سندھ ہائیکورٹ میں لاپتا افراد کی بازیابی سے متعلق درخواستوں کی سماعت

کراچی (انتخاب نیوز) سندھ ہائی کورٹ میں لاپتا افراد کی بازیابی سے متعلق درخواستوں کی سماعت کے دوران عدالت نے اپنے ریمارکس میں کہا ہے کہ جرائم پیشہ افراد غائب ہوتے ہیں اور مسنگ پرسن کی درخواستیں آجاتی ہیں، عدالت نے پولیس مقابلے میں مارے گئے شہری کے اہلخانہ کی معاوضے سے متعلق درخواست مسترد کردی۔ سندھ ہائی کورٹ میں لاپتا افراد کی بازیابی سے متعلق درخواستوں کی سماعت ہوئی۔ کراچی کے علاقے ڈیفنس سے 9 سال قبل لاپتا ہونے والے شہری عامر کے اہلخانہ نے مو¿قف اپنایا کہ متعلقہ اداروں میں جانے اور جے آئی ٹی میں پیش ہونے کے باوجود عامر کا کوئی سراغ نہیں مل رہا۔ سرکاری وکیل نے بتایا کہ محکمہ داخلہ نے معاوضے کی منظوری دے دی ہے۔ ملیر سے لاپتا اعجاز سے متعلق رپورٹ عدالت میں پیش کی گئی، سرکاری وکیل نے بتایا کہ اعجاز چشتیاں بہاولنگر میں پنجاب پولیس سے مقابلے میں مارا گیا ہے۔ ملزم کے خلاف سندھ میں 15 مقدمات درج تھے، اس کے علاوہ بلدیہ ٹاﺅن سے لاپتا فرحان قادری 2011 کے مقدمے میں اشتہاری ہے، ملزم فرحان کے خلاف تھانہ سعید آباد میں پولیس اہلکار کے قتل کا مقدمہ درج ہے۔ عدالت نے درخواست گزاروں پر برہمی کا اظہار کیا اور فرحان قادری کے اہلخانہ کے لیے معاوضے کی درخواست مسترد کردی۔ عدالت نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ اشتہاری ملزم کے لیے معاوضہ نہیں دیا جاسکتا، جرائم پیشہ افراد غائب ہوتے ہیں اور مِسنگ پرسن کی درخواستیں آجاتی ہیں، عدالت نے اغوا کے مقدمات سے متعلق مِسنگ پرسن کی درخواستیں بھی نمٹا دیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں