حکومت کیس ہار گئی ہے توپھر اس فیصلے پر عملدرآمد کرے، جسٹس سید منصورعلی شاہ
اسلام آباد(صباح نیوز) سپریم کورٹ آف پاکستان کے سینئر ترین جج جسٹس سید منصورعلی شاہ نے کہا ہے کہ حکومت کیس ہار گئی ہے توپھر اس فیصلے پر عملدرآمد کرے، یہ تونہیں کہیں گے کہ جب وزیر اعظم مانیں گے توہم عملدرآمد کریں گے،کیا نظرثانی درخواست دائر کی، اگر خارج ہوگئی توہم کیا کریں۔جسٹس سید منصورعلی شاہ کی سربراہی میں جسٹس نعیم اخترافغان اور جسٹس شاہد بلال حسن پر مشتمل 3رکنی بینچ نے جمعہ کے روز ڈائریکٹر جنرل ، فیڈرل ڈائریکٹوریٹ آف ایجوکیش، اسلام آباد اوردیگر کی جانب سے عرفان محمود، طیب حلیم سبحانی ، سید تجمل حسین بخاری، نجمہ، روبینہ کوثر، سید سجاد علی شاہ، حافظ عطاء الرحمان، مس خالدہ نسیم،عدیلہ تبسم، عطیہ کلیم انور، فرح سعید، لبنیٰ چوہدری، طاہرہ اختر، سعید الرحمان ، جاوید اقبال، طاہر اللہ، سلمیٰ خاتون اوردیگر کے خلاف سروس اورپینشن کے معاملہ پر عملدرآمد کے معاملے پر دائر 18درخواستوں پر سماعت کی۔ دوران سماعت ڈپٹی اٹارنی جنرل پیش ہوئے۔ سرکاری وکیل کاکہنا تھا کہ ہم نے پے پروٹیکشن کی حد تک توفیصلے پرعملدآمد کردیا ہے۔ جسٹس سید منصورعلی شاہ کاکہنا تھاکہ ہم فیصلے پر عملدآمد کامعاملہ دیکھ رہے ہیں، آئندہ سماعت پر آکر بتائیں ہم کیا کرسکتے ہیں۔ جسٹس سید منصورعلی شاہ کاکہنا تھا کہ ہم توعملدرآمد دیکھ رہے ہیں، حکومت کیس ہار گئی ہے توپھر اس فیصلے پر عملدرآمد کرے، یہ تونہیں کہیں گے کہ جب وزیر اعظم مانیں گے توہم عملدرآمد کریں گے، کیا نظرثانی درخواست دائر کی، اگر خارج ہوگئی توہم کیا کریں، یہ درخواست بالکل قابل سماعت نہیں۔ جسٹس منصورعلی شاہ کافیصلہ لکھواتے ہوئے کہنا تھا کہ کیس 2019میں دائر ہوا، 27جنوری2021کو سپریم کورٹ نے فیصلہ دیا اور 28فروری2022کو نظرثانی درخواست بھی خارج ہو گئی۔ عدالت نے درخواست ناقابل سماعت قراردیتے ہوئے خارج کردی۔جسٹس سید منصورعلی شاہ کا ڈپٹی اٹارنی جنرل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہنا تھا کہ اگر عملدرآمد کردیا ہے توآکر بینچ کو بتادیں۔


