باردانہ کی عدم فراہمی، سندھ بلوچستان قومی شاہراہ کو غیر معینہ مدت کیلئے بند کر دیں گے، زمیندار وکاشتکاراتحاد
ڈیرہ مراد جمالی (یو این اے )محکمہ خوراک کی جانب سے نصیر آباد میں زمینداروں اور کسانوں میں باردانہ کی عدم فراہمی اور ان سے گندم کی خریداری نہ کرنے کے خلاف زمیندار اورکاشتکاراتحاد ایک پلیٹ فارم پرمتحد ہوگئے صوبائی سیکرٹری خوراک اور پروجیکٹ ڈائریکٹر فوڈ کو اگرجلد ازجلد نہیں ہٹایا گیا تو 03 جون کو پٹ فیڈر پل ڈیرہ مراد جمالی کے مقام پرسندھ بلوچستان قومی شاہراہ کو غیر معینہ مدت کے لیے دھرنا دے کر بند کر دیں گے نصیرآباد انتظامیہ اورمقامی زمینداروں اور کاشتکاروں پر مشتمل کمیٹی تشکیل دے کرصاف و شفاف طریقے سے زمینداروں میں باردانہ کی فراہمی اور ان سے گندم کی خریداری کے عمل کو یقینی بنایا جائے باردانہ سندھ کے بیوپاریوں کو فروخت کرکے ان سے گندم خریدنے کے عمل کو ہرگز برداشت نہیں کیا جائیگا ہم اپنیحقوق کے حصول کیلیے کسی بھی حد تک جانے سے گریز نہیں کریں گیگندم کی خریداری نہ ہونے سے چھوٹے زمیندار طبقے کو کروڑوں روپوں کا نقصان پہنچ رہا ہے حکومت بلوچستان کو چاہیے کہ وہ چھوٹے زمینداروں اور کاشتکاروں سے گندم کی خریداری کو یقینی بنائے تاکہ ان کے نقصانات کا ازالہ کرکے ان کی دادرسی کی جاسکیان خیالات کا اظہار نصیر آباد کیمعروف زمیندارسرکردہ میرمحمد صدیق عمرانی۔ زمیندار ایکشن کمیٹی کیصدر حاجی دین محمد گرانی۔ سینیئرنائب صدرمیر رانا خان مغیری۔میرعلی حسن خان منجھو۔میرحفیظ اللہ جتک عبدالجبارعمرانی میر جاگن خان مغیری سمیت نصیر آباد کیمختلف چھوٹے بڑے زمیندار کسانوں نیمیڈیا کو اپنا احتجاج نوٹ کرتے ہوئے بتایا انہوں نیکہا کہ صوبائی وزیرخوراک اور صوبائی سیکرٹری خوراک نے اپنے دست راست پی ڈی سمیت ایک کرپٹ ٹولے کو نصیرآباد میں گندم کی خریداری کے لیے مسلط کر دیا ہیجو کہ نصیر آباد کے چھوٹے زمینداروں کسانوں سے گندم خریدنے کے بجائے باردانہ کو سندھ کے وپاریوں کو 2200 روپے فی دانہ بیچ کران سے گندم کی خریداری بنا رہے ہیں جوکہ نصیرآباد کیکسانوں کی حق تلفی ہے ہم کسی بھی طرح اس عمل کی تائید نہیں کریں گے بلکہ اپنے حق کیحصول کے لیے ہر پلیٹ فارم پر اواز اپنی بلند کرتے رہیں گے گزشتہ روز بختیار آباد سے اندرون سندھ 32 ہزار بردانہ کو منتقل کیاجا رہا تھا جسے مقامی انتظامیہ کے ساتھ مل کرکام بنا دیا گیا محکمہ خوراک کا عملہ کسی بھی صورت میں نصیر آباد کے چھوٹے کاشتکاروں سے گندم کی خریداری کے لیے بالکل تیار نہیں ہے اور نہ ہی کسی کو باردانہ دینے کیلییتیار ہیں اور 2200 روپے فی باردانہ کی ڈیمانڈ کر کے نصیرآباد کے غریب کسانوں اور زمینداروں کے حقوق پرڈاکہ ڈال رہے ہیں انہوں نے وزیراعلی بلوچستان میر سرفراز خان بگٹی۔گورنر بلوچستان شیخ جعفرخان مندوخیل اورچیف سیکرٹری سے مطالبہ کیا ہیکہ سیکرٹری خوراک اور پروجیکٹ ڈائریکٹر فوڈ کو فوری طور پر ان کے عہدوں سے ہٹا کر ایمانداراورغیر جانبدار سیکرٹری فوڈ اور پروجیکٹ ڈائریکٹرکو تعینات کیاجائے اورضلعی انتظامیہ کی نگرانی میں ایک بااختیارکمیٹی تشکیل دے کرنصیرآباد کے حقیقی زمینداروں کو باردانہ فرام کرکے گندم کی خریداری کو صاف و شفاف انداز میں یقینی بنایا جائے لیکن ہم نہیں چاہتے کہ قومی شاہراہ بلاک ہو اورعوام کو تکلیف کا سامنا کرنا پڑے لیکن اگر ہمارے جائز مطالبات کوجلد ازجلد تسلیم نہیں کیا گیا تو ہم مجبور ہو کر 03 جون بروز سوموار کو ڈیرہ مراد جمالی میں سندھ بلوچستان قومی شاہراہ کو پٹ فیڈر پل کے مقام پرغیر معینہ مدت کیلیے بند کر دیں گیجس کی تمام تر ذمہ داری حکومت بلوچستان پرعائد ہوگی۔


