گوادر میں دھرنا 7ویں روز بھی جاری، کوئٹہ سمیت بلوچستان کے دیگرشہروں میں بلوچ یکجہتی کمیٹی کے احتجاجی مظاہرے
گوادر (انتخاب نیوز)بلوچ یکجہتی کمیٹی کا گوادر میں دھرنا 7ویں دوز بھی جاری ہے۔ بلوچ راجی مچی کے خلاف کریک ڈاؤن کے بعد گوادر مرین ڈرائیومیں دھرنا جاری ہے۔ اس حوالے سے بلوچ یکجہتی کمیٹی کا کہنا تھا کہ ایک جانب حکومت مذاکرات کا ڈھونگ رچا رہی تو دوسری جانب پاکستان بھر میں پرامن مظاہرین کے خلاف کریک ڈاؤن میں تیزی کا رجہان بڑ رہا ہے ، جس کے نتیجے میں بلوچستان میں دھرنا اور احتجاج میں شریک مظاہرین اور بلوچ یکجہتی کمیٹی کے رہنماؤں اور کارکنان پر کریک ڈاؤن سےمتعدد افراد جاں بحق اور زخمیوں اور درجنوں افراد کو گرفتار بھی کیا گیا ہے ۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ ایس ظالمنانہ کارروائیاں نسل کشی کے خلاف پرامن بلوچ تحریک کو دبانے کے حکومتی ارادوں کو ظاہر کرتی ہیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ اگر وہ سمجھتے ہیں کہ بلوچ عوام بنیادی انسانی حقوق اور وقار کیلئے اپنی جدوجہد ترک کر دیں گے تو وہ غلط ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم اس کے پرتشدد اور جابرانہ ہتھکنڈوں کے سامنے کبھی نہیں جھکیں گے۔جب تک آخری بلوچ بلو چ نسل کشی کیخلاف ثابت قد م ہے تحریک جاری رہے گی ۔ دوسری جانب نوشکی میں گزشتہ روز بلوچ یکجہتی کمیٹی کے کارکنان پر فائرنگ کے نتیجے میں1 نوجوان جاں بحق اور2 کے زخمی ہونے کے خلاف دھرنے کی وجہ سے کوئٹہ اور ایران سے متصل سرحدی شہر تفتان کے درمیان شاہراہ بند ہے۔بلوچ یکجہتی کمیٹی کے رہنما بیبرگ بلوچ کا کہنا ہے کہ گوادر میں بلوچ راجی مچی یعنی بلوچ قومی اجتماع کے موقع پر بڑی تعداد میں لوگوں کو گرفتار کیا گیا ہے جن کی رہائی تک ان کا پر امن احتجاج جاری رہے گا۔بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں بلوچ یکجہتی کمیٹی کے زیرے اہتمام دھرنا یونیورسٹی آف بلوچستان کے سامنے جاری ہے۔کوئٹہ شہر میں ریڈ زون کے راستوں کو بند کرنے کے لیے 27 جولائی کو جو کنٹینرز لگائے گئے تھے ان کو گزشتہ روز شام کو ہٹا دیا گیا تھا۔ تاہم چند گھنٹے بعد ان کو دوبارہ لگا دیا گیا ہے۔سرکاری حکام کے مطابق نوشکی میں ایک شخص کی ہلاکت اور دو افراد کے زخمی ہونے کے بعد مظاہرین نے ایک بار پھر ریڈ زون کی طرف پیش قدمی کی تھی اور اسی لیے راستوں پر کنٹینرز دوبارہ لگائے گئے ہیں۔بلوچ یکجہتی کمیٹی کے رہنما بیبرگ بلوچ نے نوشکی میں گزشتہ روز یکجہتی کمیٹی کے دھرنے پر فائرنگ کا الزام سکیورٹی فورسز پر عائد کرتے ہوئے کہا کہ پرامن احتجاج پر فائرنگ کا کوئی جواز نہیں تھا۔تاہم ڈپٹی کمشنر نوشکی امجد سومرو کے مطابق مظاہرین اور سیکورٹی فورسز کے درمیان جھڑپ کے باعث فائرنگ سے ایک شخص ہلاک اور دو زخمی ہوئے تھے۔کوئٹہ میں بلوچ کمیٹی کے رہنما بیبرگ بلوچ نے بتایا کہ اس واقعہ کے خلاف نوشکی میں کوئٹہ تفتان ہائی وے پر دھرنا جاری ہے۔ بیبرگ بلوچ نے بتایا کہ گوادر میں میرین ڈرائیو اور تربت شہر میں فدا شہید چوک پراحتجاج کا سلسلہ جاری ہے، جبکہ نوشکی اور رخشاں ڈویژن کے بعض علاقوں میں شٹرڈاؤن ہڑتال بھی ہو رہی ہے۔


