غیر قانونی تجارتی اسمگلنگ نے معیشت کو سب سے زیادہ نقصان پہنچایا، شہباز شریف
اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)انسداد اسمگلنگ کے حوالے سے اجلاس منعقدہ ہوا جس میں وزیر اعظم پاکستان شہباز شریف نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ ملک کے اندر جو اس وقت نئی منتخب حکومتیں ہیں وہ تشکیل ہوچکی ہیں، وفاق میں بھی ہمیں 24 دن ہوگئے ہیں، اس وقت ہماری سب سے اہم مصروفیت پاکستان کے اندر مختلف چینلجز کو سمجھنا اور برق رفتاری سے ان سے نمٹنا ہے تاکہ معیشت کو سنبھال سکیں اور پاکستان کو ترقی اور خوشحالی کی طرف لے جاسکیں۔انہوں نے کہا ہے کہ ہم ملک سے سیاسی تقسیم اور افراتفری کا خاتمہ چاہتے ہیں، یہ تب ہی ممکن ہے جب وفاق، چاروں صوبے، ادارے اور افواج سب مل کر اس عظیم مشن کے لیے یکسوں ہوجائیں، میں نے 24 دنوں میں معیشت کے حوالے سے بے شمار اجلاس کیے ہیں، سب سے پہلی بات جس نے پاکستان کو بے پناہ نقصان پہنچایا وہ غیر قانونی تجارتی اسمگلنگ ہے۔ان کا کہنا تھا کہ چینی افغانستان اسمگل ہوتی ہے، اسی طریقے سے اربوں روپے کی بجلی چوری کی جاتی ہے، اس سال محصولات کا تخمینہ 9 کھرب کا ہے لیکن یہ بھی محتاط اندازہ ہے، اسی طرح 2 ہزار 700 ارب روپے کے محصولات سے متعلق کیسز عدالتوں میں زیر التوا ہیں، اگر یہ آدھا پیسہ بھی آجائے تو کینسر ہسپتال بن سکتے ہیں، قرضوں میں کمی آ سکتی ہے۔انہوں نے بتایا کہ ہمیں ان تمام مشکلات کا سامنا ہے، اگر ہمیں پاکستان کو قرضوں کے چنگل سے نکالنا ہے تو اس کے لیے یہی ہے کہ زراعت، صنعت کو فروغ دیں، مگر کرپشن کا خاتمہ بھی ہماری انفرادی اور مشترکہ ذمہ داری ہے، ہم ملک کو خوشحالی کی جانب لے جانا چاہتے ہیں۔وزیر اعظم نے کہا کہ ہم نے فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر)کی ڈیجیٹلائزیشن کا نظام وضع کرلیا ہے، کنسلٹنٹس آئیں گے اور یہ کام مکمل ہوجائے گا، ٹربینولز میں کئی سو ارب روپے کے کیسز پڑے ہیں اسی طرح اپیلیٹ بینچز ہیں ان کو ملا کر کل 2700 ارب روپے کے کیسز ہیں ان میں سے ا?دھے بھی ا?جائیں تو بہتر ہوجائے گا۔شہباز شریف کا کہنا تھا کہ لا اینڈ آرڈرز کے حوالے سے بھی اجلاس ہوا، بشام حملے سے ہمارے مستقبل کو بے پناہ نقصان پہنچانے کی کوشش کی گئی، دشمن تو طاق میں لگا ہوا ہے لیکن اس کی سازشوں کو ناکام کرنا ہماری ذمہ داری ہے، میں نے وزیر داخلہ کو کہا کہ وہ جائیں اور صوبوں میں اجلاس منعقد کریں تاکہ ان مسائل پر قابو پا سکیں۔وزیر اعظم نے کہا کہ اس میں کوئی شق نہیں کہ چینلجز بہت ہیں مگر وہ قومیں کامیاب ہوتی ہیں جو دن رات محنت کرتی ہیں، ہم مل کر ان مسائل کو حل کریں اور ایک دن کامیابی کا جھنڈا گاڑیں گے، ہم نے مل کر کام کرنا ہے کوئی لچک نہیں دکھانی ہے۔


