بی وائے سی کا حکومت سے معاہدہ ختم، گوادر میں دھرنا جاری رکھنے کا اعلان

گوادر میں دھرنا ساتویں روز میں داخل، 28 جولائی سے پدی زِر میرین ڈرائیو پر بلوچ یکجہتی کمیٹی کے زیراہتمام جاری راجی مچی دھرنا میں حکومت اور بی وائے سی کے درمیان گزشتہ دنوں طے پانے والا معاہدہ تعطل کا شکار ہوکر غیر مو¿ثر ہوگیا۔ بی وائے سی نے معاہدہ ختم کرنے اعلان کردیا۔ معاہدہ کے تحت کے گوادر ضلعی انتظامیہ نے گزشتہ روز تھری ایم پی او کے تحت 80 سے زائد گرفتار شدگان کو رہا کردیا تھا تاہم ایف آئی آر کے اندراج پر دونوں فریقین کے درمیان بداعتمادی پیدا ہونے کے سبب معاہدہ تعطل کا شکار ہوگیا۔ بعد ازاں آل پارٹیز کے اشرف حسین، ہوت غفور، سعید فیض ایڈووکیٹ، ماجد سہرابی نے دوبارہ دھرنا کیمپ میں جاکر معاملات کو خوش اسلوبی سے حل کرنے کی کوشش کی لیکن معاملات آگے نہیں بڑھ سکے۔ بعد ازاں راجی مچّی دھرنا کیمپ کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے بی وائے سی کی سربراہ ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ نے کہاکہ گزشتہ روز طے پانے والے معاہدے کو ختم کرنے کا اعلان کرتے ہوئے معاہدے کے دیگر نکات پر عملدرآّمد نہیں کیا جارہا، نیٹ ورک بحال نہیں کیے جارہے، سڑکیں اب بھی بند ہیں، اب بھی لوگوں کی بڑی تعداد لاپتہ ہے اور انہیں رہا نہیں کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ سرکار پہلے نیٹ ورک بحال اور سڑکیں کھول دے، پھر دوبارہ بااختیار لوگو سے مذاکرات کریں گے۔ دوسری جانب ہوم ڈپارٹمنٹ کے جاری نوٹیفکیشن کے تحت تھری ایم پی او میں تربت،پنجگور،گوادر ،کراچی اور صوبہ بھر کے گرفتار ش±دگان کو رہا کردیا گیا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں