مولابخش دشتی کی سوچ و فکر آج بھی زندہ ہے
کوئٹہ : بی ایس او پجار کے مرکزی آرگنائزنگ کمیٹی کے رکن نعیم بلوچ نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ شہید مولابخش دشتی ایک عظیم انسان تھے شہید مولابخش دشتی کی شہادت سے بلوچستان کی سیاست کو نقصان پہنچا ہے شہید کی جو موت ہے وہ قوموں کی حیات ہے شہید مولابخش دشتی کی بلوچستان کی سیاست میں لازوال قربانیاں ہیں جو کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہیں شہید مولابخش کو تو شہید کردیا گیا لیکن انکی سوچ و فکر آج بھی زندہ ہے ہر باشعور سیاسی ورکر شہید مولابخش دشتی کا پیروکار ہے شہید مولابخش دشتی جیسے عظیم انسان اس دنیا میں بہت کم ہوتے ہیں کیونکہ شہید مولابخش ایک پختہ نطریہ کے مالک تھے اور انکا سوچ و فلسفہ آج بھی زندہ ہے شہید مولابخش دشتی نیشنل پارٹی کے مخلص و نظریاتی لیڈر تھے نیشنل پارٹی کے کارکنوں کے ساتھ ساتھ آج پورا بلوچستان انکی جُدائی میں غم زدہ ہے 11 جولائی کو شہید مولابخش دشتی کو شہید کردیا گیا تھا جوکہ ایک سیاہ ترین دن ثابت ہوا شہید مولابخش دشتی کے ہم سے جدا ہونے کے بعد بلوچستان کی سیاست میں جو خلا پیدا ہوئی وہ صدیوں تک پُر نہیں ہوسکتی مزید انہوں نے کہا کہ شہید مولابخش دشتی سمیت بلوچستان کے تمام شہدا کو سرخ سلام پیش کرتا ہوں جنہوں نے ہر وقت مظلوم طبقے کے لئیے جدوجہد کی اور اپنی جانوں کا نظرانہ بھی پیش کیا تمام سیاسی ورکروں کو چائیے کہ شہید مولابخش دشتی کی سوچ و فکر کو اپنا کر اپنی جدوجہد جاری رکھیں ۔
جاری کردہ نعیم بلوچ مرکزی آرگنائزنگ کمیٹی ممبر بی ایس او پجار


