سنیارٹی، میرٹ کاقتل عام،بلوچستان کی تمام محکموں میں جونیئر سفارشی افسران پوسٹوں پر قابض
خضدار(بیورورپورٹ) حکومت بلوچستان کی سینارٹی کے حوالے سے فیصلے ہوامیں آڑگئی جونیئرسفارشی آفیسران بدستور تمام محکموں میں سینیئرز آفیسروں کے پوسٹوں پر براجمان ہیں وزیراعلی بلوچستان کے اس حکمنامہ کو ردی کے ٹھوکری کی نذر کردی ہے سینیئرآفیسران نوٹیفکیشن کیلئے سرگردان ہیں تفصیلات کے مطابق ایک میڈیا سروے رپورٹ میں بتایا گیاہے کہ وزیراعلی بلوچستان کی تمام محکموں میں سالوں سال سفارشی اور جونیئیرز کو سینیئرزآفیسران کے سینارٹی کیلئے حکمنامہ پر تاحال فائیلیں سردخانے کی نذر ہوگئی ہے بلوچستان میں تمام محکموں زراعت, پبلک ہیلتھ,بی اینڈآر, بلدیات,ایجوکیشن, صحت, جنگلات, سماجی بہبودآبادی سمیت درجن بھرمحکموں میں تاحال جونیئرز سفارشی سینیئرز آفیسروں کے پوسٹوں پر قابض ہیں سینیئرز آفیسران سیناڑٹی کے حوالے سے بالائی آفیسران کے دفتروں کی زیارت کرتے کرتے تھک چکی ہے لیکن وزیراعلی بلوچستان کے حکمنامہ میں کوئی عملدرآمد نظرنہیں ہوپارہی ہے وزیراعلی بلوچستان کی تاریخی اعلان پر سینیئرز آفیسران کی دم میں دم آگئی اور وہ خوشی سے جھوم اٹھے مگر شومئی قسمت جونئیرز سفارشیوں کی سینیئرز آفیسروں کی ترازوں کے پلڑے سے وزن تاحال بھاری نظر آرہا ہے بد قسمتی سے سینارٹی کے متعلق ہر دور حکومت میں فیصلے ہمیشہ اسی طرح ہوتے رہے ہیں۔ مگرجونیئرز سفارشی سینیئر آفسیران کی کرسیوں پر بیٹھ کراپنے آقاؤں کو کھلا پلا کر موج مستی کرکے مبینہ طورپرکرپشن اورہڑپشن کی بازار کوگرم کرتے رہے ہیں لیکن سینیئرزآفیسران اپنے پورے کیرئیرمیں صرف دفتروں میں خالی حاضری لگاکر اپنے مدت ملازم پورا کرکے ریٹائرڈ ہو رہے ہے وزیراعلی بلوچستان میر سرفرازبگٹی نے تمام محکموں کی سیینارٹی کے حوالے سے حکمنامہ جاری کیا تو سینئیرزآفیسروں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی انہیں تھوڑی سی امید کی کرن نظرآنے لگی لیکن آج بھی جونئیرز سفارشیوں کی فوج ظفر موج نے سینیئرزکو بہا کر لےگئی ہے۔ اس جانب خضدارکے مختلف محکموں کے سینیئرزآفیسران بھی اسی امیدمیں آس لگائے بیٹھے ہیں کہ شاید وزیراعلی بلوچستان کے اسی پر عملدرآمدہو اور ہمیں کوئی نہ کوئی موقع مل ہی جائے انہوں نے وزیراعلی بلوچستان میر سرفراز بگٹی سے اپیل کی ہے وہ بلوچستان میں ایک انقلابی تاریخی فیصلے کیاہے اس پر عملدرآمد کیلئے اپنے فیصلے کیلئے تمام محکموں کو پابند بنائیں اور سینیئرزآفیسروں کے حق تلفی کومزید روکاجائے۔


