بیرون ملک پاکستانی قیدیوں کی تعداد 29 ہزار ہوگئی
اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک)ایوان بالاکی قائمہ کمیٹی برائے خارجہ امور کو آگاہ کیا گیا ہے کہ 18500 سے زائد پاکستانی سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کی جیلوں میں قیدہیں ،کمیٹی ارکان نے کہا ہے کہ پاکستان میں کسی بیرون ملک کا شہری گرفتار کرلیا جائے تو ان کا متعلقہ سفارتخانہ فورا حرکت میں آتا ہے ہمارے مشنز کو بھی پوری طرح متحرک ہونا چاہیے،کمیٹی نے فارن سروسز اکیڈمی ، ادارہ برائے ریجنل سٹڈیز ، ادارہ برائے اسٹیٹجک سٹڈیز کے حکام کی اجلاس میں عدم شرکت کو نوٹس لیتے ہوئے جواب طلب کرلیا ۔کمیٹی کا اجلاس چیئرمین کمیٹی سینیٹر عرفا ن الحق صدیقی کی زیر صدارت پارلیمنٹ ہاؤس میں منعقد ہوا ۔ قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں فارن سروسز اکیڈمی ، ادارہ برائے ریجنل سٹڈیز ، ادارہ برائے اسٹیٹجک سٹڈیز کے کام کے طریقہ کار اور کارکردگی کے علاوہ بیرون ممالک جیلوں میں قید پاکستانیوں کی تعداد، قیدیوں کے نام ، قیدیوںکے جرائم ،قید کی مدت کے علاوہ ان کی رہائی کے لئے حکومت کی جانب سے اٹھائے گئے اقدامات کے معاملات کا تفصیل سے جائزہ لیا گیا ۔قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں فارن سروسز اکیڈمی ، ادارہ برائے ریجنل سٹڈیز ، ادارہ برائے اسٹیٹجک سٹڈیز کے کام کے طریقہ کار اور کارکردگی کے امور کے حوالے سے متعلقہ اداروں کے سربراہان کی کمیٹی اجلاس میں عدم شرکت پر چیئرمین و اراکین کمیٹی نے سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے آئندہ اجلاس میں ان کی شرکت یقینی بنانے کی ہدایت کر دی ۔ اراکین کمیٹی نے کہاکہ پارلیمنٹ سپریم ادارہ ہے جس ادارے کے حوالے سے بریفنگ ہو ان کے ہیڈز کمیٹی اجلاس میں اپنی شرکت یقینی بنائیں ۔چیئرمین کمیٹی سینیٹر عرفان الحق صدیقی نے کہاکہ وزارت خارجہ امور کے متعلقہ سربراہان کی ذمہ داری تھی کہ متعلقہ اداروں کے ہیڈ زکی شرکت کو یقینی بناتے ۔ اگر پارلیمنٹرین ملک کے مختلف حصوں سے ملک کی بہتری کے لئے کمیٹی اجلاسوں میں شرکت کرتے ہیں تو متعلقہ اداروں کو بھی چاہیے کہ وہ اپنی ذمہ داری کو احسن طریقے اور سنجید گی سے لیں ۔چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ کمیٹی کو آگاہ کیا جائے کہ ان اداروں کے سربراہان کمیٹی اجلاس میںکیوں نہیں آئے اور وزارت خارجہ امور میں کس کی ذمہ داری تھی کہ ان کو پابند کیا جاتا۔ سینیٹر انوار الحق کاکڑ نے کہا کہ ایسے اداروں کو اس طرح کا رویہ نہیں رکھنا چاہیے پارلیمنٹ سپریم ادارہ ہے ۔ سینیٹر شیری رحمان نے کہا کہ یہ انتہائی اہمیت کی حامل کمیٹی ہے متعلقہ اداروں کے سربراہان کو اپنی شرکت یقینی بنا کر معاملات پر آگاہی دینی چاہیے تھی۔سینیٹر شیری رحمان نے مطالبہ کیا ہے کہ ہمارے سفارتخانوں اورمشنزکو بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کے مسائل حل کرنے کے لئے فعالیت کا مظاہرہ کرنا چاہیئے، ہم اپنا وقت نکال کر کمیٹی اجلاس میں آتے ہیں، سیکرٹری کی شرکت ضروری تھی ،ایڈیشنل سیکرٹری کی عزت ہے لیکن پارلیمنٹ کی زیادہ عزت ہونی چاہئے، اگر وزیر میسر نہیں تو سیکٹری وزارت خارجہ امور کو کمیٹی اجلاس میں آنا چاہیے تھا قائمہ کمیٹی کے ساتھ مذاق نہ کیا جائے۔ سینیٹرشیری رحمان نے کہا کہ پارلیمنٹ سب سے بالا ہے، ہر وزارت کے حکام کو اس کی عزت کرنی چاہیے۔انھوں نے کہا کہ میں ذاتی طور پر وزیر، سیکٹری اور دیگر حکام کی اپنی کمیٹی اجلاس میں موجودگی کو یقینی بناتی ہوں،کمیٹی اجلاس کو سنجیدگی سے لیا جائے، ایجنڈا پر جو معلومات فراہم کی گئی ہے اس سے زیادہ سینیٹ اجلاس میں سوالات کے جوابات میں فراہم کی جاتی ہے،کمیٹی کے ساتھ مذاق نہ کیا جائے،یہ کمیٹی میں پہلے چلا چکی ہوں۔شیری رحمان نے کہا کہ ہمارے سفارتخانوں اور کونسلیٹس کی ذمہ داری ہے کہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کے مسائل حل کریں۔ قائمہ کمیٹی کے چیئرمین نے سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ان اداروں کی بریفنگ کے ایجنڈوں کو آئندہ اجلاس تک ملتوی کرتے ہوئے متعلقہ اداروں کے سربراہان کی شرکت کو یقینی بنانے کی ہدایت کر دی ۔ بیرون ممالک جیلوں میں قید پاکستانیوں کی تعداد ،قیدیوںکے نام ، قیدیوںکے جرائم ،قید کی مدت کے علاوہ ان کی رہائی کے لئے وزارت خارجہ کی جانب سے اٹھائے گئے اقدامات کے حوالے سے چیئرمین کمیٹی سینیٹر عرفان الحق صدیقی نے کہا کہ افسوس کی بات ہے کہ ایجنڈے میں جو معلومات طلب کی گئی تھیں وہ بھی مکمل فراہم نہیں کی گئیں ۔ قائمہ کمیٹی اس معاملے پر انتہائی سنجیدہ ہے ۔ ایسا خصوصی ڈیسک بنانے کی ضرورت ہے جو صرف بیرون ممالک میں قید پاکستانیوں کے معاملات کو ڈیل کرے اور قیدیوں کے لواحقین سے رابطہ رکھے۔ وزارت خارجہ کے حکام نے قائمہ کمیٹی کو آگاہ کیا کہ زیادہ تر قیدیوں میں غیر قانونی طور بیرون ممالک میں رہائش اختیار کرنے والوں کی ہے ۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ جب تک ان کے مکمل کاغذات نہیںملتے نام ، جرائم اور دیگر تفصیلات نہیں بتائی جا سکتیں ۔ قائمہ کمیٹی کو بتایا گیا کہ پاکستان کے بیرون ممالک 87 مشنز سے قیدیوں کی کل تعداد 29065 بتائی گئی ہے جن میں سے 18500 سے زائد سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات میں ہیں ۔ اراکین کمیٹی نے کہا کہ اس معاملے کو پہلے بھی اٹھایا گیا ہے ۔ تمام قیدیوں کے نام اور تفصیلات حاصل کیے گئے تھے ۔ چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ اس کمیٹی کا سابقہ ریکارڈ بھی حاصل کیا جائے گا اور ایسے اقدامات اٹھائے جائیںگے جس سے بیرون ممالک قیدیوں کی رہائی میںمدد مل سکے۔ سینیٹر انوار الحق کاکڑ اور سینیٹر شیری رحمان نے کہا کہ بیرون ممالک میں قید پاکستانیوں کی اکثریت معمولی جرائم کی وجہ سے ہے ۔ موثر اقدامات اٹھانے سے قیدیوں کوان کے خااندن سے ملایا جا سکتا ہے ۔سینیٹر انوار الحق کاکڑ نے کہا کہ قائمہ کمیٹی خارجہ امور نے نہ صرف مانیٹرنگ کا کردار ادا کرنا ہے بلکہ دفتر خارجہ امور کو گائیڈ لائن بھی دینی ہے ۔ چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ اگر یہاں کسی بیرون ملک کے شہری کو گرفتار کیا جائے تو ان کا متعلقہ سفارتخانہ فورا حرکت میں آتا ہے ہمارے مشنز کو بھی پوری طرح متحرک ہونا چاہیے۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ یورپی ممالک میں پرائیوسی قوانین بہت زیادہ ہیں قیدیوں کی رضا مندی کے بغیر وہاں کی حکومتیں معلومات فراہم نہیں کرتیں۔چیئرمین واراکین کمیٹی نے کہا کہ وہ ممالک جن میں سینٹرل ایشیاو افریقہ وغیرہ شامل ہے وہاں کے قیدیوں کو ہماری بہت ضرورت ہے ۔ ان ممالک میں پاکستانی قیدیوں کی معلومات حاصل کی جائیں اور کمیٹی کو آگاہ کیا جائے ۔ چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ بیرون ممالک فارن مشنز نے قیدیوں کی رہائی کے لئے وہاں کی حکومتوں کے ساتھ کتنی خط وخطابت کی ہے اس کی تفصیلات سے کمیٹی کو آگاہ کیا جائے ۔ انہوں نے کہا کہ خاص طور پر سعودی عرب اور یو اے ای ممالک کے ساتھ قیدیوں کی رہائی کے لئے جو اقدام اٹھائے گئے وہ بھی آگاہ کیا جائے ۔ قائمہ کمیٹی نے اجلاس کو متعلقہ اداروں کے سربراہان کی عدم شرکت اور نا مکمل معلومات کی بناپر موخر کر دیا اور آئندہ اجلاس میں ان امور کا تفصیلی جائزہ لینے کا فیصلہ کیا ۔کمیٹی کے اجلاس میں سینیٹر مولاناعطاالرحمن ، سینیٹرروبینہ قائم خانی ، سینیٹر محمد عبدالقادر بھی شریک ہوئے ۔


