(ن) لیگ نے سائفر کیس میں سپریم کورٹ کے فیصلے پر سوالات اٹھا دیئے
لاہور(صباح نیوز) مسلم لیگ (ن) نے سائفر کیس میں سپریم کورٹ کے فیصلے پر سوالات اٹھادیئے اور کہا ہم عدالتوں کا احترام کرتے ہیں، لیکن عدالتی فیصلہ صرف ضمانت تک رہتا ہے تب بھی سوال اٹھتا ہے، پی ٹی آئی نے ایک ملک پر الزام لگایا، عدالت نے کہا کہ اس معاملے پر آفیشل سیکرٹ ایکٹ کا اطلاق نہیں ہوتا، 9 مئی سانحہ بانی پی ٹی آئی نے دانستہ کیا،جب ایک سیاسی جماعت کالعدم ہوگی تو الیکشن کمیشن اسے کیسے نشان دے گا۔ لاہور میں عظمی بخاری کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے ملک احمد خان نے کہاکہ سپریم کورٹ کا سائفر کیس پر شاندار فیصلہ ہے، سائفرکیس پر فیصلہ سنا تو ذہن میں آیا کہ ٹرائل پر سوالات نہ اٹھیں، سائفر کو جواز بنا کر ایک دوست ملک کے سرکاری حکام پر الزام لگایا گیا اور اسٹیبلشمنٹ کو بھی سائفر معاملے پر گھسیٹا گیا۔انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف کو بند لفافے سے بہت رغبت ہے، بند لفافے میں چاہے 190ملین پاؤنڈ ہو یا بند لفافے سے قومی اسمبلی توڑ دیں۔انہوں نے کہا کہ سائفر کو بنیاد بناکر ماضی کی حکومت نے سیاست کی، سائفر کے بارے میں جلسوں میں تقاریر کی گئیں، قاسم سوری نے بطور ڈپٹی اسپیکرسربمہر لفافہ لہرایا، قاسم سوری نے کہا یہ لفافہ چیف جسٹس کو بھیج رہے ہیں ۔الیکشن کمیشن کے فیصلے پر ملک احمد خان کا کہنا تھا کہ جب ایک سیاسی جماعت کالعدم ہوگی تو الیکشن کمیشن اسے کیسے نشان دے گا، الیکشن کمیشن آپ کے انٹرا پارٹی الیکشن پر معترض ہوا، کمیشن کے جائز سوالات کے جوابات نہیں دئیے گئے۔لیگی رہنما نے کہا کہ 9 مئی سانحہ بانی پی ٹی آئی نے دانستہ کیا، کیا لیول پلینگ فیلڈ کے لیے آئین و قانون کی خلاف ورزی کو ساتھ ملا دیں گے، ایک شخص نے کوئی واقعہ کیا تو کیا تحقیقات مکمل کیے بغیر اسے چھوڑ دیں گے2018 میں لیول پلینگ فیلڈ نہیں ملااور4سال پارلیمنٹ میں آواز اٹھاتے رہے۔


