آئندہ چینی سیکورٹی کے معاملات سنجیدگی سے لیں گے، وزیر اطلاعات

لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک)وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ کا لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہنا تھا کہ وزیراعظم نے چینی باشندوں کی سیکورٹی کے حوالے سے بہت اجلاس کیے، انہوں نے داسو واقعے پر ایک انکوائری کمیٹی بنائی تھی، ہمارے حوصلے ب±لند ہیں اور کسی کو امن خراب نہیں کرنے دیں گے، قانون نافذ کرنے والے ادارے سب انتہا پسندی کے خاتمے پر کاربند ہیں، اور اس ناسور کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کے لیے اپنا کردار ادا کررہے ہیں۔وفاقی وزیر اطلاعات کا کہنا تھا کہ انکوائری کمیٹی نے جب اپنی رپورٹ بھیجی تو وزیراعظم نے چند افسران کے خلاف انضباطی کارروائی کرنے کا حکم دیا ہے، ان میں آرپی او ہزارہ ڈویژن ، ڈی پی او اپر کوہستان ڈسٹرکٹ، ڈی پی او لوئر کوہستان ڈسٹرکٹ، ڈائریکٹر سیکورٹی داسو ہائیڈرو پاور پروجیکٹ اور کمانڈنٹ اسپیشل سیکیورٹی یونٹ خیبرپختونخوا کےخلاف 15 دن کے اندر انضباطی کارروائی ہوگی۔انہوں نے کہا کہ ان کے خلاف جو انضباطی کارروائی کا کہا گیا ہے، انکوائری میں کہا گیا ہے کہ انہوں نے اپنے فرائض میں غفلت برتی، ان کو الرٹ ہونا چاہیے تھا، وزیراعظم شہباز شریف نے ان کے خلاف فوری کارروائی کا حکم دیا ہے۔عطا تارڑ کا کہنا تھا کہ صنعت ہو یا معیشت، ہر طرف سے مثبت اشاریے بھی مل رہے ہیں، شہباز شریف کے آتے ہی بلوم برگ نے کھل کر بات کی تھی کہ شہباز شریف کو مالیاتی اداروں کے ساتھ مذاکرات کا تجربہ ہے اور وہ معاشی اصلاحات کرنے کی قابلیت رکھتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ میں سمجھتا ہوں کہ 16 ماہ کی گزشتہ حکومت نے ملک کو ڈیفالٹ سے بچایا جس کے نتیجے میں روپیہ مستحکم رہا، جس کے نتیجے میں معیشت مستحکم ہوئی، اسی طرح اسٹاک ایکسچینج کو دیکھیں تو وہاں سے بھی روز نئی خبریں آرہی ہیں، روز ریکارڈ قائم ہور رہے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کے دشمن جو ملک کے امن کو نقصان پہنچانا چاہتے ہیں، جن کو پاکستان کی ترقی اور پھلتی پھولتی معیشت ہضم نہیں ہوتی، وہ اپنے ایجنڈے پر کاربند ہیں۔عطا تارڑ کا کہنا تھا کہ اور یہ مثال ہے کہ آئندہ چائنیز سیکورٹی کے حوالے سے جو معاملات ہیں، ان کو مزید سنجیدگی سے لیا جائے گا، اور اس میں کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی، وزیراعظم چینی باشندوں کی سیکیورٹی کے حوالے سے خود نگرانی کر رہے ہیں، اس حوالے سے بڑا مو¿ثر نظام وضع کیا جا رہا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں