جان کو خطرہ ہے ، سرفرازبگٹی اور شفیق ایک ہی انسٹیٹیوٹ کے تربیت یافتہ ہیں ، سردار اختر مینگل

کوئٹہ(یو این اے )بلوچستان نیشنل پارٹی کے سربراہ سابق وزیر اعلیٰ بلوچستان سردار اختر جان مینگل نے کہا ہے کہ میری جان کو خطرہ ہے ہماری پارٹی کی جانب سے لانگ مارچ کا اعلان ہوتے ہی صوبائی حکومت نے مختلف اضلاع میں دفعہ 144نافذ کردیا ہے تاکہ ہمارے راستے کو روکا جاسکے نگران وزیر داخلہ سرفراز بگٹی اور شفیق الرحمن مینگل دونوں ایک ہی انسٹیٹوٹ کے تربیت یافتہ ہے ایپکس کمیٹی کے بلوچستان اجلاس میں وڈھ میں شفیق مینگل کو ریلیف دینے کی مشاورت ہوئی سرفراز بگٹی ڈیرہ بگٹی میں امن لشکر کے نام سے تنظیم کی سربراہی کرتے آرہے ہیں ان خیالات کا اظہار انہوں نے نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے کیا سردار اختر مینگل نے مزید کہا کہ میں اس وقت اپنے گھر وڈھ سے آپ سے مخاطب ہوں میرے گھر سے 50گز کے فاصلے پر راکٹ گھرے ہیں یہ پہلی مرتبہ نہیںہوا ہے بلکہ 2004سے یہ سلسلہ جاری ہے انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں وڈھ کے علاوہ باقی قبائلی جھگڑیں ہیں جہاں کافی تعداد میں لوگ دونوں جانب قتل ہوئے ہیں لیکن اپیکس کمیٹی کے بلوچستان اجلاس میں صرف وڈھ زیر بحث آیا اور یہ طے ہوا ہے کہ شفیق مینگل کو ہر صورت حفاظت کو یقینی بنا نا ہے ایک سوال کے جواب میں سابق وزیراعلی بلوچستان سردار اختر مینگل نے کہا کہ جہاں تک نگران وزیر داخلہ سرفراز بگٹی کے الزام کا تعلق ہے یہ تو پورے بلوچستان کے عوام کو معلوم ہے کہ موصوف ڈیرہ بگٹی میں امن لشکر کے نام سے تنظیم چلا رہے ہیں جس میں اب تک سینکڑوں بے گناہ لوگوںکو قتل کرچکے ہیں ایک اور سوال کے جواب میں کہا کہ جہاں تک نگران وزیر اعظم انوار الحق کاکڑ کی جانب سے بلوچستان میں لاپتہ افراد کی تعداد پچاس ظاہر کی گئی ہے تو اس حوالے سے عرض ہے کہ سابق وزیر اعظم عمران خان کی حکومت میں 450لاپتہ افراد بازیاب ہوکر اپنے گھروں تک پہنچ چکے ہیں ظاہر ہے نگران وزیراعظم بھی وہی بات کریں گے جو ادارے ان کو کہیں گے ایک اور سوال کے جواب میںکہا کہ مجھے اس بات کی سزا دی جارہی ہے کیونکہ میں نے اسلام آباد ہائیکورٹ کے احکامات پر جو فہرست مرتب کی اس سے اداروں کو تکلیف پہنچی اس لیے میری مخالف کی جارہی ہے جب ہم نے لانگ مارچ کا اعلان کیا ہے تو حکومت نے مختلف اضلاع میں دفعہ 144نافذ کیا ہے تاکہ ہمارے لانگ مارچ کو روکا جاسکے

اپنا تبصرہ بھیجیں