عمران خان اور بشریٰ بی بی کو غیر شرعی نکاح کیس میں 7،7 سال قید کی سزا
راولپنڈی (انتخاب نیوز) سابق وزیراعظم عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کو غیر شرعی نکاح کیس میں 7، 7 سال قید کی سزا سنادی گئی۔ سینئر سول جج قدرت اللہ نے بشری بی بی کے سابق شوہر خاور مانیکا کی درخواست پر اڈیالہ جیل میں سماعت کے بعد گزشتہ روز محفوظ کیا گیا فیصلہ سنا دیا، بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کو 5 ،5 لاکھ روپے جرمانہ بھی عائد کیا گیا ہے۔ خیال رہے کہ گزشتہ روز بانی پی ٹی آئی عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کے غیر شرعی نکاح کیس کا فیصلہ 14 گھنٹے طویل سماعت کے بعد محفوظ کر لیا گیا تھا۔ اس سے قبل 31 جنوری کو بانی پی ٹی آئی اور سابق وزیر اعظم عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کو توشہ خانہ ریفرنس میں 14،14 سال قید با مشقت کی سزا سنائی گئی تھی۔ احتساب عدالت اسلام آباد کے جج محمد بشیر نے اڈیالہ جیل میں توشہ خانہ ریفرنس کا فیصلہ سناتے ہوئے عمران خان اور ان کی اہلیہ کو کسی بھی عوامی عہدے کے لیے 10 سال کے لیے نااہل بھی کر دیا تھا۔ 30 جنوری کو سائفر کیس میں بھی بانی پی ٹی ا?ئی عمران خان اور سابق وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کو دس، دس سال قید با مشقت کی سزا سنائی گئی تھی۔ علاوہ ازیں عدت کیس میں سزا کے بعد عمران خان کی مجموعی سزا 44 سال ہوگئی۔ عمران خان کو سائفر کیس میں 2 دفعات کے تحت 10/10 سال جبکہ 2 دفعات کے تحت 2/2 سال سزا سنائی گئی ہے ۔عمران خان کو توشہ خانہ کرپشن کیس میں 14 سال کی سزا سنائی گئی ہے۔ عمران خان کو عدت میں نکاح کیس میں 7 سال کی سزا سنائی گئی ہے۔


