کوئٹہ میں کمسن بچی کو ٹرین کی زد سے بچاتے ہوئے اسکول ٹیچر ہاتھ اور ٹانگ کھو بیٹھا
کوئٹہ (یو این اے) ریلوے پھاٹک عبور کرتے ہوئے میں نے پٹڑی کے ساتھ ایک کمسن بچی کو دیکھا جو بے دھیانی میں کھیل رہی تھی اس دوران ٹرین اس کے سر پر آپہنچی، میں نے بھاگ کر بچی کو کھینچا اور بچالیا مگر خود ٹرین کی زد میں آگیا۔یہ کہنا ہے کوئٹہ کے علاقے شہباز ٹان کے رہائشی 52 سالہ سکول ٹیچر عامر غوری کا جو ایک انجان بچی کو بچاتے ہوئے ٹرین کی زد میں آنے سے زندگی بھر کے لیے معذور ہو گئے۔ انہوں نے اس حادثے میں اپنا بائیں ہاتھ اور بائیں ٹانگ گنوا دی۔سول ہسپتال کوئٹہ کے ٹراما سینٹر میں زیرِ علاج عامر غوری نے اردو نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ وہ شفیق احمد خان گورنمنٹ سکول میں استاد ہیںتین روز قبل معمول کے مطابق صبح ناشتہ کر کے ڈیوٹی کے لیے سکول جا رہے تھے جب یہ حادثہ پیش آیا۔انہوں نے بتایا کہ راستے میں شہباز ٹان ریلوے پھاٹک عبور کرتے ہوئے مجھے ایک کم عمر بچی نظر آئی جو پٹڑی کے ساتھ کھیل رہی تھی۔ اسی دوران وہاں سے چمن جانے والی ایک ٹرین آن پہنچی۔ بچی بہت چھوٹی تھی اور اس کا ٹرین کی طرف دھیان نہیں تھا۔مجھے لگا کہ بچی ٹرین کی زد میں آجائے گی۔ اس لیے میں نے اسے بچانے کا فیصلہ کیا اور دوڑ کر اس کا ہاتھ کھینچا، اسے پٹڑی سے نیچے اتار لیا مگر فاصلہ کم اور ٹرین کی رفتار زیادہ ہونے کی وجہ سے میں خود کو ٹرین سے بچا نہیں سکا۔میں نے ٹرین کو اپنے بہت قریب آتے دیکھا اس کے بعد مجھے یاد نہیں کہ کیا ہوا۔عامر غوری کے مطابق جس کم سن بچی کی انہوں نے جان بچائی اس کا تعلق پٹڑی کے قریب ہی جھگیوں میں رہنے والے ایک غریب خاندان سے ہے اور ان کی اس خاندان سے کوئی جان پہچان نہیں ہے۔ٹراما سینٹر کے ایم ڈی ڈاکٹر ارباب کامران کاسی نے بتایا کہ عامر غوری کو انتہائی تشویشناک حالت میں ٹراما سینٹر لایا گیا تھا۔بہت زیادہ خون بہہ رہا تھا وہ زندگی اور موت کی کشمکش میں مبتلا تھے۔ ان کے بقول تین سینیئر سرجن نے زخمی کا چار گھنٹے سے طویل آپریشن کیا اورسینئر ڈاکٹروں کی ٹرین نے ان کی مسلسل نگہداشت کی جس کے نتیجے میں ان کی جان تو بچ گئی مگر وہ زندگی بھر کے لیے معذور ہوگئے۔ عامر کا ایک ہاتھ اور ٹانگ ضائع ہوگئی ہے۔ جسم کے کچھ دیگر اعضا بھی متاثر ہوئے ہیں۔ڈاکٹر کامران کا کہنا ہے کہ عامر غوری معاشرے کے لیے مثال ہیں، انہوں نے ایک انجان راہ گزرتے بچے کی جان بچانے کے لیے اپنی جان دا پر لگائی۔عامر غوری کی اہلیہ شائستہ کا کہنا ہے کہ ان کے شوہر نے ہوش میں آنے کے بعد بتایا کہ یہ سب کچھ انسانیت کی خاطر اور اللہ کی رضا کے لیے کیا ہے، وہ انسانی زندگی کو بچانے پر خوش ہیں۔عامر غوری کے بیٹے عبدالرحمان کا کہنا ہے کہ مجھے اپنے والد پر فخر ہے وہ ایک سچے ہیرو ہیں۔عامر غوری تین بیٹوں، ایک بیٹی کے ساتھ ساتھ بیوہ بہن، ایک بیوہ بھابھی اور بھتیجوں کے واحد کفیل ہیں۔ان کے بیٹے کا کہنا ہے کہ ہم غریب خاندان سے تعلق رکھتے ہیں اور والد صاحب کے علاج کی سکت نہیں رکھتے۔ ان کے علاج اور مصنوعی ٹانگ اور مصنوعی ہاتھ لگانے کے لیے حکومت ہماری مدد کرے۔


