صدر بائیڈن نے ڈیڑھ لاکھ طلبہ کے تعلیمی قرضے معاف کرنے کا اعلان کردیا
واشنگٹن(یو این اے)امریکا میں بائیڈن انتظامیہ نے ڈیڑھ لاکھ سے زیادہ طلبہ کے تعلیمی قرضے معاف کرنے کا اعلان کیا ہے۔وائٹ ہاوس نے بدھ کے روز اعلان کیا تھا کہ اس اسکیم کے تحت ایک لاکھ 53 ہزار طلبہ کے 1.2 ارب ڈالر سے زائد کے قرضے معاف کیے جائیں گے۔وائٹ ہاس کا کہنا تھا کہ یہ اسکیم ان مخصوص طلبہ کے لیے ہے جنہوں نے تعلیم کے لیے 12 ہزار ڈالر یا اس سے کم رقم کا قرضہ حاصل کیا ہے اور وہ گزشتہ 10 سال سے اس کی ادائیگی کر رہے ہیں۔وائٹ ہاوس نے ایک بیان میں کہا ہے کہ اس اقدام سے کمیونٹی کالج اور چھوٹے قرض حاصل کرنے والے دیگر افراد کو مدد ملے گی اور تاریخ میں پہلی مرتبہ ہزاروں طلبہ کو ایک ایسی تیز ترین سہولت ملے گی جس کے ذریعے وہ قرض سے جلد چھٹکارہ پا سکیں گے۔محکمہ تعلیم کے مطابق، بائیڈن انتظامیہ کی جانب سے متعارف کرائے گئے اس مخصوص ری پے منٹ پلان میں 75 لاکھ طلبہ کو رجسٹر کیا گیا تھا۔بائیڈن انتظامیہ کے منصوبے میں طے کیا گیا تھا کہ اسٹوڈنٹ لون کی واپسی کے لیے ماہانہ ادائیگی کا دارومدار قرض کے حجم کے بجائے قرض حاصل کرنے والے کی آمدن اور خاندان کے حساب سے طے کیا جائے گا۔ اس کا مقصد قرض لینے والوں پر مالی بوجھ کم کرنا تھا۔اس پروگرام میں رجسٹر کیا گیا ہر فرد 20 سے 25 سال تک مسلسل ادائیگی کے بعد قرض معافی کا اہل تھا۔ صدر جو بائیڈن نے بعد میں اس مدت کو کم کر کے 10 سال کر دیا تھا۔ تاہم آئندہ کچھ دنوں میں ان افراد کا قرض بھی مکمل طور پر معاف کر دیا جائے گا۔محکمہ تعلیم نے ان افراد سے بھی رابطوں کا آغاز کردیا ہے جو اس سیو پلان میں رجسٹرڈ نہیں مگر قرض معافی کے اہل ہیں۔وائٹ ہاوس کا کہنا ہے کہ صدر بائیڈن نے عہدہ سنبھالنے کے بعد سے اب تک خصوصی اختیارات استعمال کرتے ہوئے تقریبا 39 لاکھ افراد کے 138 ارب ڈالر کے تعلیمی قرضے معاف کیے ہیں۔امریکی میڈیا کا کہنا ہے کہ ملک میں رواں برس صدارتی انتخابات منعقد کیے جائیں گے اور امریکی صدر جو بائیڈن اس پروگرام کے ذریعے ووٹرز کو بتانا چاہتے ہیں کہ انہوں نے امریکی طلبہ کے لیے کس قدر اہم اقدامات کیے ہیں۔واضح رہے کہ گزشتہ برس امریکا کی سپریم کورٹ نے صدر جو بائیڈن کو 40 لاکھ امریکی شہریوں کے اسٹوڈنٹ لون معاف کرنے کے منصوبے پر عملدرآمد سے روک دیا تھا۔


