ووٹ خریدنے والے دراصل آپ کی غربت کا مذاق اڑارہے ہیں،محمود خان اچکزئی

کوئٹہ(این این آئی) پشتونخواملی عوامی پارٹی کے چیئرمین محمود خان اچکزئی نے کہا ہے کہ ووٹ لازمی پشتونخواملی عوامی پارٹی کو دینا ہے ، ووٹ خریدنے والے دراصل آپ کی غربت کا مذاق اڑارہے ہیں،عوام اپنا قیمتی ووٹ پشتونخواملی عوامی پارٹی کو دیں اور 8فروری کو پارٹی کے انتخابی نشان ”درخت“ پر اپنا مہر لگائیں۔عوام اپنے ضمیر کے مطابق ووٹ کا فیصلہ کرے اگر ہمارے امیدوار کے مقابلے میں دوسرے لوگ اچھے ہیں ان کا کردار اچھا ہے تو براہ کرم پھر انہیں ووٹ دیں لیکن اگر ہم صحیح ہیں تو پھرہم سے ووٹ کا حقدار کوئی دوسرا نہیں ہے۔ ہم سب نے خدا تعالیٰ سے وعدہ کرنا ہے ہم نے حق وسچ کا ساتھ دینا ہے جو حق پر ہیں ان کا ساتھ دین گے۔ میرا وعدہ ہے کہ اگر میرا بیٹا، بھائی، دوست اگر کسی دوسرے پر ملامت ہوا تو میں اس کا ساتھ نہیں دونگا۔عوام کو اپنی رائے کے استعمال کی آزادی دی جائے اور اگر عوام کی رائے پر ڈاکہ ڈالنے اور ہماری جیت کو ہار میں بدلنے کی کوشش کی گئی تو پھر چمن پرلت کے طرز پر دھرنے ہونگے۔ ان خیالات کااظہار پشتونخوامیپ کے چیئرمین NA-266چمن قلعہ عبداللہ اور NA-263کوئٹہ IIسے پارٹی کے امیدوار محمود خان اچکزئی نے کوئٹہ کے حلقہ پی بی 43ارباب کرم خان روڈ شیخان میںشیخ فقیر محمد آکا کی رہائش گاہ ، کلی دیبہ ارباب غلام علی روڈ میں یوسفزئی قبیلے کے زیر اہتمام حاجی سلیم خان یوسفزئی کی رہائش گاہ پر منعقدہ عوامی اجتماعات سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ جبکہ سیٹلائٹ ٹاﺅن بلاک نمبر 4حاجی شاہ محمد اچکزئی کی رہائش گاہ پر منعقدہ اولسی جرگے پشتونخوامیپ کے صوبائی ڈپٹی سیکرٹری پی بی43کے امیدوار سردار ادریس خان بڑیچ، منان خان بڑیچ نے خطاب کیا اور فرحان مغل نے پارٹی کی حمایت اور 400ووٹ دینے کا اعلان کیا۔ محمود خان اچکزئی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پشتونخواملی عوامی پارٹی کا قیام ایسے وقت میں ہوا جس وقت آئین کو نہیں چھوڑا جارہا تھا، ملک کے تمام جمہوری قوتیں اکھٹے ہوئیں اور یہ فیصلہ کیاکہ ایک جمہوری فیڈریشن کا قیام ضروری ہے، بنگالیوں کا اپنا بنگال، پنجابیوں کا اپنا پنجاب، سندھیوں کا اپنا سندھ، بلوچوں کا بلوچستان اور پشتونوں کا اپنا صوبہ پشتونستان ہوگا، ہر قوم اپنے ایک صوبے اور شناخت کے حامل ہونگے۔ بنگال سے مولانا بھاشانی، پروفیسر مظفر، پنجاب سے آزاد پاکستان پارٹی کے چیئرمین، سندھ سے حیدر بخش جتوئی، جی ایم سید، بلوچوں سے شہزادہ کریم، غوث بخش بزنجو، گل خان نصیر، پشتونوں سے اُس وقت خیبر پشتونخوا سے باچا خان اور اس کے ساتھی، جنوبی پشتونخوا سے عبدالصمد خان اچکزئی اور اس کے ساتھی یہ تمام لیڈران مشران اکھٹے ہوئے اور ایک مشترک پارٹی نیشنل عوامی پارٹی کی بنیاد رکھی۔ نیپ کے بننے کے بعد پاکستان میں کوئی دوسری جمہوری پارٹی نہیں تھی سوائے مسلم لیگ (جو سرکار کی نمائندہ پارٹی تھی)۔ نیشنل عوامی پارٹی کے منشور میں درج تھا کہ قوموں کے لسانی، ثقافتی، تاریخی بنیاد پر اپنے اپنے صوبے ہوں گے، بہت بڑا جدوجہد ہوا۔ پشتون اگر چہ آبادی کے لحاظ سے پنجاب، سندھ اور بنگال سے کم تھے لیکن جدوجہد کے لحاظ سے پشتون صف اول میں تھے اور سب سے زیادہ قربانیاں اور جیل کی سزائیں پشتونوں نے بھگتیں۔ اگر ان کا حساب لگایا جائے تو پشتونخوا وطن کے باسیوں نے ہزاروں سال جیل گزارے کہ ون یونٹ ٹوٹ جائے اور انتخابات کا اعلان کیا جائے۔ 1958میں جب انتخابات کا اعلان ہوا سرکار/حکومت نے جب دیکھا کہ NAPانتخابات جیتنے کی پوزیشن میں ہے اور ایک جمہوری پاکستان بننے جارہا ہے تو بدقمستی سے مارشل لاءلگادیا گیا اور ایوب خان چیف مارشل لاءایڈمنسٹریٹر بنے پہلے سیاسی قیدی عبدالصمد خان اچکزئی تھے جن کا گناہ صرف یہ تھا کہ آپ کیوں جمہوری پاکستان مانگ رہے ہیں۔جیل، سزائیں بھگتنے کے بعد ایوب خان مجبور ہوئے اور کانفرنس بُلایاتمام سیاسی مشران کو مدعو کیا اور تمام اقوام کے گھر بنا دیئے گئے لیکن پشتون تین حصوں میں تقسیم رہ گئے ایک حصہ یہاں بلوچستان میں جو ہمارے ہی ساتھی تھے۔ محمودخان اچکزئی نے کہا کہ غوث بخش بزنجو جب بیمار تھے اور بستر مرگ پر تھے تو مجھے بُلایا اورکہا کہ جو کچھ بھی میں نے سیکھا ہے یہ سب عبدالصمد خان اچکزئی سے سیکھا ہے وہ میرے سیاسی اُستا د ہیں۔ بزنجو صاحب نے مجھ سے کہا کہ میں آپ سے ایک درخواست کرتا ہوں یعنی پشتونخواملی عوامی پارٹی سے کہ آپ نے بلوچوں کے ساتھ ہاتھ ہلکا رکھنا ہے۔ اس موقع پر طاہر بزنجو بھی موجود تھے ۔ خان شہید عبدالصمد خان اچکزئی نے واضح کہا تھا کہ ہمارا بلوچوں کے ساتھ کوئی تضاد نہیں لیکن ہمیں خیبر پشتونخوا کے ساتھ جوڑاجائے بلوچ اگر آج ہمارے بھائی اور دوست ہیں کل ہم ایک نوکری کے پیچھے ایک دوسرے سے لڑیں گے۔ خان شہید کی بات نہیں مانی گئی تو وہ مجبور ہوکر ہنہ اوڑک میں بیٹھ کر اپنی پارٹی کی بنیاد رکھی۔ بہت کم تعداد تھی لوگ ہنستے تھے آج خان شہید کی اس پارٹی میں شکر الحمد اللہ پارٹی میں ہزاروں لاکھوں لوگ شامل ہیں۔ بولان سے لیکر چترال تک ہمارے پشتونخوا وطن میں تقریباً 16سے زائد زبانیں بولی جاتی ہیں، یہ ہمارے وطن کی خوبصورتی ہے۔ پشتونخواملی عوامی پارٹی اس بات پر یقین رکھتی ہے جو بھی ہندکو، کوہستانی ودیگر زبان بولنے والے اس سرزمین پر رہتے ہیں ان کا بھی اتنا ہی حق ہے جتنا ہمارا ہے۔ یہ پشتونوں کی ذمہ داری بنتی ہے کہ اگر اپنے وطن کو بنانا ہے تو جتنے بھی دیگر اقوام یہاں رہتے ہیں ان کی زبان، ان کے مذہب کا اتنا ہی خیال رکھنا ہے جتنا اپنے زبان اور اپنے مذہب کا رکھتے ہیں۔ ہم مسلمان ہیں اور ہمارا ایمان ہے کہ ہم دین ابراھیمی کے ماننے والے ہیں اس وقت پوری دنیا میں چار ہزار سے زائد مذاہب ہیں اگر ہم ایک دوسرے کا احترام نہیں کرینگے توہم کیسے گزارہ کرینگے۔ ہم سب حضرت آدم علیہ اسلام اور بی بی حوا انا کی اولاد ہیں، یہاں پر واضح تفریق دیکھنے کو ملتا ہے ہم یہاں لوگوں سے ہاتھ نہیں ملاتے جبکہ امریکن، برطانوی سے گلے ملتے ہیں ہم نے مذہب کے نام پر لوگوں سے نفرت نہیں کرنی۔ (قوم جو لوگ ایک زبان کے بولنے والے ہوں،ایک کلچر اور ایک طرح کے لباس پہنتے ہو کے حامل لوگ قوم کہلاتے ہیں) آیت الکرسی میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ ”دین میں کوئی زور زبردستی نہیں“۔ یعنی یہودی، مسلمان، عیسائی ہر ایک جانے ان کا مذہب جانے اگر ہم ایک دوسرے کا احترام نہیں کرینگے تو ہم کیسے گزارہ کرینگے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ جہاں بھی میرانام لیا جاتا ہو اس جگہ کی قدر کریں ہم نے ایک قوم کی نسبت اپنا کیس اپنا بیانیہ دنیا کے قوانین کے مطابق رکھنا ہے ہم نے یہ واضح کرنا ہے کہ ہم نے زبان مذہب کی بنیاد پر کسی سے نفرت نہیں کرنی ہے اور نہ ہی کسی سے تعصب برتنا ہے۔ ہم کسی کے زمین پر دعویدار نہیں نہ ہی اپنا حق دوسروں کو چھوڑیں گے اپنا حق دوسروں کو چھوڑنا بے غیرتی ہے۔ پشتون افغان دنیا پر حکمرانی کیا کرتے تھے، ہماری مرضی کی حکومتیں بنتی تھی اب ہم ایک مزدور قوم بن گئے ہیں ہماری قیمت بہت کم ہے۔ دنیا کے جوان جب بیٹھتے ہیں تو سائنس وٹیکنالوجی پر بحث کرتے ہیں ہمارے نوجوان جب بیٹھتے ہیں تو ایک دوسرے سے پوچھتے ہیں کہ بہترین مزدوری، روزگار کہاں پیدا ہوگی۔ انگریزی میں کہتے ہیں کہ Topic of the dayیعنی ان کے بیٹھنے اور ان کے بحث کا موضوع صرف یہی ہوتا ہے۔ سوات جیسے جنت وطن کے باسی کوئلے کے کانوں میں مرجاتے ہیں اور اپنے وطن میں مزدوری روزگار نہیں ہے۔ ہمارے مجموعی نفسیات ایسے بن گئے ہیں کہ یہ ہماری غربت اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے، ایسابالکل بھی نہیں۔ اللہ تعالیٰ ظالم نہیں ہے اللہ تعالیٰ سب مخلوق کا رازق ہے اور اللہ تعالیٰ کا وعدہ ہے کہ تمام مخلوق کو روزی میں نے پہنچانی ہے۔ قسمت عربی زبان کا لفظ ہے جس کے معنی حصہ کے ہیں سوات اور دیر کے ایک فٹ لکڑی کی قیمت بیس ہزار روپے ہے، زمرود اور سنگ مرمر کی قیمت بہت زیادہ ہے، ہمارے وطن کے کوئلے، کرومائیٹ کی قیمت بہت زیادہ ہے لیکن ہم غربت کے شکار ہیں اس کیلئے ہمیں اتفاق واتحاد کی ضرورت ہے۔ ہم بحیثیت قوم ایک دوسرے سے ہاتھ ملاکر اپنی صفیں برابر کریں ایک دوسرے سے سیکھیں اور اپنا مستقبل محفوظ کریں۔ دنیا آج کل جدید ٹیکنالوجی کی بدولت ترقی کے منازل طے کررہی ہے۔ جدید الیکٹرونکس آلات جن کی قیمتیں کروڑوں روپے ہیں۔ ہم سوات کے مزدور کار پورے مہینے مزدوری کرکے بھی ایک موٹر /جدید گاڑی بنانے کے پیسے نہیں کما سکتے ہیں۔ ہم نے اپنے بچوں کو دنیا کی جدید ٹیکنالوجی کی طرف راغب کرنا ہوگا۔ محمود خان اچکزئی نے کہا کہ پشتونخواملی عوامی پارٹی کا گناہ یہ ہے کہ ہم نے پشتون قوم کے مختلف قبیلوں، فریقوں کو ایک میز پر لایا ہے آج اسی اجتماع میں بیٹھے لوگ اگر ہم نوٹ کرلیں بیس سے زائد قبیلوں کے لوگ بیٹھیں ہونگے پشتون قوم میں ہزاروں کی تعداد میں مدارس ہیں۔ علماءکرام ہیں، وکلاءہیں ہم نے انہیں منظم کرنا ہے اپنا قومی سوال، قومی مقدمہ بہترین انداز میں پیش کرنا ہے اور دنیا کو بتاناہے کہ ہم بھی ایک قوم ہیں۔ اس الیکشن میں لوگوں کو گاڑیاں اور اسلحہ دیکر ہمارا ووٹ خراب خرنے کی کوشش کررہے ہیں ہم اپنے عوام کو بتانا چاہتے ہیں کہ وہ دیکھیں اگر ہمارے مقابلے میں دوسرے لوگ اچھے ہیں ان کا کردار اچھا ہے تو براہ کرم پھر انہیں ووٹ دیں لیکن اگر ہم صحیح ہیں تو پھرہم سے ووٹ کا حقدار کوئی دوسرا نہیں ہے۔ ہم سب نے خدا تعالیٰ سے وعدہ کرنا ہے ہم نے حق وسچ کا ساتھ دینا ہے جو حق پر ہیں ان کا ساتھ دین گے۔ میرا وعدہ ہے کہ اگر میرا بیٹا، بھائی، دوست اگر کسی دوسرے پر ملامت ہوا تو میں اس کا ساتھ نہیں دونگا۔ سادہ سا کلیہ ہے کہ جو بات آپ کو بُری لگتی ہے وہ بات دوسروں کو مت کہیں،جنگ جھگڑا نہیں ہوگا۔محمود خان اچکزئی نے کہا کہ ووٹ لازمی پشتونخواملی عوامی پارٹی کو دینا ہے جو لوگ پیسے دے رہے ہیں پیسے لیکر پھر ان کو ملامت کریں کہ انہوں نے آپ کے ضمیر کی قیمت کیونکر لگائی کیا میں حیوان ہوں جو آپ مجھ کو خرید رہے ہوں، ووٹ خریدنے والے دراصل آپ کی غربت کا مذاق اڑارہے ہیں،عوام اپنا قیمتی ووٹ پشتونخواملی عوامی پارٹی کو دیں اور 8فروری کو پارٹی کے انتخابی نشان ”درخت“ پر اپنا مہر لگائیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں