خاتون کی تضحیک کے ملزم کو کم سزا ملنے پر سنگاپور میں ہنگامہ
سنگاپور سٹی:سنگاپور کی عدالت کی جانب سے خاتون پر حملہ کرنے اور اسے تضحیک کا نشانہ بنانے والے ملزم کو کم سزا دیے جانے پر لوگ برہم ہوگئے اور انہوں نے سوشل میڈیا پر غصے کا اظہار کیا۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق سنگاپور کی ایک عدالت نے 21 جولائی کو سابق گرل فرینڈ پر حملہ کرنے والے نوجوان کو محض 12 دن کی سزا سنائی، جس پر خواتین کے حقوق پر کام کرنے والی تنظیموں سمیت سیاسی تنظیموں اور عام افراد نے بھی غصے کا اظہار کیا۔عدالت نے نیشنل یونیورسٹی آف سنگاپور(این یو ایس)کے 23 سالہ ڈینٹسٹری کے طالب علم کو اپنی سابق گرل فرینڈ پر حملہ کرنے کا مجرم قرار دیتے ہوئے انہیں محض 12 دن کی سزا سنائی۔ساتھ ہی عدالت نے نوجوان کو 80 گھنٹے کے کمیونٹی سروس کی سزا بھی دی اور انہیں آئندہ 5 ماہ تک حکام کو اپنے معمولات سے متعلق رپورٹ کرنے کی ہدایت بھی کی۔عدالت کی جانب سے مجرم کو سزا سنائے جاتے وقت ریمارکس میں کہا گیاکہ مجرم کا کوئی کرمنل ریکارڈ نہیں، جس وجہ سے انہیں کم سزا دی جا رہی ہے۔عدالتی دستاویزات کے مطابق مجرم نے اپنی سابق گرل فرینڈ کا اس وقت گلا گھونٹا تھا جب انہوں نے ان سے تعلقات ختم کرلیے تھے۔دستاویزات کے مطابق لڑکے نے تعلقات بحال کرنے کے لیے لڑکی پر دبا ڈالتے ہوئے ان کا گلا بھی گھونٹا، جس وجہ سے لڑکی نے خود کو گھر تک ہی محدود کرلیا تھا۔لڑکی کو قتل کرنے کی کوشش کرنے والے مجرم کو محض 12 دن کی سزا دیے جانے پر سوشل میڈیا پر کئی لوگوں نے برہمی کا اظہار کیا۔عدالتی فیصلے پر جہاں خواتین کے حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیموں نے برہمی اور افسوس کا اظہار کیا، وہیں حکومتی سیاسی جماعت کی خواتین کے ونگ نے بھی فیصلے پر غصے کا اظہار کیا۔خاتون پر حملے اور اس کی تضحیک کرنے والے مجرم کو کم سزا پر لوگوں کے غصے کا نوٹس لیتے ہوئے وزارت داخلہ اور انصاف نے کہا کہ حکومت اس بات کا جائزہ لے گی کہ خواتین پر حملوں کے مجرمان کو کم سزائیں کیوں اور کیسے دی جا رہی ہیں؟سنگاپور میں اس سے قبل بھی خواتین کو ہراساں کرنے اور انہیں تضحیک کا نشانہ بنانے والے ملزمان کو کم سزائیں دینے پر لوگوں نے برہمی کا اظہار کیا ہے۔


