تنخواہوں کی عدم ادائےگی کےخلاف احتجاجی کیمپ ، مالی بحران کا حل نکالنے کی کوشش کریں گے،وی سی جامعہ بلوچستان
کوئٹہ(یو این اے )جوائنٹ ایکشن کمیٹی جامعہ بلوچستان کے زیر اہتمام جامعہ بلوچستان کے اساتذہ کرام، آفیسران اور ملازمین کی تین مہینوں کی تنخواہوں اور پنشنز کی عدم فراہمی اور ریسرچ سینٹرز کے اساتذہ کرام ، آفیسران اور ملازمین کو سالانہ بجٹ میں اعلان شدہ 35 فیصد اور ہاس ریکوزیشن کی عدم ادائیگی اور جامعہ بلوچستان کی مالی بحران کی مستقل حل کےلئے جامعہ بلوچستان کے مین گیٹ پر انتہائی سخت سردی اور ماہ مقدس کے پہلے روز میں بھی احتجاجی کیمپ لگایا گیا جس میں درجنوں اساتذہ کرام ،آفیسران اور ملازمین نے شرکت کی جبکہ نگران وائس چانسلر ڈاکٹر ظہور احمد بازئی بھی احتجاجی کیمپ تشریف لائے اور اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ اپنی تمام صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے جامعہ بلوچستان کو درپیش سخت مالی بحران کا مستقل حل نکا لنے کی بھرپور کوشش کریں گے ۔ دریں اثنا مظاہرین نے سریاب روڈ پر احتجاجی ریلی نکالی جو آخر میں احتجاجی جلسے میں تبدیل ھوئی جسکی صدارت نذیر احمد لہڑی نے کی، جلسے سے نذیر احمد لہڑی، پروفیسر ڈاکٹر کلیم اللہ بڑیچ، شاھ علی بگٹی، نذیر احمد لہڑی، فریدخان اچکزئی، نعمت اللہ کاکڑ، گل جان کاکڑ، سید شاہ بابر، کامریڈ نذیر مینگل اور حافظ عبدالقیوم نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ انتہائی افسوسناک بات ہے کہ جامعہ بلوچستان کے اساتذہ کرام، آفیسران اور ملازمین اس ھوشربا مہنگائی میں اور مارچ میں تعلیمی اداروں کی کھلنے اور ماہ مقدس کی شروعات میں بھی تنخواہوں اور پنشنز سے محروم ہیں جو انتہائی ظالمانہ اقدام ہے۔ مظاہرین نے اپنے جائز اور بنیادی حق ماہانہ تنخواہوں اور پنشن کے لئے زبردست نعرے بازی کی۔ مقررین نے مرکزی و صوبائی حکومت، گورنربلوچستان اور ایچ ای سی سے پرزور مطالبہ کیا کہ سنجیدگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے جامعہ بلوچستان کے مالی بحران کا مستقل حل نکالے اور تین مہینوں کی تنخواہوں اور پنشنز کےلئے فوری طور پر بیل آوٹ پیکیج کا اعلان کریں۔ مقررین نے اعلان کیا کہ بروز بدھ کو بھی جامعہ بلوچستان کے مین گیٹ کے سامنے تنخواہوں اور پنشنز کےلئے کیمپ لگایا جائے گا اورتمام اساتذہ کرام، آفیسران و ملازمین سے بھرپور انداز میں شرکت کی اپیل کی۔


