چیک پوسٹوں پر وصول کرنیوالی رقم کی تحقیقات کرائی جائے، بلوچستان بس ٹرانسپورٹ الائنس

کوئٹہ (انتخاب نیوز) ضلع مستونگ کے چیک پوسٹ لکپاس ٹنل پر سواری فی بس سے 35 سے 50 ہزار تک فکس بھتہ لیتے ہیں۔ بلوچستان بس ٹرانسپورٹ الائنس کے بیان میں کہا گیا کہ لکپاس ٹنل چیک پوسٹ کی غنڈہ گردی نے تو حد ہی کردی ہے جو کہ بس ٹرانسپورٹرز کے ساتھ سراسر ظلم اور نا انصافی کے مترادف ہے۔ جہاں اینٹی اسمگلنگ کی بات ہے وہی اس چیک پوسٹ کے عملے کے ناک کے نیچے لاکھوں روپے لائن لیکر اسمگلنگ کرواتے ہیں۔ تمام شاہراہوں پر چیک پوسٹوں نے لوٹ مار کا بازار گرم کیا ہوا ہے ٹرانسپورٹروں کو ڈرا دھمکا کر زبردستی پیسے وصول کرتے ہیں ہمارے محافظ عوام کے ساتھ ظلم کر رہے ہیں۔ آئے روز اس بھتہ گیری میں اضافہ کرتے رہتے ہیں شب و روز شاہراہوں پر کھڑے ہوکر ٹرانسپورٹ کو تنگ کرتے ہیں، بلوچستان میں عوام کا ذریعہ معاش ٹرانسپورٹ سے وابستہ ہے مگر چیک پوسٹوں پر تعینات سیکورٹی عملے کی غنڈہ گردی نے ٹرانسپورٹ کے شعبے کو تباہی کے دہانے پر پہنچا دیا ہے۔ جگہ جگہ بھتہ گیری عروج پر پہنچ چکی ہے، صوبائی حکومت کے دعوے دھرے کے دھرے رہ گئے ہیں، حکومت اپنے ماتحت ملازمین کی بھتہ گیری ختم نہیں کرسکی۔ لکپاس ٹنل چیک پوسٹ پر تعینات تمام عملے کے خلاف انکوائری کیا جائے تاکہ پتہ چل جائے کروڑوں روپے بھتہ کی مد میں وصول کرکے کس کے اکاﺅنٹ میں جمع ہو رہے ہیں۔ بلوچستان بس ٹرانسپورٹ الائنس کا وزیراعلیٰ بلوچستان، کورکمانڈ بلوچستان، آئی جی ایف سی، چیف سیکرٹری بلوچستان، آئی جی پولیس، سیکرٹری داخلہ، ڈی جی لیویز سے اپیل ہے کہ خدارا بلوچستان کے ٹرانسپورٹروں کو اس ظلم و ستم سے نجات دلائی جائے اور ان کیخلاف کارروائی کرنے کے لئے اعلیٰ سطح پر انکوائری کمیٹی بنایا جائے تاکہ عوام کا خون چوسنے والوں کا احتساب کیا جاسکے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں