مختار باچا کی یاد میں پشاور پریس کلب میں تغزیتی ریفرنس کا انعقاد

پشاور(مانیٹرنگ ڈیسک)نیشنل پارٹی پختونخوا وحدت کے زیر اہتمام سابقہ صدر ورکن مرکزی کمیٹی مختار باچا کی یاد میں پشاور پریس کلب میں تغزیتی ریفرنس کا انعقاد کیا گیا تقریب میں نیشنل پارٹی سیکٹری جنرل سینیٹر جان بلیدی، صوبائی صدر اے این پی میاں افتخار حسین، صوبائی چئیرمین قومی وطن پارٹی سکندر حیات خان شیرپاؤ، مزدور کسان پارٹی مرکزی صدار افضل خاموش، رخشندہ ناز، مریم بی بی، نیشنل پارٹی پختونخوا وحدت کے رہنماء تیمور کمال، حیدر زمان، علی اکبر،پی پی کے رہنما انور زیب اور بڑی تعداد میں وکلاء اور صحافیوں نے شرکت کی مقررین نےکہا کہ مختار پاچا اپنی سوچ وفکر کیساتھ زندگی کے اخری دم تک کھڑا رہا انہوں نے اپنی سوچ اور نظریات کو تبدیل نہیں کیا پشاور میں قومی انقلابی پارٹی کو باچا جی نے زبردست طریقے سے ایک کارکن کے طور پر تنظیم کو چلایا انہوں نے مرکزی تنظیم سے خود باہر نکال کر پارٹی کارکنوں کے ساتھ براہ راست تعلق قائم کیا اور ان کو اپنی وفکری نظریات پہنچائے شرکاء نے سیاسی خدمات اور لازوال قربانیوں پر انہیں خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ مختار باچا کی سیاست کیلئے خدمات ناقابل فراموش ہے اسکا وجود اور سوچ ابھی تک زندہ ہے مختار باچاء ہماری تاریخ ، حال اور روشن مستقبل ہے۔ انکی نظریات اور فکر کو دنیا قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے،۔ محتار باچاء کے جانے کے بعد سیاسی اور سنجیدہ نظریات قربستان بن گئے ۔سنجیدہ شحصیت کے حامل لوگ ختم ہوگئے بکھرتے موتی بن گئے انہوں نے کہا کہ انکی مزدورں کے لیے خدمات کسی سے پوشیدہ نہیں ہے،پارٹی کو منظم اور متحد کرنے کیلئے باچا جی نے ہر میدان میں کام کیا اور لوگوں کو عزت دی انہوں نے مزید کہا کہ مختار باچا مختلف سیاسی جماعتوں کیساتھ وابستگی زیادہ رہی،سوات کالج یونیورسٹی کے سیاست کے زریعے تحریک سے منسلک ہوکر عوامی سوچ وفکر کو پیدا کرنے کی کوشش کی مقررین نے کہا کہ مختار باچا کے سیاسی پحتگی کی بنیادوں پر انکو معاشرے میں مقام ملا

اپنا تبصرہ بھیجیں