عالمی عدالت انصاف میں اسرائیل نے فلسطینیوں کی ہلاکت کا ذمہ دار حماس کو قرار دیدیا
کیپ ٹاﺅن (مانیٹرنگ ڈیسک) اسرائیل نے عالمی عدالت انصاف میں غزہ میں فلسطینیوں کی ہلاکتوں کا ذمہ دار فلسطین کی مزاحمتی تحریک حماس کو قرار دے دیا۔ جنوبی افریقا نے اسرائیل پر غزہ میں فلسطینیوں کی نسل کشی کا الزام عائد کرکے عالمی عدالت انصاف (آئی سی جے) میں کیس دائر کیا ہوا ہے۔ نیدر لینڈز کے شہر دی ہیگ میں واقع عالمی عدالت انصاف میں اسرائیل کے خلاف فلسطینیوں کی نسل کشی کے مقدمےکی ا?ج دوسرے روز بھی سماعت ہوئی جس میں اسرائیل نے اپنے دفاع میں دلائل دیے۔ اسرائیل نےمقدمے میں اپنے دفاع میں دلائل دیتے ہوئے غزہ میں فلسطینیوں کی ہلاکتوں کا ذمہ دار حماس کو قرار دیا اور کہا کہ اسرائیل نے اپنا حق دفاع استعمال کیا، حماس اسپتالوں اور دیگر شہری مقامات کو استعمال کر رہا ہے، فلسطینیوں کے خلاف کارروائیاں عالمی قوانین کے مطابق ہیں۔ اسرائیل نے اپنے دلائل میں کہا کہ غزہ میں نسل کشی نہیں کی جارہی، جنوبی افریقا مکمل کہانی نہیں سنا رہا، اسرائیل حماس کے ساتھ کوئی سمجھوتا نہیں کرے گا۔ غیر ملکی رپورٹ کے مطابق اسرائیل نے جنوبی افریقا کی درخواست رد کرنے کے مطالبے کے ساتھ عالمی عدالت انصاف کے دائرہ اختیار پر بھی سوال اٹھا دیے۔ دوسری جانب عالمی عدالت انصاف کے باہر فلسطین پر اسرائیلی مظالم کے خلاف احتجاج ہوا، مظلوم فلسطینیوں سے اظہار یکجہتی کیا گیا اور فلسطین کی آزادی کے حق میں نعرے بھی لگائے گئے۔ واضح رہے کہ گزشہ روز جنوبی افریقا کی جانب سے عالمی عدالت انصاف میں سماعت کے دوران دلائل میں کہا گیا تھا کہ غزہ میں 3 مہینے میں 23 ہزار فلسطینی شہری قتل کیے گئے ہیں جس میں 70 فیصد بچے اور خواتین ہیں، نو زائیدہ بچوں کو بھی نہیں چھوڑا گیا۔ جنوبی افریقا کا کہنا تھا کہ اسرائیل اقوام متحدہ کے نسل کشی کنونشن کی خلاف ورزی کا مرتکب ہے، جن علاقوں کو اسرائیل نے خود محفوظ قرار دیا وہاں بم مارے گئے، اسپتالوں پر بمباری کی گئی۔ دلائل میں کہا گیا کہ اسرائیل نے غزہ میں امداد روک کر قحط کی صورتجال پیدا کردی ہے، 93 فیصد ا?بادی کو بھوک کا سامنا ہے، اب اسرائیل کی فضائی بمباری سے بھی زیادہ غزہ میں فلسطینیوں کے بھوک سے مرنےکا خدشہ ہے۔


