پاک ایران تعلقات خطے کی ترقی و خوشحالی کے ضامن ہیں،سینیٹرعبدالقادر
کوئٹہ(این این آئی) چیئرمین اسٹینڈنگ کمیٹی برائے پیٹرولیم و رسورسز اور سیاسی و اقتصادی امور کے ماہر سینیٹر محمد عبدالقادر نے کہا ہے کہ ایران کے پاکستان میں تعینات سفیر ڈاکٹر رضا امیری مقدم کا یہ کہنا کہ ایران پاکستان میں سی پیک پر توانائی فراہم کرنے کے لئے تیار ہے نہایت خوش آئند ہے. ایران پاکستان میں جاری سی پیک پراجیکٹس کو توانائی فراہم کرنے کے لئے تیار ہے ایران توانائی کی بیش قیمت نعمت کی دولت سے مالا مال ملک ہے اس وقت بھی بلوچستان کے گوادر اور پنجگور کے علاقے میں ایرانی بجلی ہی استعمال کی جا رہی ہے۔یہاں جاری ہونے والے ایک بیان میں سینیٹرعبدالقادر نے کہاکہ سی پیک ایک عظیم الشان منصوبہ ہے یہ منصوبہ بلا شبہ چینی قیادت کے ارفع و اعلیٰ ویژن کا عکاس ہے پاکستان اس وقت تک توانائی کے بحران کا سامنا کر رہا ہے توانائی کے بحران پر جلد قابو پانے کیلئے ایران سے توانائی کے معاملات طے کئے جا سکتے ہیں تاکہ سی پیک منصوبے کسی قسم کے تعطل کا شکار نہ ہوں پاکستان کو توانائی کے بحران پر فوری طور پر قابو پانا ہوگا ایسے حالات میں جب ملک مختلف نوعیت کے بحرانوں سے نبرد آزما ہے ایران کی پیشکش کسی نعمت مترکبہ سے کم نہیں۔انہوں نے کہا کہ پاکستان اور ایران کے درمیان تجارت کا حجم 2 ارب 40 کروڑ ڈالر ہے جس کو دس گنا بڑھایا جا سکتا ہے پاکستان ایران کو چاول، گندم،دالیں اور گوشت سمیت دیگر اشیاء بھجوا کر کثیر زرمبادلہ کما سکتا ہے جبکہ ایران سے پاکستان بھجوائی جانے والی چیزوں میں سرفہرست تیل اور بلڈنگ میٹریل ہے پاکستان ایران دو طرفہ مستحکم تعلقات خطے کی ترقی و خوشحالی کے ضامن ہیںبرادر ہمسایہ ملک ہونے کی وجہ سے پاکستان ایران دوطرفہ بڑھتی ہوئی تجارت دونوں ممالک میں آسانیاں پیدا کرے گی۔چیئرمین قائمہ کمیٹی محمدعبدالقاددر نے کہا کہ بڑھتا ہوا تجارتی حجم ممالک میں اختلافات ختم کرتا ہے کیونکہ دونوں ممالک بدمذ گی تجارت کو متاثر کرتی ہے چین سی پیک پراجیکٹس کی پیداواری گنجائش بڑھانے کا خواہاں ہے ان اہداف کے حصول کیلئے توانائی کی ضروریات پوری کرنے کی اشد ضرورت ہے اور ایران ہماری یہ ضروریات پوری کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے اس پیشکش سے استفادہ کرتے ہوئے پاکستان بہت زیادہ مالی دباؤ سے بھی بچ سکتا ہے پاکستان ایران گیس پائپ لائن منصوبے کی تکمیل اس سلسلے میں انتہائی ممدومعاون ثابت ہو سکتی ہے۔


