کی تحت ایک ہزار ایکڑ رقبے پر اسٹیل آئرن سٹی قیام کا منصوبہ بھی زیر غور ہے شپ بریکنگ یارڈ سے ملحقہ تجارتی سرگرمیوں کے فروغ کیلئے فیسیلٹیشن سینٹر اوربی ڈی اے کی ریگولیٹری اتھارٹی کیلئے جدید ترین کمپلیکس کا منصوبہ زیرتکمیل ہے جنرل منیجر گڈانی شپ بریکنگ یارڈ منیر احمد بزنجو کا کہنا ہیکہ گڈانی شپ بریکنگ یارڈ کے لنک روڈز اوردیگر منصوبوں کی حکومت سے منظوری حاصل کرلی گئ یے فنڈز ریلیز ہوتے ہی ترقیاتی کام شروع کئے جائیں گے جی ایم شپ بریکنگ کا کہنا ہیکہ ڈائریکٹر بی ڈی اے کیپٹن جاوید کی کوششوں سے گڈانی کے مختلف مقامات پر متبادل ذرائع سے پانی کی بورنگ کے آزمائشی منصوبے کامیاب یوچکے ہیں فیزیبلٹی اسٹڈی جاری ہے جلد مزید پیشرفت کا امکان ہے منیر احمد بزنجو نے بتایا کہ گزشتہ دنوں سپریم کورٹ کی جانب سے قائم واٹرکمیشن اجلاس میں بی ڈی اے کی جانب سےآبنوشی اورانڈسٹریل مقاصد کے تحت پانی فراہمی کے منصوبوں سے متعلق حکام کو تجاویز پیش کی گئ ہیں منیر احمد بزنجو کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ کی جانب سے قائم واٹرکمیشن کے ٹیکنیکل اسسٹنٹ گڈانی کا دورہ کرچکے ہیں جلد وہ رپورٹ تجاویز کیساتھ مرتب کرکے چیئرمہن واٹرکمیشن کو پیش کرینگے واضح رہے کہ 1974 میں بی ڈی اے نےصنعتی مقاصد کے تحت واٹر سپلائ ہراجیکٹ نیسپاک کے تعاون سےحب میں قائم کیا 1988 میں بی ڈی اے پراجیکٹ کے تحت قائم کئے گئے واٹر پمپنگ اسٹیشن حب سے گڈانی تک پائپ لائن کے ذریعے پانی سپلائ شروع کی گئ علاوہ ازیں صنعتی شہر حب کے عوام بھی گزشتہ چالیس سالوں سے بی ڈی اے کے واٹرسپلائ پراجیکٹ سے مستفید ہورہے ہیں


