لاپتا طالبعلم کے لواحقین پر فورسز کے تشدد کیخلاف پسنی میں شٹرڈاؤن ہڑتال

پسنی (نامہ نگار) لاپتہ طالبعلم بہادر بشیر کی عدم بازیابی پر دوسرے روز بھی مکران کوسٹل ہائی وے بند، شہر میں شٹر ڈاؤن ہڑتال، فورسز کا احتجاج پر بیٹھے لاپتہ طالبعلم کے فیملی پر مبینہ تشدد، سوشل میڈیا پر زخمی بھائی کی ویڈیو وائرل۔ تفصیلات کے مطابق پسنی کے رہائشی اور کراچی یونیورسٹی کے طالبعلم بہادر بشیر کی اغوا نما گرفتاری کے خلاف دوسرے روز بھی ان کے لواحقین نے زیرو پوائنٹ پر مکران کوسٹل ہائی وے کو بلاک کردیا، لواحقین کے مطابق جمعرات کی صبح سیکورٹی فورسز نے مبینہ طور پر ان پر تشدد کرکے لاپتہ بہادر بشیر کے بھائی کا موبائل بھی ساتھ لے گئے، زخمی بھائی کی ویڈیو بھی سوشل میڈیا پر اپ لوڈ کر دی گئی جس کے ردعمل میں لواحقین کی کال پر دکانداروں نے رضاکارانہ طور پر اپنی دکانوں کو بند کردیا اور شہر میں مکمل شٹر ڈاؤن ہڑتال کردی، کوسٹل ہائی وے بند ہونے سے مکران کا زمینی رابطہ کراچی سے منقطع ہوگیا مال بردار گاڑیوں سمیت سینکڑوں مسافر اپنے منزل تک نہیں پہنچ سکے دوسری طرف پاک ایران 250 بارڈر سے تجارت بھی متاثر رہی اور ایران بارڈر سے اندرون ملک ایل پی جی اور دیگر ایرانی سامان ترسیل کرنے والے درجنوں گاڑیاں پھنس گئے، جبکہ شاہراہ بند رہنے سے پسنی میں غذائی اجناس کی قلت پیدا ہوگئی ہے۔ دریں اثنا گوادر کے ضلعی چیئرمین سید معیار جان نوری، حق دو تحریک کے عہدیداران اور کارکنان، سول سوسائٹی، بلوچ یکجہتی کمیٹی، بی این پی کے کارکنان سمیت مختلف طبقہ فکر کے لوگوں نے دھرنا گاہ آکر لاپتہ طالبعلم بہادر بشیر کی فیملی سے اظہارِ یکجہتی کی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں