تخریب کاری میں مبتلا غیر مستحکم ریاست میں اچھی معیشت کا تصور نہیں کیا جاسکتا،وزیراعظم

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک)وزیر اعظم شہباز شریف کا کہنا ہے کہ صوبائی حکومتیں سیکیورٹی کی ذمہ داری فوج پر ڈال کر بری الذمہ نہیں ہو سکتیں، اس طرح سے تخریب کاری کا خاتمہ نہیں ہوسکتا۔ ایپکس کمیٹی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ ریاست کی عملداری کو پوری قوت سے نافذ کرنا ہماری مشترکہ ذمہ داری ہے، تخریب کاری میں مبتلا غیر مستحکم ریاست میں اچھی معیشت کا تصور نہیں کیا جاسکتا، نرم ریاست سرمایہ کاروں کا اعتماد حاصل نہیں کر سکتی، ہمیں طاقت کے تمام عناصر کے درمیان ہم آہنگی کی ضرورت ہے۔وزیراعظم نے کہا کہ تخریب کاری کیخلاف کامیابی کیلئے سیاسی اور مذہبی طبقے کو کردار ادا کرنا ہوگا، سیکیورٹی کو ریاست کے صرف ایک ادارے پر چھوڑنا فاش غلطی ہوگی، تخریب کاری کیخلاف جنگ میں پوری قوم کو شامل کرنے کیلئے فعال کردار ادا کرنا ہوگا، افواج تخریب کاری کیخلاف جو جنگ کر رہی ہے اس کے اخراجات وفاق اٹھاتا ہے، تخریب کاری کیخلاف فوج کی ضروریات پوری کرنے میں کوئی کثر نہیں اٹھا رکھیں گے۔شہباز شریف نے کہا کہ یقینی بنائیں گے کہ غلط معلومات اور جھوٹ سچائی کو نہ چھپا سکے،اظہاررائے کا غلط استعمال اور آئین کی دھجیاں اڑانے سے بڑا کوئی جرم نہیں ہوسکتا، ایسے قوانین بنانے ہوں گے جو نفرت اور تقسیم کے بیانیے ختم کرسکیں۔وزیراعظم نے کہا کہ تخریب کاری کا مسئلہ پیچیدہ ہے، ملک کی پائیدار ترقی کیلئے استحکام اور قانون کی حکمرانی ضروری ہے، ریاست کی عمل داری کو نافذ نا میری اور ہم سب کی ذمے داری ہے۔انہوں نے کہا کہ غریب آدمی کو اپنی روزی روٹی کی فکر ہے، روزگار کی فکر ہے، مکمل نظام کے بغیر پائیدار ترقی کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں