بلوچستان میں سیاسی حالات مخدوش ہیں، پاکستان کی بہتری کیلئے ہم سخت فیصلے کرنے پر مجبور ہوئے، سرفراز بگٹی

کوئٹہ(یو این اے )آل پاکستان واپڈا ہائیڈرو الیکٹرک ورکرز یونین(سی بی اے)کے زیر اہتمام ایک روزہ کانفرنس بموضوع” ادارے کی تعمیر و ترقی، صارفین کی بہتر سے بہتر خدمت کرنے اور ورکرز کے انسانی بنیادی حقوق پر عملدرآمد کے سلسلے میںایئرپورٹ روڈ شیخ ماندہ ریسٹ ہاس کے سبزہ زار پر منعقد ہوا۔ اس اہم کانفرنس میں بطور مہمان خصوصی وفاقی وزیر داخلہ سرفراز بگٹی نے شرکت کی۔ انہوں نے کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ نگراں حکومت جب 15 اگست 2023 کو قائم ہوئی تو اس وقت ملک کی معیشت دلدل میں پھنسی ہوئی تھی، اداروں کی کارکرگیوں پر سوالات تھے، نگراں حکومت کے آتے ہی ایفکس کمیٹی کی میٹنگز میں نگراں وزیر اعظم انوار الحق کاکڑ اور ان کے ساتھ تمام اداروں کی باہمی کوششوں سے معیشت کو درپیش مسائل کی نشاندہی کی گئی کیونکہ آج کے دور میں جنگوں میں ایک دوسرے کو شکست دیا جانا مشکل ہے لیکن معاشی میدان میں بد حالی او ر زبو حالی سے ملک کی سالمیت کو نقصان پہنچ جاتا ہے۔ نگراں حکومت نے امن و امان کی بحالی، دہشت گردی کی روک تھام ، غیر قانونی تارکین وطن کو اپنے ملکوں میں بھیجنے، ڈالر کی اڑان ، سمگلنگ اور غیر دستاویزی معشیت پر قدغن لگانے کے طریقوں پر عمل کے ساتھ ساتھ بجلی اور گیس کی چوری اور ریکوری اہداف کے حصول کیلئے بھی انتھک محنت سے کام کیا ہے۔ اس سلسلے میں نگراں حکومت کو سخت اقدامات کرنے پڑ رہے ہیں لیکن ملک کیلئے اور کوئی چوائس نہیں تھا کہ ہم سخت فیصلے کرکے ملک کی معیشت کو بحال کرے جس کے بعد عوام الناس کی خوشحالی کیلئے اقدامات اٹھائے جاسکے۔نگراں حکومت کا مینڈیٹ بروقت صاف شفاف الیکشن کروانا ہے اور اس سلسلے میں ہم الیکشن کمیشن کی ہر طریقے سے مدد کر رہے ہیں تاکہ صاف شفاف الیکشن کے ذریعے ملک کی بھاگ دوڑ آئندہ منتخب حکومت کے سپرد کی جاسکے۔ انہوں نے کہا کہ بجلی چوری کو روکنے اور ریکوری اہداف حاصل کرنے میں واپڈا اور پاور سیکٹر کے تمام کارکنوں اور انجینئرز نے دن رات محنت کرکے کام کیا ہے۔ صوبہ بلوچستان مخدوش سیاسی حالات کے باوجود کیسکو کے انجینئرز ، آفیسرزاور اہلکاران نگراں حکومت کی ٹارگٹ کو حاصل کرنے کیلئے بہتر طور پر کام کیا ہے اور اس کام کو مزید بہتر بنانے کیلئے ہم سب کو ایمانداری اور محنت سے کام کرنا چاہیے تاکہ ہمارا ملک معاشی طور پر استحام حاصل کر سکے۔ انہوں نے سی بی اے یونین رہنماں کی طرف سے کیے جانے والے اس عہد کی کہ وہ نگراں حکومت کے وژن کے مطابق بجلی چوری کی روک تھام اور ریکوری اہداف کو حاصل کرنے کیلئے اپنی کوششیں ایمانداری اور محنت سے مزید تیز کریں گے یہ ایک خوش آئند عہد ہے اور اس طرح سے ہم اپنے معاشی اہداف حاصل کرنے میں کامیاب ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے سی بی اے یو نین کی طرف سے بتائے گئے بنیادی انسانی حقوق پر عملدرآمد کو یقینی بنانے کیلئے وعدہ کیا کہ وہ نگراں وزیر اعظم کوانجینئرز اور واپڈا کے مزدوروں کے مسائل سے آگاہ کریں گے اورسی بی اے یونین کو یقین دلایا کہ مزدوروں کے تمام جائزمسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کیے جائیں گے ۔ انہوں نے یونین کے صوبائی سربراہ محمد رمضان اچکزئی اور ان کے ساتھیوں کو کامیاب کانفرنس کے انعقاد پر مبارکباد پیش کیا اور کہا کہ مزدوروں کے ساتھ ان کا رشتہ دہائیوں سے برقرار ہے اور آج اس ایمرجنسی کال پر آپ کی خدمت میں حاضر ہو چکا ہوں اور مستقبل میں مزدوروں کے مسائل کے حل کو اپنے مشن کے طور پراولین ترجیح دوں گا۔ قبل ازیں یونین کے رہنماں نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بجلی چوری ، ریکوری اہداف حاصل کرنے، بد انتظامی اور کرپشن کے سلسلے میں ہم 2005 سے عدالتوں میں پٹیشنز دائر کر رہے ہیں اور ہماری کوشش رہی ہے کہ پروفیشنل بورڈ آف ڈائریکٹرز کی تعیناتی ہو، میرٹ پر چیف ایگزیکٹو آفیسرز کو لایا جائے، سینئرز کی جگہ جونیئر آفیسروں کی تعیناتی کی روک تھام ہو، 50 فیصد سے زیادہ خالی آسامیوں پر تعیناتیاں ہو، کارکنوں کو کام کے دوران بااثر افراد سے سیکورٹی دینے، بجلی کے کام پر جان کی حفاظت دینے اور مزدوروں کے بین الاقوامی، آئینی، قانونی، رولز، پالیسی ، عدالتی فیصلوں اور باہمی بات چیت کے ذریعے کیے گئے معاہدات پر عملدرآمد ہو تاکہ مزدور مطمئن حالات میں کام کریں۔ انہوں نے کہا کہ صوبہ بلوچستان کی واحد ڈسکو کمپنی جس میں 5500 کے قریب ملازمین ہیں ان میں سے 8 سے 9 سول کے قریب ملازمین کے تبادلے دور درازعلاقوں میں کرنے سے ان کی زندگیوں کیلئے قبائلی ، فرقہ بندی ، نسلی خطرات لاحق ہو چکے ہیں کیونکہ مکران کے کئی علاقوں میں مزدور قتل کیے گئے ہیں۔ ایسے حالات میں مزدوروں کا قانون اور پالیسی کے برخلاف تبادلوں سے مزدوروں میں بے چینی پیدا ہو گئی ہے اور مزدوروں کے بین الاقوامی آئینی اور قانونی حق کو تسلیم کرنے سے مزدور مطمئن ہو کر ایمانداری اور محنت سے کام میں مزید بہتری لاسکتے ہیں۔ انہوں نے وفاقی وزیر داخلہ کو بغیر سیکورٹی اتنے بڑے اجتماع میں آمد کو مزدوروں سے محبت قرار دیتے ہوئے کہا کہ ہمیں ایسی جمہوریت کی ضرورت ہے جس میں عام لوگ منتخب ہو کر عام لوگوں کے درمیان بلا خوف و خطر آسکے۔ انہوں نے اس موقع پر وکیلوں کی ایسوسی ایشنز، ایمپلائر ایسوسی ایشنز، زمیند ایکشن کمیٹی ایسوسی ایشن، تاجر ایسوسی ایشن اور دیگر طبقات کی طرح ریٹائرڈ مزدوروں کو بھی اختیار دیا کہ وہ اپنی فیڈریشن ، یونین کے ساتھ کسی بھی سیاسی پارٹی میں شامل ہو کر ملک کی ترقی اور غریب عوام بالخصوص محنت کش طبقے کے حقوق کی تحفظ کیلئے کردار ادا کر سکتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آج کے بعد ہمارا کوئی بھی لیڈر کسی بھی سیاسی پارٹی کی ایسی دعوت جس میں مزدور لیڈر کو اس پارٹی کی لیڈرشپ تک رسائی حاصل ہو اس میں شامل ہو کر مزدوروں کے جائز حقوق کیلئے جدوجہد کر سکتے ہیں۔ انہوں نے یونین عہدیداروں ، کارکنوں اورکانفرنس میں شرکت کرنے والے ساتھیوں کو شاندار کانفرنس کے انعقاد پر ان کا دلی طور پر شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ اگر اس کانفرنس میں چیف ایگزیکٹو آفیسر اورکیسکو انتظامیہ شرکت کرتیں تو سیکریٹری پاور ڈویژن کا پیغام بھی مزدوروں کو پہنچ سکتا تھا لیکن وفاقی وزیر داخلہ کی آمد نے پروگرام کو چار چاند لگا دیئے ۔ انجینئر اور مزدور عہد کرتے ہیں کہ وہ انشااللہ اینٹی تھیفٹ اورجاری ریکوری مہم میں اپنا بھرپورکردار ادا کرکے اپنی قومی ذمہ داری احسن طریقے سے پورا کریں گے۔ انہوں نے اس موقع پر برادرم خورشید احمد ،عبداللطیف نظامانی، گوہر تاج ، محمد اقبال خان سمیت ملک کے دیگر صوبوں کی قیادت کی طرف سے کامیاب کانفرنس کے انعقاد اور کامیابی کیلئے نیک خواہشات پر ان کا شکریہ ادا کیا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں