لیاری کی ایک انچ زمین بھی کسی باہر کے بندے کو دینا منظور نہیں ، اسلم بھوتانی

اوتھل(نمائندہ انتخاب)سابق رکن قومی اسمبلی و آزاد امیدوار NA.257 محمد اسلم بھوتانی نے کہا ہے کہ لیاری کے عوام اس دور میں بھی پسماندہ ہیں،سابقہ وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال خان نے لیاری کی زمینوں کو لیز کرنے کیلئے جتنی محنت کی وہ محنت لیاری کی عوام کو سہولیات فراہم کرنے کیلئے کرتے تو آج لیاری خوشحال ہوتا،پورے لیاری میں ہائی اسکول تک موجود نہیں،انشائ اللہ الیکشن جیت کر لیاری کی عوام کے بنیادی مسائل انکی دہلیز پر حل کریں گے،لیاری میں ہائی اسکول کی تعمیر اور پانی کی فراہمی میری اولین ترجیحات ہوں گی۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے گزشتہ روز دورہ لیاری کے موقع پر لیاری اور اسماعیل انگاریہ گوٹھ دبہ میں منعقدہ شمولیتی پروگرامز میں عوام سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔اس موقع پر بی این پی مینگل کے رہنما امیدوار پی بی 22 لسبیلہ جہانزیب قاسم رونجھو بھی انکے ہمراہ تھے۔آزاد امیدوار محمد اسلم بھوتانی نے کہا کہ لیاری کے عوام 8 فروری کو بھرپور انداز میں اپنے گھروں سے نکل کر چارپائی اور کلہاڑے پر ٹھپہ لگا کر ہمیں کامیاب بنائیں انشائ اللہ کامیاب ہوکر عوام کی پہلے سے بھی زیادہ خدمت کی جائے گی،انہوں نے کہا کہ ہم نے ہمیشہ عوم کے تحفظ کیلئے بھرپور کردار ادا کیا ہے لیاری کی ہزاروں ایکڑ زمینوں کو سرکاری ادارے کے نام پر لیز کرنے کی سازش کو ناکام بنا کر یہیں زمینیں لیاری کے مقامی لوگوں کے نام پر الاٹ کرائی،یہاں کی زمینوں پر لیاری کے لوگوں کا حق ہے ایک انچ بھی کسی باہر کے بندے کو دینے کے حامی نہیں،انہوں نے کہا کہ لیاری کے عوام پانی کے بحران سے شدید پریشان ہیں پورے لیاری میں پانی کی شدید قلت سے لوگ نکل مکانی کرچکے ہیں،تحصیل لیاری میں ہائی اسکول تک موجود نہیں انہوں نے کہا کہ 2018 کے الیکشن میں قومی اسمبلی کی نشست سے لسبیلہ و گوادر کے عوام نے مجھے بھاری اکثریت سے کامیاب کرایا لیکن قومی اسمبلی کی نشست ہارنے والا شخص وزیراعلیٰ بلوچستان بنا جس نے ہمیں پورے تین سال کام کرنے نہیں چھوڑا،موصوف خود لسبیلہ سے کامیاب ہوکر وزیراعلیٰ بلوچستان کے منصب پر فائز رہے لیکن لسبیلہ کی عوام کیلئے اس بڑے عہدے پر رہ کر بھی کچھ نہیں کیا،انہوں نے کہا کہ سابق وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال خان نے لیاری تحصیل کی زمینوں کو لیز کرانے میں جتنی محنت کی کاش اتنی محنت وہ یہاں اسکول ،کالج اور عوام کو پینے کے پانی کی فراہمی کیلئے کرتے لیکن خود بھی کچھ نہیں کیا اور ہمارے آگے بھی رکاوٹ بنیں رہے،لیکن کچھ ٹائم ملنے پر ہم نے عوام کو پانی فراہم کرنے کیلئے بھرپور کردار ادا کیا،انہوں نے کہا کہ الحمدللہ لیاری کے ہر علاقے میں بھوتانی برادران کے کام کی کوئی نہ کوئی نشانی موجود ہوگی،لیاری کو بجلی بھی میں نے ڈپٹی اسپیکر کے دور میں فراہم کی،ہمیں جب بھی موقع ملا ہم نے عوام کے بنیادی مسائل حل کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی،انہوں نے کہا کہ ہم نے ہنگلاج مندر کا پ±ل بنایا ہندو عبادت گاہ نانی مندر جانے کیلئے بڑی مشکلات تھیں لیکن اس پل کے بننے سے دنیا بھر سے آنیوالے یاتریوں کو مشکلات سے نجات ملی،انہوں نے کہا کہ موضع دبہ لیاری کی عوام نے ہمیشہ ہمیں عزت بخشی ہے انشائ اللہ عوام مایوس نہیں کریں گے،پانی کی فراہمی کیلئے کھانٹا ڈیم کی بحالی کیلئے کامیاب ہوکر موثر اقدامات اٹھائیں گے،تاکہ عوام کو پانی کی قلت سے نجات مل سکے،علاوہ ازیں سابق ممبر قومی اسمبلی و آزاد امیدوار NA257 محمد اسلم بھوتانی اسماعیل انگاریہ گوٹھ دبہ لیاری پہنچے جہاں بڑی تعداد میں لوگوں نے جام گروپ چھوڑ کر اللہ بخش انگاریہ کی سربراہی میں بھوتانی کارواں میں شمولیت اختیار کرلی،شمولیت کرنیوالوں میں گل محمد انگاریہ،عظیم اللہ انگاریہ،وڈیرہ عبدالرزاق انگاریہ کوک،غلام محمد انگاریہ،محمد انور انگاریہ،محمد حکیم انگاریہ,غلام حسین انگاریہ،محمد حسن انگاریہ،محمد رحیم انگاریہ،مٹو انگاریہ،اللہ ڈنہ انگاریہ،عبدالمجید انگاریہ،اصغر انگاریہ،یعقوب انگاریہ،موسیٰ انگاریہ،محمد جمن انگاریہ،میاں انگاریہ،عبدالواحد انگاریہ،عبدالرشید انگاریہ،،جان محمد انگاریہ سمیت دیگر کثیر تعداد میں موجود تھے،شمولیتی تقریب میں شمولیتی تقریب میں اسماعیل انگاریہ گوٹھ کی معتبر شخصیت مولوی حیات انگاریہ، اسد حیات انگاریہ کیجانب سے پرتکلف ظہرانہ دیا گیا،اور روایتی اجرکیں پہنائی گئیں۔اس موقع پر بھوتانی گروپ کے رہنما انگاریہ قبائل کے سربراہ سردار اختر جان انگاریہ،سردارذادہ غلام قادر شیخ،ماسٹر غلام رسول انگاریہ،عالم خان انگاریہ،فیصل برفت،پیر رحیم شاہ،ماسٹر صادق انگاریہ،قادر بخش خاصخیلی،وڈیرہ عبدالستار انگاریہ،وڈیرہ محمد انگاریہ،میر اللہ بخش دودا،کریم بخش دودا،پیر قادر شاہ،لعل بخش انگاریہ،کونسلر ممتاز علی شیخ،پیر عارب شاہ،یار جان بلوچ،قادر بخش انگاریہ،عبدالرحمن انگاریہ،امیر بخش دودا،عنایت اللہ انگاریہ سمیت دیگر علاقائی معززین کی بڑی تعداد موجود تھی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں