ریاست کی تشکیل کا بنیادی مقصد عوام کو تحفظ فراہم کرنا ہے، ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن

حب (یواین اے ) صدرڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن حب شاہ زیب کمال بلوچ ایڈوکیٹ نے کہا ہے کہ ریاست کی تشکیل کا بنیادی مقصد عوام الناس کے معاشی،سماجی وسیاسی مفادات کا تحفظ کرنا ہے۔جس کے لئے ریاستی امور کو نظام دیا جاتا ہے اور اس نظام کے ذریعے انصاف پر متعین ایک فلاحی ریاست کا تصور قائم کیا جاتا ہے۔اکیسویں صدی میں سوشل،پرنٹ و الیکٹرانک میڈیا کے موجودگی میں عوامی اظہار رائے کا راستہ روکنا ممکن نہیں ہے،اور نہ ہی عوام کو اسکے آئینی و بنیادی حقوق سے محروم کیا جاسکتا ہے۔جب تک معاشرے میں آئینی تحفظ عوام الناس کو مہیا نہیں کیا جاتا،تب تک انصاف کے اصولوں پر گامزن ہونا ناممکن ہوجاتا ہے ۔ صدرڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن حب شاہ زیب کمال بلوچ ایڈوکیٹ نے حب میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ بلوچستان کے وکلا جو انصاف کے اصولوں کو عملی جامعہ پہنانے کیلئے شب و روز محنت کرکے وکالت کے پیشے سے منسلک ہوکر نان و نفقہ اور دیگر بنیادی ضرورتوں کو حاصل کرتے ہیں۔جہاں ریاست کے آئین میں بھی وکلا کے بنیادی حقوق کو تحفظ فراہم کیا گیا ہے،لیکن بدقسمتی سے ریاستی انتظامیہ میں موجود اشرافیہ طبقہ وکلا کے جائز و قانونی حقوق کے حصول کے سامنے سب سے بڑی رکاوٹ ہیں۔موجودہ ریاستی انتظامیہ عوام کی خدمت کے بجائے آفسر شاہی رویہ اختیار کرتے ہوئے عوام الناس کو اشرافیہ طبقہ کا غلام سمجھتے ہیں اور خود کوقانون سے بالا تر سمجھ کر عدالتی نظام کا تمسخرہ اڑاتے رہتے ہیں۔بلوچستان کے موجودہ اشرافیہ طبقے نے اپنے نا اہلی اور کرپشن کے ذریعے عوام الناس کو جہالت،بیماری،غربت،اورکسمپرسی کے زندگی گزارنے پر مجبور کردیا ہے اور ریاستی اشرافیہ کے ناکام اور کمیشن خور پراجیکٹس پر سوالیہ نشان کرنے والاکوئی ادارہ بھی موجود نہیں ہے۔اس بد انتظامی کے ذریعے عوام الناس کو انصاف کے اصولوں سے اشرافیہ طبقے نے جان بوجھ کر رکاواٹیں پیدا کیئے ہوئے ہیں ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں