38دن بعد حملہ آورکی لاش ولی تنگی میں سرچ آپریشن کے دودان ملی، جان اچکزئی

کوئٹہ( این این آئی)نگران صوبائی وزیر اطلاعات جان اچکزئی نے کہا ہے کہ غیر قانونی تارکین وطن کیخلاف کریک ڈاون کا دوسرا مرحلہ شروع کردیا ہے کسی بھی غیر قانونی تارکین وطن کو نہیں چھوڑا جائیگا ،اب تک ایک لاکھ 20 ہزار تارکین وطن جا چکے ہیں جبکہ 2 ہزار سے زائد غیر قانونی تارکین وطن کو پکڑا کر سرحد پار کردیا ،جنوری کے آخر تک دس لاکھ غیر قانونی تارکین وطن کو واپس بھیجا جائیگا ،سرحد کی بندش کی خبروں میں کوئی صداقت نہیں،کالعدم تنظیم نے 14 ستمبر کوولی تنگی ڈیم پر حملے کی ذمہ داری قبول کر لی ہے ۔ یہ بات انہوں نے بدھ کوکوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کر تے ہوئے کہی۔ نگراں صوبائی وزیر اطلاعات جان اچکزئی نے کہا کہ قانون نافذ کرنے والے ادارے کسی کی بھی شخص کا شناختی کارڈ دیکھ سکتے ہیں، اسٹاپ اور سرچ کی پالیسی پر بھی کام کررہے ہیں،جنوری کے آخر تک دس لاکھ غیر قانونی تارکین وطن کو واپس بھیجا جائیگا، صوبائی دارلحکومت میں 10 لاکھ غیر قانونی طور پر مکین تارکین وطن موجود ہیں ملک میں رہنے والے کسی بھی غیر قانونی تارکین وطن کو ملک میں نہیںچھوڑا جائیگا ،بہت ہو گئی مہمان نوازی اب تمام غیر ملکیوں کو جانا ہوگا ،دو لاکھ جعلی شناختی کارڈ بنائے گئے ہیں انکو بلاک کرنے کیخلاف کام شروع کر دیا ہے ۔انہوں نے کہا کہ سرحد کی بندش کی خبروں میں کوئی صداقت نہیں،14 ستمبر کو ولی تنگی ڈیم کی چیک پوسٹ پر حملہ کیا گیا، کالعدم تنظیم نے ولی تنگی ڈیم پر حملے کی ذمہ داری بھی قبول کر لی ہے،کالعدم تنظیمیں اپنے ساتھیوںکو چھوڑ کر بھاگ جاتے ہیں، ایک حملہ آور کی لاش اگلے ہی روز چیک پوسٹ کے قریب کے علاقے میں سرچ اپریشن کے دوران ملی تھی اور بد ھ کو ایک لاش ولی تنگی میں سرچ آپریشن کے داروان ملی، حملہ آوروں کو مرنے کے بعد اسلامی روایت کے دفن ہونا بھی نصیب نہیں ہوا ، کالعدم تنظیمیں ایسے ہی نوجوانوں کو ورغلا کر اپنے گروپس میں شامل کر لیتی ہیںجو لوگ اس غلط فہمی کا شکا ر ہیں کہ وہ کسی حیلے بہانے سے بچ جائیں گے تو یہ انکی بھول ہے ، خاص کر پولیس کو ہدایت کی گئی ہے کہ غیر قانونی اور غیر ملکیوں کو اپنی تحویل میں لے کر بارڈر تک پہنچائیں ۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ کم وسائل میں بھی حکومت غیر قانی تارکین وطن کے انخلا ء کویقینی بنا رہی ہے بلوچستان میں98فیصد غیر قانونی افغان باشندے موجود ہیں ۔انہوں نے کہا کہ افغان ٹرزٹ ٹریڈ جو چمن میں افغانستان سے ٹرک آتے ہیں انکو بارڈر پر روک دیا جاتا ہے اور پاکستان ٹرک میں سامان بھر کر ملک کے دیگر حصوں میں بھیجا جا تا ہے افغانستان کے ٹرکوں کوچمن سے آگے آنے کی اجزت نہیں ابھی ٹرزٹ ٹریڈ بحال ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں