بلوچستان میں طاقت کا استعمال پہلے بھی ناکام ہوا ، نہ آئندہ کامیاب ہوگا، یاسمین لہڑی

بولان(یواین اے)نیشنل پارٹی کی مرکزی خواتین سیکرٹری سابقہ رکن صوبائی اسمبلی یاسمین لہڑی این اے 254 کچھی جھل مگسی کم نصیر آباد سے قومی اسمبلی کی کاغذات نامزدگی کی جانچ پڑتال کے بعد درست قرار پائے جہاں انہوں نے صحافیوں سے اپنی بات چیت میں کہا کہ صوبے کے ایک بہت بڑے اور اہم حلقے سے پارٹی ٹکٹ کا جنرل الیکشن کے لیے ملنا ایک اعزاز کی بات ہے اور یہ نیشنل پارٹی کا ہی خاصہ ہے جس نے ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ کی قیادت میں پارلیمنٹ کی سیاست کو نہیں جہت بخشی ہے اور یہاں سرداری جاگیرداری سرمایہ دار اور مرکز گریز سیاست کرنے والے عناصر کا جمہوری سیاسی انداز میں مقابلہ کیا ہے اور صوبے میں خواتین کو سیاست میں متعارف کرانے میں بھی اہم کردار ادا کیا ہے ہم اپنی سابقہ کارکردگی منظم سیاسی تنظیم نڈر سیاسی ورکرز اور عوام کے اعتماد کی بدولت الیکشن میں حصہ لینے جا رہے ہیں بلوچستان کو وفاق کااہم وحدت قرار دینا سائل وسائل پر اختیار عوام کے تمام بنیادی سیاسی حقوق کی فراوانی پرامن تعلیم یافتہ معاشرہ کی تشکیل کے لیے کوششیں ہماری ترجیحات ہوگی ان کا مزید کہنا تھا کہ اسلام اباد میں بلوچ خواتین کے ساتھ روا رکھی جانے والے واقعات کی شدید مذمت کرتے ہیں اور ہماری مرکزی قیادت نے وزیراعظم پاکستان اور سینٹ کے فورم پر احتجاج ریکارڈ کرایا اور اسلام آباد تھانے جا کر گرفتار نوجوانوں سے مکمل اظہار یکجیتی کی ہے ہم سمجھتے ہیں کہ بلوچستان میں طاقت کا استعمال اس سے پہلے بھی ناکام ہواہے اور نہ ہی اب سیاسی مسئلوں کو طاقت کے زریعے حل کیا جا سکتا ہے بلوچستان اس ملک کا عین صوبہ اور اکائی ہے یہاں کے تمام عوامی اور سیاسی ایشوز کو فوری مذاکرات سے حل کیا جا سکتا ہے اس کے لیے حقیقی قیادت اسمبلیوں میں نہیں ہوگی تو یہ معاملہ ایسے ہی طویل اور مزید خطرناک ہوتا جائے گا ان کا مزید کہنا تھا کہ اگر کوئی گنہگار ہے بھی تو انہیں عدالتوں میں پیش کر کے ان کا صاف و شفاف ٹرائل ممکن بنایا جائے ایک اور سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ تمام تر مشکلات اور مسائل کے باوجود نصیر اباد ڈویڑن میں پارٹی نے ہمیشہ جمہوری سیاست کو جاری ساری رکھا ہے اور اب بھی ہم اس سفر کو جاری رکھے ہوئے ہیں سیٹ ایڈجسٹمنٹ اور اتحاف یہ پارٹی کی قیادت اور پارلیمانی بورڈ کی سطح کے فیصلے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں