سیلابی ریلوے کے باعث بند حب ندی کا متبادل راستہ بحال کردیا گیا

حب(یو این اے )حب ندی کا متبادل راستہ بھرائی کرکے بحال کردیا گیا یاد رہے کہ کچے کا یہ متبادل راستہ ایک سیلابی ریلے میں بہہ گیا تھا، جس کے بعد حب کا کراچی سے زمینی راستہ منقطع ہو گیا تھا حب ندی کازوے کے بہہ جانے سے نہ صرف ٹریفک کی روانی معطل ہوگئی تھی بلکہ تمام ٹریفک کو حب بائی پاس کی جانب موڑ دیا گیا تھا، جس سے شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ واضح رہے 2022 میں حب پل سیلاب میں ٹوٹ گیا تھا اور بلوچستان حکومت کی جانب سے پل کی تعمیر کا کام این ایچ اے کو دیا گیا تھا جو کام اب تک جاری ہے۔ ضلعی انتظامیہ کے مطابق حب ندی پل کا 86 فیصد کام مکمل کر لیا گیا ہے۔ اس منصوبے پر اب تک 1132 ملین روپے کی لاگت آ چکی ہے، شہریوں کا کہنا ہے کہ حب ندی پل نہ صرف کراچی کو بلوچستان سے براہ راست ملاتا ہے بلکہ بین الاقوامی گزرگاہوں سے بھی جوڑنے میں اہمیت کا حامل ہے انتظامیہ کا کہنا ہے کہ 488 میٹرز طویل حب ریور برج نہ صرف صوبہ بلوچستان کو سندھ سے جوڑتا ہے بلکہ حب کے قریبی انڈسٹریل یونٹس کے لئے ایک محفوظ راہداری بھی فراہم کرتا ہے۔سیلابی ریلے سے متاثر ہونے کے بعد 2022 میں تعمیراتی کام کا آغاز ہوا تھا اور یہ منصوبہ 546 دنوں میں مکمل ہونا تھا۔ انتظامیہ نے امید ظاہر کی تھی کہ پل کی تعمیر 30 جون تک مکمل ہو جائے گی تاہم پل کا کام مکمل نہ ہو سکا شہریوں اور مقامی حکام نے نیشنل ہائی وے اتھارٹی (این ایچ اے) پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ پل کی تعمیر میں تاخیر کی گئی ہے جس سے عوام کو بے پناہ مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ ان کا کہنا ہے کہ این ایچ اے نے تعمیراتی منصوبے میں لاپرواہی اور عدم توجہی کا مظاہرہ کیا ہے، جس کی وجہ سے پل کی بحالی میں غیر ضروری تاخیر ہوئی حب انتظامیہ نے کراچی آنے اور جانے والوں کو متبادل راستہ فراہم کیا تھا اور اب متبادل راستہ بحال کرنے سے شہریوں کو بڑی سہولت میسر آئے گی۔ تاہم، این ایچ اے کی جانب سے بروقت اقدامات نہ ہونے کی وجہ سے عوامی شکایات بڑھ گئی ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں