مصنوعی جنت
تحریر: انور ساجدی
میں نے اختر مینگل کے حوالے سے اپنے کالم میں تذکرہ کیا تھا۔مخالفین نے اس پر سخت ردعمل ظاہر کیا ہے اور رائے دی ہے کہ اختر مینگل بلوچستان کے پہاڑوں پر نہیں جا سکتے البتہ مرگلہ کے پہاڑ پر جاسکتے ہیں۔اس رائے پر مزید تبصرے کی ضرورت نہیں ہاں نئی نسل کو یاد دلانے کی ضرورت ہے کہ مرگلہ کے دامن پر جو ریاستی پایہ تخت آباد ہے یہ اختر جان مینگل کے والد محترم سردار عطاء اللہ خان کے مرہون منت ہے کیونکہ مارشل لاء کے نفاذ کے بعد جنرل ایوب خان نے یہ اعلان کیا تھا کہ کراچی کے ضلع جنوبی کو ہاکس بے تک وفاقی دارالحکومت بنایا جائے گا۔ اس وقت کی حکومت نے لیاری کی آبادی کے انخلاء کا حکم دیا تھا اس کے خلاف بلوچوں نے ایک تحریک چلائی تھی اور سردار صاحب نے اس کی قیادت کی تھی جب تحریک زور پکڑگئی تو ایوب خان نے کیپٹل کی راولپنڈی منتقلی کا اعلان کیا۔ راولپنڈی اس وقت ایک چھوٹا سا شہر تھا اور اس میں دارالحکومت کی ضرورت کے مطابق گنجائش کم تھی۔اس کے باوجود وہ اپنے فیصلے پر اٹل رہے۔ راولپنڈی اگرچہ ایک قدیم شہر تھا اور یہ کئی ہزار سال سے ہندوؤں کا مقدس مقام تھا کیونکہ یہ ٹیکسلا سے صرف 40 کلومیٹر دور ہے جو کئی سلطنتوں خاص طور پر بدھ اورساکاؤں کا دارالحکومت تھا۔اس زمانے میں ٹیکسلا پورے افغانستان کا صدر مقام بھی تھا۔ایوب خان نے1960 میں ایک نیا دارالحکومت اسلام آباد کے نام سے قائم کرنے کا اعلان کیا۔یہ جگہ ہمالیہ کے سلسلہ کے فٹ ہلز پر واقع مارگلہ پہاڑ کے دامن پر واقع تھی۔ ہندومت کے مطابق ہزاروں سال پہلے مذہبی پیشوا یہاں پر بن مانس گزارنے آتے تھے۔اس سلسلے کے بے شمار آثار قدیمہ آج بھی موجود ہیں جن میں کھری روڈ کے آثار نمایاں ہیں۔1960 کی ایک دہائی کے بعد اسلام آباد کا شہر بن کر تیار ہوگیا لیکن ایوب خان کو یہاں منتقل ہونے کی سعادت نصیب نہیں ہوئی۔1968 میں ان کے خلاف ایک عوامی تحریک شروع ہوئی جس راولپنڈی کو انہوں نے کیپٹل بنایا انہی کے لوگوں نے بغاوت کر دی۔یہ بغاوت کوفہ کے لوگوں سے مماثلت رکھتی ہے۔ کیپٹل مرگلہ کے دامن لے جانے کا مقصد یہ تھا کہ ایوب خان کا آبائی علاقہ ہری پور یہاں سے قریب تھا۔انہوں نے نہ صرف راول ڈیم بنایا اور تربیلہ ڈیم بھی تعمیر کیا جو اس وقت دنیا کا سب سے بڑا ڈیم تھا۔اسلام آباد سے ایوب خان کے گاؤں ریحانہ کا فاصلہ60 کلومیٹر کے قریب ہے۔ آج مرگلہ انتہائی دیدہ زیب مقام ہے۔ایوب خان اور بعد کی حکومتوں نے یہاں پر کروڑوں درخت لگا کر اسے شاداب کر دیا۔مرگلہ کا سلسلہ ویسے تو بھارتی زیر قبضہ کشمیر اور ہماچل پردیش سے جا کر ملتا ہے لیکن اس کا اپنا چھوٹا حصہ انتہائی محیر العقول ہے۔اسلام آباد تو کافی نشیب میں ہے لیکن مرگلہ پہاڑ سطح سمندر سے4 ہزار فٹ اونچاہے۔اسلام آباد کے شمال مغرب کی طرف صوبہ پشتونخواہ ہے۔یہاں کی بیشتر آبادی پہاڑیوں پر واقع ہے۔اسلام آباد سے ٹھیک17کلومیٹر پر پشتونخواہ صوبہ کی حدود شروع ہوتی ہے۔پچھلی والی سڑک ہری پور تک جاتی ہے۔ہری پور کا شہر سکھ جرنیل ہری سنگھ نلوہ نے بسایا تھا۔انہوں نے خیبر تک کے علاقے پر قبضہ کیا تھا۔خیبر کی جنگ میں ہری سنگھ مارا گیا تھا لیکن سکھوں کا قبضہ برقرار رہا تھا۔وہ قبضہ دوسری صورت میں آج تک قائم ہے۔جب انگریزوں نے افغانستان پر حملہ کرنا تھا تو انہوں نے راولپنڈی گیریژن بنایا۔یہی گیریژن آج کل پاکستان کا جی ایچ کیو ہے۔جنرل پرویز مشرف نے فیصلہ کیا تھا کہ جی ایچ کیو کو مرگلہ پہاڑ کے دامن میں منتقل کیا جائے گا لیکن بے انتہا تعمیراتی اخراجات کی وجہ سے وہ اپنے فیصلہ پر عمل درآمد نہ کرسکے۔بعد میں جسٹس اطہر من اللہ نے فوج کی الاٹمنٹ منسوخ کر دی۔اپنے فیصلے میں انہوں نے لکھا کہ بے شمار تعمیرات سے مارگلہ پہاڑ کنکریٹ کے جنگل میں تبدیل ہو جائے گا اور یہاں کا قدرتی ایکو سسٹم بھی ختم ہو جائے گا۔اطہر من اللہ خود بھی ضلع ہزارہ سے تعلق رکھتے ہیں۔ان کے نانا نصر من اللہ 1976 سے1977 تک بلوچستان کے چیف سیکریٹری بھی رہے۔
اگرچہ مارگلہ کے پہاڑوں پر جا کر گوریلا جنگ لڑنا مشکل ہے تاہم یہ تمام علاقہ ٹی ٹی پی کے زیراثر ہے۔کئی سال پہلے
”مولانا فضل الرحمن نے کہا تھا کہ طالبان مارگلہ کے اوپر بیٹھے ہوئے نیچے اسلام آباد کو دیکھ رہے ہیں اور وہ کسی وقت بھی یہاں داخل ہوسکتے ہیں۔“
اگرچہ طالبان ابھی تک اپنا خواب پورا نہ کرسکے البتہ عمران خان کی قیادت کی وجہ سے وفاقی دارالحکومت اپنی ہئیت اور ڈیموگرافی کی وجہ سے یا ثقافتی طور پر اب پنجاب کا حصہ نہیں رہا۔اس کی20 لاکھ آبادی میں سے کم از کم12 لاکھ پشتون ہیں۔جب سے عمران خان نے بنی گالہ کے علاقہ موہڑہ نور کی پہاڑی پر اپنا محل نما ہیڈ کوارٹر قائم کیا ہے صوبہ پختونخواہ سے لوگوں کی بڑی تعداد نے بنی گالہ میں زمینیں خرید کر یہاں اپنے ہزاروں گھر بنائے ہیں۔گوکہ مولانا فضل الرحمن کی پیشنگوئی درست ثابت نہیں ہوئی لیکن شمال سے آنے والے خطرات اپنی جگہ موجود ہیں چاہے یہ طالبان کی صورت میں ہو،ٹی ٹی پی کی شکل میں ہو یا نئے جہادی گروپ تحریک جہاد پاکستان کے نام پر ہو۔ایک زمانہ تھا کہ پاکستانی حکمران بھارت سے خطرہ محسوس کرتے تھے لیکن اب سب سے زیادہ خطرہ مغربی سرحدوں سے ہے۔اگر طالبان کی حکومت مستحکم ہوگئی یا کوئی اور حکومت مضبوط ہوئی تو ڈیورنڈ لائن کے دونوں طرف خطرات منڈلاتے رہیں گے کیونکہ آج تک کسی بھی افغان حکومت نے ڈیورنڈ لائن کو پاکستان اور افغانستان کی مستقل سرحد تسلیم نہیں کی۔ایک عمومی اتفاق رائے یہ پایا جاتا ہے کہ تین افغان جنگوں کے دوران انگریزوں نے افغانستان کے متعدد علاقوں پرقبضہ کر کے انہیں ہندوستان کا حصہ بنایا جس میں پورا صوبہ پشتونخواہ اور بلوچستان کے پشتون علاقے شامل ہیں۔انہوں نے ڈیورنڈ لائن کی لکیر کھینچ کر اسے ہندوستان اور افغانستان کی سرحد قرار دے دیا۔لہٰذا یہ ایک مصنوعی تقسیم ہے اور وہ اسے تسلیم نہیں کرتے۔سمجھنے کی ضرورت ہے کہ یہ مسئلہ کسی نہ کسی صورت ہمیشہ قائم رہے گا اگر انگریزوں کا قائم کردہ فاٹا مسخر نہیں ہوا تو وہ مسئلہ بھی سر اٹھا سکتا ہے کیونکہ فاٹا ایک آزاد علاقہ تھا اور دو فریقی معاہدے کے تحت 90سال کے بعد یہاں کے عوام سے رائے لینی تھی کہ وہ کہاں جائیں گے۔اب تو خیر سے فاٹا کو پختونخواہ میں ضم کر دیا گیاہے۔فقیر ایپی نے 1947 سے1948 تک فاٹا میں پہلی پشتونستان حکومت قائم کی تھی۔فاٹا کے راستے ہی بھارتی جنگ آزادی کے نیتا سبھاش چندر بوس افغانستان گئے تھے وہ کئی دن تک فقیر ایپی کے مہمان تھے۔نیتا کابل سے جرمنی گئے تھے اور انگریزوں کے خلاف اتحاد کیا تھا انہوں نے جاپان سے بھی معاہدہ کیا تھا لیکن جاپان کا دیا گیا طیارہ راستے میں کہیں گر گیا اور نیتا جی مارے گئے۔انگریزوں کو ان کی قائم کردہ آزاد ہند فوج سے کافی خطرہ تھا۔سوچنے اور سمجھنے کی بات ہے کہ ہمارے جو مفکر اور منصوبہ ساز راولپنڈی میں تشریف فرما ہیں وہ مغربی اور جنوبی سرحدوں سے امڈنے والے خطرات کا کس طرح مقابلہ کریں گے۔ایک آزمودہ طریقہ تو طاقت کے ذریعے ان معاملات کو کچلنا ہے دوسرا طریقہ پرامن اور سیاسی طریقے سے درپیش مسائل کو حل کرنا ہے۔مسئلہ یہ ہے کہ دو صوبوں کے لوگ اپنے ہی ملک کا حصہ ہیں اگر ان کے خلاف طاقت استعمال ہوگی تو دنیا کیا کہے گی۔ پھر پاکستان ایک فیڈریشن ہے اور اس کے آئین میں پرامن جدوجہد کا حق موجود ہے جبکہ اظہار رائے کی آزادی اور احتجاج اور اجتماع کا حق بھی دیا گیا ہے۔راولپنڈی کے مفکرین نے 76سال بعد بھی ان مسائل کا کوئی خوبصورت کوئی کارگر اور کوئی پرامن حل پیش نہیں کیا ہے اس کے بجائے ایسے لوگو ں اور جتھوں کا سہارا لیا گیا ہے جن کی قبائلی سماجی اور ذاتی حیثیت نہیں ہے۔ایک تلخ حقیقت یہ ہے کہ تمام معاملات میں عام آدمی یعنی عوام الناس کو شمار نہیں کیا جا رہا ہے اس حقیقت کے باوجود کہ ان لوگوں کا شعور اور نالج بہت بڑھ چکا ہے اور جدید ٹیکنالوجی کے استعمال نے ان کی ذہنی وسعت، حقوق مانگنے کا شعور اور پرامن احتجاج کے گر سکھائے ہیں۔اگر اسلام آباد کسی اور ملک کا کیپٹل ہوتا تو وہاں کے حاکم اپنی مظلوم بچیوں کو اپنی اولاد سمجھ کر ان کا خیرمقدم کرتے لیکن ان پرامن اور مظلوم بچیوں کے خلاف بھی محاذ کھولا گیا ہے۔اس سے کیا پیغام دینا مقصود ہے۔اگر چمن کے لوگ چالیس دن سے ہزاروں کی تعداد میں دھرنا دئیے بیٹھے ہیں تو ان کے مسئلہ کا حل کیوں دریافت نہیں کیا جا رہا ہے۔ریاست کو سوچنا چاہیے کہ اس کے تمام باشندوں کو زندہ رہنے کا یکساں حق حاصل ہے۔اگر یہ امتیاز قائم کیا جائے گا کہ آبادی کا ایک حصہ اشرف المخلوقات اور باقی کیڑے مکوڑے ہیں تو بات بنتی نہیں ہے۔ہاں یہ ضرور ہے کہ مارگلہ کے سحرانگیز ماحول میں رہ کر وہاں کے حکمران اور باسی باقی لوگوں کو اگر حقیر سمجھ بیٹھیں تو یہ تفاخر ان کا حق ہے۔مارگلہ کے خوبصورت درخت اس کے نایاب پھول اور پودے اور چھوٹے قد کے تیندوے آسمان سے نہیں آئے ہیں۔یہ سارے ملک کی شبانہ روز محنت اور کمائی کا نتیجہ ہے۔یہ بات بھی سمجھ سے بالاتر ہے کہ ہمارے حکمرانوں نے باقی ملک کو قرون وسطی میں پہنچا دیا ہے صرف اپنے لئے ایک مصنوعی جنت یعنی حسن بن صبا جیسی جنت تعمیر کی ہے اور لگتا ہے کہ انہیں اتنی بڑی ریاست کے باقی علاقوں اور لوگوں سے کوئی سروکار نہیں ہے۔
٭٭٭


