قومی اسمبلی، اپوزیشن کا صحافی مطیع اللہ جان کی گرفتاری کیخلاف احتجاج، ایوان سے علامتی واک آؤٹ

اسلام آباد:قومی اسمبلی میں اپوزیشن نے سینئر صحافی مطیع اللہ جان کی گرفتاری کے خلاف احتجاج کیا اور ایوان سے واک آؤٹ کیا، اجلاس کے دوران پی پی کے رکن عبد القادر پٹیل کو فلور نہ دینے پر پی پی ارکان نے شورشرابا کیا اور ڈپٹی سپیکر قاسم سوری سے ان کی تکرار ہوئی، اپوزیشن ارکان خواجہ سید نوید قمر، خواجہ آصف، عبد القادر پٹیل، میاں جاوید لطیف و دیگر نے کہا ہے کہ سینئر صحافی مطیع اللہ جان کو پولیس نے ریاستی دہشتگردی کرتے اٹھا یا، یہ انفرادی شخص پر وار نہیں پورے پاکستان کے میڈیا کی ذبان بندی کا راستہ ہموار کیا جا رہا ہے، ملک میں پہلے ہی اظہار رائے پریشر میں ہے، یہ شرمندگی کی بات ہے، اسکی ہم مذمت کرتے ہیں،کپتان نے پورے پاکستان کی معیشت گرا دی،راہول گاندھی مودی کو انڈیا کا عمران خان کہتا ہے، کراچی میں کوئی پانی بیچنے والے اور کوئی ڈھکن چور کے نام سے مشہور ہے،ٹڈی دل سے جو نقصان ہوا ہے اس پر اس ایوان کو بریفنگ دی جائے، جتنا نقصان ہوا ہے اس بارے میں ابھی تک کوئی اعداد و شمار موجود نہیں، خواجہ سعد رفیق کیس میں سپریم کورٹ کے فیصلے نے ثابت کردیا کہ نیب نیازی گٹھ جوڑ سے حکومت چل رہی ہے، نیب نیازی گٹھ جوڑ نہ ہوتو یہ حکومت ایک دن نہیں چل سکتی، کچھ اے ٹی ایمز بھاگ چکی ہیں کچھ کرونا کی وجہ باہر نہیں جا پا رہے،جنرل یحیی مشرقی پاکستان کے خلاف کھڑا ہو گیا تھا، آج ہمارا چیف ایگزیکٹو سندھ کے خلاف کھڑا ہو گیا، لانے والوں کو شاید علم ہو گیا ہے کہ ملک مزید تباہی کا متحمل نہیں ہوسکتا، آل پارٹیز کانفرنس بھی اسی لئے بلوائی جا رہی ہے،بلاول بھٹو۔ فضل الرحمان اور مریم نواز باہر نکلو اور ملک کو بچاؤ، اس کے بغیر ملک کا بچنا مشکل ہے، سب متحد ہو کر آج کے اس جنرل یحیی سے جان چھڑائی جائے،چینی اسکینڈل,دوائیوں کا اسکینڈل,ڈالر اسکینڈل، اتنے اسکینڈلز کے باوجود اگر کوئی کہے کہ مجھے فرشتہ سمجھیں تو ایسا نہیں ہو سکتا، ڈپٹی اسپیکر کی جانب سے وزیر مواصلات مراد سعید کو فلور دینے پر اپوزیشن اراکین نے احتجاج کیا اور پیپلزپارٹی کے رکن آغا رفیع اللہ نے کورم کی نشاندہی کر دی،گنتی کرانے پر کورم پورا نہ نکلا جس پر ڈپٹی سپیکر نے اجلاس کی کاروائی جمعرات صبح 11 بجے تک ملتوی کردی جبکہ اجلاس کے دوران سینئر صحافی مطیع اللہ جان کی گرفتاری کے خلاف پریس گیلری سے صحافیوں نے بھی بطور احتجاج واک آؤٹ کیا۔منگل کو قومی اسمبلی کا اجلاس ڈپٹی سپیکر قاسم سوری کی صدارت میں شروع ہوا، پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما سید نوید قمر نے سینئر صحافی مطیع اللہ جان کے لاپتہ ہونے کے معاملہ ایوان میں اٹھایا، نوید قمر نے کہاکہ پریس گیلری خالی ہے، سینئر صحافی مطیع اللہ جان کو پولیس نے ریاستی دہشتگردی کرتے اٹھا لیا، یہ انفرادی شخص پر وار نہیں پورے پاکستان کے میڈیا کی ذبان بندی کا راستہ ہموار کیا جا رہا ہے، ملک میں پہلے ہی اظہار رائے پریشر میں ہے، یہ شرمندگی کی بات ہے، اسکی ہم مذمت کرتے ہیں، انہوں نے صحافی کی گمشدگی پر واک آؤٹ کا اعلان کر دیا، خواجہ آصف نے کہا کہ اسطرح لوگوں کو اٹھانے سے سچ دبایا نہیں جا سکتا، سچ کو اسطرح شکست نہیں دی جاسکتی، اپوزیشن نے معاملے پر ایوان سے علامتی واک آوک کیا، ڈپٹی اسپیکر نے علی محمد خان کو ہدایت کی کہ اپوزیشن کو واپس ہاؤس میں لیکر آئیں،

اپنا تبصرہ بھیجیں