اوتھل زیرو پوائنٹ چیک پوسٹ بحال، پولیس اسمگلروں سے روزانہ لاکھوں روپے بٹورنے لگی
اوتھل (آن لائن)اوتھل زیروپوائنٹ کلوز پولیس چیک پوسٹ بحال،چھالیہ و ڈیزل مافیا سمیت منشیات کی اسمگلنگ سے روزانہ لاکھوں روپے بھتہ وصولی میں مصروف,تفصیلات کیمطابق ضلعی ہیڈ کوارٹر اوتھل کا علاقہ کھرڑی کچے کا راستہ ایرانی پیٹرول و ڈیزل اور چھالیہ اسمگلنگ کی محفوظ گزر گاہ بن گیا،لسبیلہ پولیس اسمگلروں سے روزانہ لاکھوں روپے بٹورنے لگی ہے،دوسری جانب کھرڑی کے کچے کے راستے پر علاقائی لوگوں کی جانب سے علاقائی حدود پر اسمگلرز سے لین دین پر تکرار روز کا معمول بن گئی، جس سے بڑے تصادم کا خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے،ذرائع کیمطابق اوتھل پولیس زیروپوائنٹ چیک پوسٹ پر نوٹ چھاپنے میں مصروف ہیں ڈیزل بردار ٹرک سے 15 ہزار ،سوزکی سے 1ہزار سے 5 سو روپے کی بھتہ وصولی کی جارہی ہے، کھرڑی کچے کے راستے سے ہونے والی اس بڑی اسمگلنگ کی وجہ پاکستان کوسٹ گارڈز اوتھل چیک پوسٹ سے بچنا ہے،کوسٹ گارڈز بھی اپنی بند چیک پوسٹ کو آہستہ آہستہ بحال کرنے میں مصروف نظر آتا ہے قومی شاہراہ سے تیل،چھالیہ اسمگلنگ کرنے والی گاڑیوں سے تیل اتارنے میں مصروف آتا ہے تو دوسری جانب لین دین میں بھی اوتھل پولیس سے پیچھے نہیں،کوسٹ گارڈز سے بچنے کیلئے اسمگلرز ضلعی ہیڈ کوارٹر اوتھل کے علاقے کھرڑی کا کچا راستہ استعمال کرنے لگے ہیں اس راستے سے روزانہ سینکڑوں بلکہ ہزاروں گاڑیاں ایرانی پیٹرول اور چھالیہ سے لوڈ یہاں سے پار کی جارہی ہیں،جس سے اوتھل پولیس کے وارے نیارے ہوگئے ہیں روزانہ ان گاڑیوں سے لاکھوں کا بھتہ وصول کیا جارہا ہے یہ گاڑیاں چانڈیا ہوٹل سے اور کچھ گاڑیاں لسبیلہ یونیورسٹی کے قریب یاماہا کمپنی سے ہوتے ہوئے مین قومی شاہراہ پر آجاتی ہیں جن سے اوتھل پولیس کے کچھ اہلکار سادہ کپڑوں میں ملبوس وہاں پر گشت کرتے ہوئے بھی نظر آتے ہیں،واضع رہے کہ کچھ عرصہ قبل لاکھڑا کے علاقے گدڑی میں بھی ڈیزل بردار گاڑیوں سے نجی چیک پوسٹ لگا کر بھتہ وصولی پر تصادم میں ایک شخص جاں بحق ہوچکا ہے اب دوبارہ پولیس نے اپنی کمائی کیلئے ان اسمگلروں کو کھرڑی کا کچا محفوظ راستہ استعمال کرنے کی مکمل چھوٹ دے رکھی ہے جس سے علاقائی افراد کی جانب سے قائم نجی چیک پوسٹوں پر خونی تصادم کا خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے,دوسری جانب اس ساری اسمگلنگ کی صورتحال سے لسبیلہ پولیس کے ضلعی آفیسر لاعلم ہیں یا یہ سب کچھ لسبیلہ پولیس کے کپتان کے ناک کے نیچے ہورہا ہے۔اوتھل کے عوامی حلقوں نے نگراں وزیراعلی بلوچستان،آئی جی بلوچستان سے مطالبہ کیا ہے کہ لسبیلہ پولیس کی جانب سے ایرانی تیل،چھالیہ کے اسمگلروں کی معاونت و ان سے بھتہ وصولی کا سختی سے نوٹس لیا جائے۔


