پارلیمنٹ کا رکن بننا میرے لیے معنی نہیں رکھتا، ہمیں بلوچستان سے جاری لوٹ مار کو روکنا ہوگا، حاجی لشکری
کوئٹہ (آن لائن)بلوچستان گرینڈ الائنس کے سربراہ و حلقہ این ائے 263 سے امیدوار نوابزادہ حاجی میر لشکری خان رئیسانی نے کہا ہے کہ8 فروری کو کوئٹہ کے شہری اس سیاسی جنگ کا آغاز کریں گے جو صرف اور صرف پارلیمنٹ میں صوبے کے اجتماعی قومی حقوق کیلئے ہوگی وزارت اور پارلیمنٹ کا رکن بننا میرے لیے کوئی معنی نہیں رکھتا ، میرے لیے صوبے کے لوگ سب سے زیادہ اہمیت رکھتے ہیں ، حلقہ کے لوگ اپنا ووٹ جذبات کے رو میں بہہ کر نہیں بلکہ سیاسی شعور کو دیں ۔ یہ بات انہوں نے اتوار کو کلی نیو نیچاری سمنگلی روڈ ، کلی مبارک ترخہ اور جوائنٹ روڈ پر منعقدہ انتخابی اجتماعات سے خطاب کرتے ہوئے کہی ، اس موقع پر بلوچستان گرینڈ الائنس کے پی بی 43 سے امیدوار حاجی محمد اسماعیل گجر و دیگر بھی موجود تھے تھے ، اس موقع پر عارف خان نیچاری ، افضل بنگلزئی ، ایوب کھوسہ ، ندیم دہوار و دیگر کی قیادت میں سینکڑوں افراد نے این اے 263 پر نوابزادہ حاجی میر لشکری رئیسانی کی حمایت کا اعلان کیا ۔ اجتماعات سے خطاب کرتے ہوئے نوابزادہ حاجی میر لشکری خان رئیسانی نے کہا کہ ووٹ کسی ایک فرد کی نہیں بلکہ قومی امانت ہے جو اجتماعی قومی امور پر رائے کا اظہار ہوتا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ 2018 میں انتخابات میں این اے 265 پر عوام کا مینڈیٹ چوری کیا گیا جس کے خلاف چند روز قبل بھی عدالت میں پیش ہوا کیوں کہ ووٹ کی چوری کسی ایک فرد کا نہیں پورے قوم کی نمائندگی چوری کرنا ہوتا ہے جس کا راستہ روکیں گے ، انہوں نے کہاکہ کوئٹہ کے لوگوں نے 2018 کے انتخابات میں جس بھاری اکثریت سے مجھے اپنے رائے سے نوازا تھا اس کو کبھی فراموش نہیںکیا۔انہوں نے کہا کہ ہماری ذمہ داری ہے کہ اپنے صوبے کے امور کی اہمیت کو سمجھتے ہوئے قومی امور میں ایک شخص کو ترجیح دینے کی بجائے صوبے کے حقوق کے دفاع کیلئے پارلیمنٹ میں ایک امین کو بھیجیں ۔انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے مسائل سب سے زیادہ ہیں یہاں لوٹ مار ہورہی ہے جس کو ہم مل کر روکیں اور اس کے لئے ایک پرامن شعوری جنگ کا آغاز کریں اور یہ تب ممکن ہے جب لوگ شعوری بنیاد پر اپنا ووٹ دے کر صوبے کو بحران سے نکالنے میں اپنا کردار ادا کریں گے ۔انہوں نے کہا کہ ووٹ ایک قومی ذمہ داری ہے اوراس قومی ذمہ داری کونظام کو تبدیل کرنے کرپشن کے خاتمہ کیلئے بروئے کار لائیں۔


