اقوام متحدہ اور عالمی ادارے غزہ میں انسانی جانوں کو بچانے کیلئے اقدامات کرے، پیما
کوئٹہ (آن لائن) پاکستان اسلامک میڈیکل ایسوسی ایشن (پیما) نے غزہ میں شعبہ صحت کو مکمل تباہی سے بچانے کے لیے بین الاقوامی مداخلت کا مطالبہ کیا ہے اور اقوام متحدہ سمیت عالمی اداروں اور ممالک پر زور دیا ہے کہ وہ انتہائی خطرناک حالات سے دوچار فلسطینی شہریوں اور تباہ حال شعبہ صحت کو بچانے کے لیے فوری اقدامات کریں۔پیما کے مرکزی صدر ڈاکٹر عبدالعزیز میمن نے کہا کہ اس وقت غزہ کی پٹی میں صحت عامہ کا نظام 66 فعال ہسپتالوں سے سکڑ کر 11 عارضی فعال ہسپتالوں پر آچکا ہے اور یہ ہسپتال مسلسل اسرائیلی محاصرے، سنائپرز کی زد میں ہیں اور ادویات، طبی سامان، ایندھن اور پانی کی شدید کمی کا شکار ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ 110 دیگر مراکز صحت بھی بند ہو چکے ہیں۔ اسرائیل نے جینیوا کنونشن کی کھلم کھلا خلاف ورزیاں کرتے ہوئے غزہ کے ہسپتالوں کو خاص طور پر نشانہ بنایا ہے۔ 300 سے زائد ہیلتھ کئیر ورکرز کو ہلاک اور سینئر ڈاکٹرز سمیت درجنوں ورکرز کو گرفتار کیا گیا ہے۔ زخمیوں کو لے جانے والی 60 سے زائد ایمبولینسوں کو بھی تباہ کیا گیا ہے۔ مہذب دنیا نے اس سے قبل ایسی مثالیں نہیں دیکھیں جن میں ہسپتالوں پر بمباری کی جائے اور انہیں منظم منصوبے کے ساتھ ایندھن، بجلی، پانی اور طبی سامان سے محروم کر دیا جائے۔انہوں نے کہا کہ غزہ کے عارضی فعال ہسپتال زخمیوں سے بھرے پڑے ہیں، وقت کے ساتھ ساتھ پیٹ کی بیماریاں، خارش، گردن توڑ بخار اور نمونیا وبا کی طرح پھیل رہے ہیں۔ پینے کے صاف پانی کی کمی نے کئی شدید نوعیت کی بیماریوں کا خطرہ مزید بڑھا دیا ہے۔ دنیا بھر کی طبی تنظیمیں یہ مطالبہ کر رہی ہیں کہ غزہ کو بچایا جائے اس سے پہلے کہ بہت دیر ہو جائے۔ ہم دنیا بھر کے ڈاکٹرز کی نمائندگی کرتے ہوئے مطالبہ کرتے ہیں کہ عالمی ادارے اور ممالک، غزہ میں ہسپتالوں کو فعال رکھنے اور کارکردگی بڑھانے کی ضروری چیزیں بشمول طبی سامان، ایندھن اور طبی عملے کے داخلے اور شدید زخمی اور بیمار افراد کو باہر نکلنے کے لیے ایک محفوظ انسانی راہداری فراہم کریں۔


