یو این چارٹر کی شق 99 کا استعمال، سلامتی کونسل غزہ جنگ سے پیدا صورتحال پر ایکشن لے، سیکرٹری جنرل یو این

نیویارک (صباح نیوز) اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے یو این چارٹر کی شق 99 کا استعمال کرتے ہوئے سلامتی کونسل پر زور دیا ہے کہ وہ غزہ جنگ سے پیدا ہونے والی صورتِ حال پر ایکشن لے۔15 رکنی سلامتی کونسل کے صدر کو لکھے گئے خط میں انتونیو گوتریس نے غزہ جنگ سے پیدا ہونے والی صورتِ حال پر فوری کارروائی پر زور دیا ہے ۔ انہوں نے کہا ہے کہ کہا کہ امن عامہ کے درہم برہم ہونے کا شدید خطرہ ہے، صورتحال تیزی سے تباہی کی جانب بڑھ رہی ہے جس کے فلسطینیوں اور خطے میں امن و سلامتی پر انتہائی ہولناک اثرات مرتب ہوں گے۔خط میں انتونیو گوتریس نے ایک بار پھر حماس کے سات اکتوبر کو اسرائیل پر حملے میں 1200 اسرائیلیوں کی ہلاکت کی مذمت کی۔انہوں نے حماس سے تمام یرغمالوں کی رہائی کا مطالبہ بھی کیا۔گوتریس نے کہا کہ غزہ میں اسرائیلی کارروائیوں میں اب تک 16 ہزار سے زائد فلسطینی جان کی بازی ہار چکے ہیں جب کہ 80 فی صد آبادی بے گھر ہو چکی ہے۔گوتریس نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ایکس’ پر اپنی پوسٹ میں کہا کہ بطور سیکریٹری جنرل انہوں نے پہلی مرتبہ اس اختیار کو استعمال کیا ہے تاکہ سلامتی کونسل غزہ جنگ کے باعث بڑے پیمانے پر ہونے والی تباہی کو روکے اور جنگ بندی کروائے۔اقوام متحدہ کے ترجمان سٹیفن ڈوجارک نے کہا کہ کئی دہائیوں سے اس آرٹیکل کا استعمال نہیں کیا گیا۔انتونیو گوتیرش نے اپنے خط میں لکھا کہ ہمیں انسانی نظام کے خاتمے کے شدید خطرے کا سامنا ہے۔انتونیو گوتیرش نے سلامتی کونسل کو اپنے خط میں کہا کہ شہری غزہ میں کہیں بھی محفوظ نہیں ہیں۔انہوں نے ایک بار پھر انسانی بنیادوں پر جنگ بندی کا اعلان کرنے کا مطالبہ کیا۔ان کے مطابق غزہ میں انسانی ہمدردی کے نظام کے خاتمے کے شدید خطرے کا سامنا کرتے ہوئے، میں کونسل سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ انسانی تباہی کو روکنے میں مدد کرے اور انسانی بنیادوں پر جنگ بندی کا اعلان کرنے کی اپیل کرے۔واضح رہے سیکرٹری جنرل کا یہ اختیار یو ان چارٹر کے آرٹیکل 99 کے تحت ہے۔ جس میں سلامتی کونسل کو کوئی معاملہ زیر بحث لانے کی سفارش سیکرٹری جنرل بھی کر سکتے ہیں ، تاکہ بین لاقوامی سلامتی کو درپیش خطرے کا پیشگی تدارک ہو سکے۔تاہم سیکرٹری جنرل کا اختیار اسی حد تک ہے کہ وہ سلامتی کونسل کو متوجہ کر سکتے ہیں۔ ا س کے بعد پھر سلامتی کونسل کا اختیار ہے کہ وہ اس معاملے کے ساتھ کیا سلوک کرے۔ موجودہ یو این سیکرٹری جنرل گوتریس نے سیکرٹری جنرل شپ کی دوسری مدت کے دوران تک پہلی بار یہ اختیار غزہ میں سنگین تر صورت حال کے پیش نظر استعمال کیا ہے۔ اس سے پہلے انہوں نےاپنا یہ اختیار کبھی استعمال نہیں کیا ہے۔ وی او اے کے مطابق اقوامِ متحدہ کی تاریخ میں سیکریٹری جنرل کی جانب سے اس آرٹیکل کو شاذ و نادر ہی استعمال کیا جاتا ہے اور یہ ایسے وقت میں استعمال کیا گیا ہے جب سلامتی کونسل تاحال غزہ میں جنگ بندی کی قرارداد منظور نہیں کرا سکی۔پندرہ اراکین پر مشتمل سلامتی کونسل کو اقوامِ متحدہ کا سب سے طاقت ور ادارہ سمجھا جاتا ہے جس کا مقصد عالمی امن اور سلامتی کو برقرار رکھنا ہے۔سلامتی کونسل کے پانچ مستقل ارکان امریکہ، برطانیہ، چین، روس اور فرانس کا سلامتی کونسل کی قرار دادوں پر عمل درآمد کے لیے کلیدی کردار ہوتا ہے اور ان کے پاس کسی بھی قرارداد کو مسترد کرنے کی ویٹو پاور بھی ہے۔اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل کو حاصل یہ اختیار ہے کیا؟ اور یہ کب کب استعمال کیا گیا؟۔اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل کا انتخاب رکن ممالک کرتے ہیں، سیکریٹری جنرل اقوامِ متحدہ کے چیف ایڈمنسٹریٹو آفیسر کے طور پر کام کرتے ہیں اور ان کے پاس محدود اختیارات ہوتے ہیں۔اقوامِ متحدہ کے چارٹر کا آرٹیکل 99 سیکریٹری جنرل کو یہ اختیار دیتا ہے کہ وہ کسی بھی ایسے معاملے پر سلامتی کونسل کی توجہ دلائیں جس سے ان کی رائے میں بین الاقوامی امن و سلامتی کو خطرہ ہو۔آرٹیکل 99 کا ذکر اقوامِ متحدہ کے چارٹر 15 میں ہے جس کے تحت "سیکریٹری جنرل سلامتی کونسل کی توجہ کسی بھی ایسے معاملے پر دلا سکتے ہیں جو ان کی رائے میں بین الاقوامی امن اور سلامتی کو خطرے میں ڈال سکتا ہے۔اقوامِ متحدہ کے چارٹر کے پانچ آرٹیکلز میں سے جو سیکرٹری جنرل کو فرائض تفویض کرتے ہیں، آرٹیکل 99 بین الاقوامی امن اور سلامتی کے تناظر میں سب سے اہم ہے۔سیکریٹری جنرل کے ترجمان اسٹیفن ڈوجارک کہتے ہیں کہ اس آرٹیکل کا استعمال کئی دہائیوں بعد کیا گیا ہے۔اس سے قبل 1989 میں اس وقت کے سیکریٹری جنرل نے لبنان میں خانہ جنگی کے دوران اس آرٹیکل کو استعمال کیا تھا جب کہ 1960 میں افریقی ملک کانگو کی صورتِ حال اور 1961 میں تیونس کے حالات پر سیکریٹری جنرل نے آرٹیکل 99 کا استعمال کیا تھا۔ادھراسرائیل کے اقوام متحدہ میں موجود سفیر گلاڈ اردان نےسیکیورٹی کونسل کو یہ خط بھیجنے پر انتونیو گوتریس کو غیر اخلاقی اقدام کرنے کا مرتکب قرار دیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ سیکریٹری جنرل کا جنگ بندی کا مطالبہ دراصل حماس کی غزہ میں دہشت گرد حکومت برقرار رکھنے کا مطالبہ ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں