حکومت کراچی میں اہلسنت کارکنان کی مسلسل ٹارگٹ کلنگ کانوٹس لے، علامہ اورنگزیب فاروقی

کراچی (پ ر) مسلح افراد کی فائرنگ سے جاں بحق ہونے والے اہلسنّت والجماعت حلقہ بلال شریف آباد کے سینئرنائب صدر بھائی فیاض کے بہیمانہ قتل اور کراچی میں اہلسنت ذمہ داران وکارکنان کی مسلسل ٹارگٹ کلنگ، قاتلوں کی عدم گرفتاری، انہیں کھلی چھوٹ دیے جانے اور رہنماﺅں کو سیکورٹی فراہم نہ کیے جانے پر شدیدمذمت کرتے ہوئے اہلسنت والجماعت کے مرکزی صدر علامہ اورنگزیب فاروقی نے صدر کراچی علامہ رب نواز حنفی، علامہ تاج محمد حنفی، ترجمان کراچی مولانا عمر معاویہ، مولانا شکیل فاروقی، امیر فضل خالق، مفتی سیف الرحمن عباسی، قاری عبدالوہاب، محمد کامران، مولانا عبدالرافع، مولانا حمید احمد و دیگر رہنماﺅں نے کہا کہ کراچی میں قانون نافذ کرنے والے اداروں نے بڑی مشکلات اور قربانیوں کے بعد امن کا قیام ممکن بنایا لیکن کراچی کے دشمنوں کو یہاں کا امن راس نہیں آرہا اور وہ اپنے بیرونی و اندرونی آقاﺅں کے اشارے پر کراچی کا امن تباہ کرنے پر تلے ہوئے ہیں، ہمارے ذمہ داران اور کارکنان کی مسلسل ٹارگٹ کلنگ میں غیر ملکیوں کے سہولت کار ملوث ہیں، اندرون و بیرون ملک تمام اداروں اور ایجنسیز کو معلوم ہے کہ اہلسنت والجماعت پاکستان ایک انتہائی پرامن اور قانون پسند جماعت ہے، ہماری امن پسندی کی گواہی ہر فرد اور ادارہ دیتا ہے اس کے باوجود ہمیں مسلسل ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بنایا جارہا ہے، حکومت سمیت تمام ادارے اہلسنت کارکنان کے قاتلوں کی گرفتاری کیلئے تمام تر وسائل بروئے کار لائیں، ہمارے فریق مخالف کے علاقوں میں ٹارگٹڈ آپریشن کیے جائیں، ہمارے قاتل وہاں چھپے ہوئے ہیں، ہمارے تمام اہم ذمہ داران کو فوری سیکورٹی فراہم کیے جائیں، ہم نے ہمیشہ لاشیں اٹھانے کے باوجود امن پسندی کا ثبوت دیا، یہ شہر اور ملک ہمارا ہے اور ہم یہاں لا اینڈ آرڈر کا کوئی مسئلہ پیدا کرنا نہیں چاہتے، ہمارا مطالبہ ہے کہ فوری طور پر اہلسنت رہنماﺅں کو فول پروف سیکورٹی فراہم اور قاتلوں کو گرفتار کیا جائے بصورت دیگر ہم اپنے تحفظ کیلئے احتجاجی مظاہروں سمیت تمام قانونی راستے اپنانے پر مجبور ہوجائیں گے اور ہمیں کوئی بھی اپنے آئینی و قانونی حقوق کے حصول سے نہیں روک سکتا، ملک بھر میں اہم مذہبی و قومی شخصیات کو فول پروف سیکورٹی فراہم کرنے کے احکامات جاری کردیے گئے ہیں علامہ رب نوازحنفی نے کہا کہ کوئی مجھے بتائے، اس وقت پاکستان میں سب سے زیادہ اگر کسی تنظیم کے ذمہ داران کی جانوں کو خطرہ ہے تو وہ اہلسنت والجماعت پاکستان ہے، ماضی میں بھی درجنوں کے حساب سے ہمارے مرکزی، صوبائی، ڈویژنل، علاقائی ذمہ داران کے ساتھ ساتھ ہزاروں کارکنان تخریب کاروں کے ہاتھوں موت کے گھاٹ اتار دیے گئے۔ اس وقت مرکزی صدر علامہ اورنگزیب فاروقی سمیت دیگر قائدین و ذمہ داران سرکاری سیکورٹی سے محروم ہیں۔ وفاقی وزارت داخلہ سے ہمارا مطالبہ ہے کہ علامہ اورنگزیب فاروقی سمیت اہلسنت والجماعت کے قائدین وذمہ داران کو فوری فول پروف سیکورٹی فراہم کیے جائیں، بصورت دیگر اگر قائدین کو کسی قسم کا کوئی نقصان پہنچا تو اس کی ذمہ داری وزیراعلیٰ سندھ، گورنر سندھ، آئی جی سندھ سمیت وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر عائد ہوگی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں