عزت اکیڈمی سمیت دیگربلوچی ادبی و ثقافتی اداروں کے مالی گرانٹس کی بندش قابل مذمت ہے،نیشنل پارٹی

پنجگور(یو این اے )نیشنل پارٹی کے مرکزی جوائنٹ سیکرٹری اور ایم این اے پنجگور کم کیچ پھلین بلوچ نے کہا ہے کہ بلوچی ادب، علم اور ثقافت ہمارے قومی اثاثہ ہیں اور ادبی ادارے ہمارے علمی و ثقافتی معاشرے کی قدریں اور بنیادیں بناتے ہیں لیکن عزت اکیڈمی سمیت دیگربلوچی ادبی و ثقافتی اداروں کے معمولی مالی گرانٹس کی بندش قابل مذمت ہے،حکومت بلوچستان کی طرف سے بلوچی اور دوسری مقامی زبانوں کے مقابلے میں کئی غیر مقامی زبانوں اور انگریزی جیسی زبانوں کو مالی اور اداراتی سرپرستی حاصل رہی ہے ۔ مگر بد قسمتی سے بلوچی زبان کے ادارے کئی دہائیوں سے اپنی مدد آپ کے تحت تحریری ادبی سرگرمیاں اور دیگر ثقافتی و ادبی سلسلے منعقد کرتے رہے ہیں. انتہائی محدود وسائل کے ساتھ ایسی سرگرمیوں کا جاری رکھنا تقریبا ناممکن ہے پھلین بلوچ نے مزید کہا کہ یہ ایک واضح حقیقت ہے کہ کسی زبان کے پھلنے پھولنے کیلئے انتہائی ضروری ہے کہ اسے حکومتی سرپرستی اور مالی امداد ملتی رہے جو سرکار کا عین فرض ہے اس اے آئی کے دور میں عزت اکیڈمی جیسے نامور ادارے ڈیجیٹل پلیٹ فارم پر منتقل ہونے کے لیے اپنے محدود وسائل میں کافی جدوجہد کررہی ہیں. یہ ڈیجیٹل کوششیں بلوچی زبان کی تاریخ میں وہ باب ہیں کہ جس میں داخل ہوکر دنیا کے دیگر مقامی یا خطرے سے دوچار زبانوں کے شانہ بہ شانہ بلوچی بھی اس انٹرنیٹ کے دور میں اپنی بقا کو قائم رکھ سکے گی۔ انہی اداروں کی بدولت بلوچی گوگل تراجم میں شامل ہوچکا ہے مگر افسوس کا مقام ہے کہ صوبائی حکومت کی بد نیتی اور ناقص پالیسیوں کی وجہ سے ایسے معتبر ادارے کے مالیاتی گرانٹ یا فنڈز میں ظالمانہ حد تک پابندی عائد کی گئی ہے . جو کہ نا صرف ایک قابل مذمت عمل ہے بلکہ بلوچی زبان کو خطرے سے دوچار کرنے کا ایک گھنانا سازش ہے . اسی طرح بلوچستان اکیڈمی کیچ اور دیگر بھی بلوچی زبان کی ترویج و اشاعت میں پیش پیش رہی ہیں. بلوچ اکثریتی صوبہ بلوچستان میں بلوچی زبان ایک واحد بشریاتی واسطہ ہے جو ہزاروں سالوں سے سیاسی، معاشی، ثقافتی، تاریخی اور تخلیقی تصورات کو الفاظ کی صورت میں محفوظ رکھے ہوئے ہے ۔ نیشنل پارٹی رھنما نے مزید کہا بلوچی کئی وجوہات کی بنا پر منفرد ہے مگر بلوچستان میں یہ واحد زبان ہے جو کثیر لسانی آبادی کی اکثریت میں بولی اور سمجھی جاتی ہے ۔ اگر تاریخی تناظر میں دیکھا جائے تو مختلف سامراجی اور نوآبادیاتی ادوار میں بھی اس کے بولنے والوں نے اسے زندہ رکھا۔ بلوچی کے بغیر بلوچستان کی ماضی کو سمجھنا، حال کو سدھارنا اور مستقبل کو سنوارنا ناممکن ہے ۔ عزت اکیڈمی پنجگور بلوچی زبان و ادب کی ترقی و ترویج کیلئے کام کرنے والے اداروں میں ایک معتبر اور سرگرم ادارہ ہے . اپنی مدد آپ کے تحت بلوچی زبان میں ہونے والی کئی تخلیقی، تحقیقی، ادبی اور اشاعتی کاموں میں ادبا، شعرا اور محققین کی معاونت کرتا آرہا ہے . اس ادارے کا کردار اہم ھے بلوچی زبان و ادب کیلئے اپنی خدمات سرانجام دینے اور بلوچی ادب کی خدمت کرنے والے دوسرے اداروں کی صفوں میں کئی دھائیوں سے استقلال سے کھڑی ہے . عزت اکیڈمی پنجگور نہ صرف بلوچستان بلکہ ملکی سطح پر ادبی حلقوں میں ایک مانوس نام بن چکی ہے . مگر افسوس کا مقام ہے کہ گزشتہ تین سالوں سے اسکے گرانٹ کی منظوری دی گئی تھی۔ عزت اکیڈمی پنجگور اس محدود رقم میں کتب کی اشاعت کیساتھ ساتھ ادبی پروگراموں کا انعقاد کرتی ہے . مگر حکومت بلوچستان نے اس سال کئی بلوچی اداروں کے فنڈز میں کمی کا اعلان کیا ہے جوکہ ان اداروں کے ساتھ سراسر زیادتی ہے اور ادب ،قلم و زبان کے ساتھ ظلم کی انتہا ہے . اس ظالمانہ تسلسل کو برقرار رکھتے ہوئے زند اکیڈمی نوشکی اور کئی دیگر کیگرانٹس میں بھی 50 فی صد کمی کی گئی ہے ۔ حکومت بلوچستان نے عزت اکیڈمی پنجگور کی چار دہائیوں پر محیط گراں قدر ادبی خدمات کو نظرانداز کرتے ہوئے ادارے کی سالانہ گرانٹ کو بالکل ہی بند کردیا ہے . پھلین بلوچ نے کہا کہ میں اس حکومتی ظلم کی پر زور مذمت کرتے ہوئے اسکے خلاف دوسرے اداروں کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑاہوں اور مطالبہ کرتا ہوں کہ فی الفور حکومت نہ صرف عزت اکیڈمی کے فنڈز کو بحال کرے بلکہ بڑھتی ہوئی ضروریات اور چیلنجز کا ادراک کرتے ہوئے اسمیں بہتراضافہ کرے . نیشنل پارٹی رھنما نے کہا ہم امید رکھتے ہیں کہ وزیراعلی بلوچستان اور حکومت کے مقامی نمائندگان بلوچی زبان جیسی قومی ورثے کو محفوظ رکھنے کے لیے سرکاری سطح پر اپنا کردار ادا کریں گے ، ورنہ تاریخ کے اوراق میں انہیں اچھے لفظوں میں بیان نہیں کیا جائے گا ،انہوں نے مزید کہا کہ نیشنل پارٹی ایک قوم پرست جماعت ھے اور اپنے تمام ادبی اداروں کی سرپرستی کرے گی اور زبان و ثقافت کی ترویج کے لیے اپنے سیاسی و اخلاقی دائرہ کار میں رہ کر کوئی کسر نہیں چھوڑے گی

اپنا تبصرہ بھیجیں