سینیٹ کی قائمہ کمیٹی کے اجلاس، ریپ کیسز میں سزا بڑھانے کے حوالے سے ترمیمی بل پیش
اسلام آباد(این این آئی)سینیٹ کی قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں ریپ کیسز میں سزا بڑھانے کے حوالے سے ترمیمی بل پیش کیا گیا جس پر سب کمیٹی بنانے کا فیصلہ کیا گیاجبکہ چیئرمین کمیٹی فیصل سلیم نے کہاہے کہ کمیٹی میں داخلہ، قانون اور انسانی حقوق کے نمائندے شامل ہوں گے ، کمیٹی 10روز میں اپنی رپورٹ دے گی۔تفصیلات کے مطابق سینیٹر فیصل سلیم کے زیرِ صدارت سینیٹ کمیٹی برائے داخلہ کا اجلاس ہوا جس میں سیکرٹری داخلہ، آئی جی اسلام اور ڈی سی اسلام آباد موجود تھے۔ اجلاس میں سینیٹر محسن عزیز کی جانب سے پیش کردہ پی پی سی میں ترمیم کا بل پر غور کیا گیا۔سینیٹر محسن عزیز نے کہا کہ ریپ کے حوالے سے سزا کو بڑھانے کی ضرورت ہے، ریپ کیسز میں سزا بہت کم ہے لہذا سخت سے سخت سزا دینا ہوگی، ایسے کیسز میں مجرم جب تک ذندہ ہے اسے جیل میں رہنا چاہیے۔سینیٹر ثمینہ زہری نے کہا کہ 50سال پرانے قوانین پر ہم چل رہے ہیں، اب ہمیں یہ ایسے قوانین میں تبدیلی کرنی چاہیے۔ سینیٹر محسن عزیز نے کہا کہ ایسے کیسز میں کم از کم 25سال سزا ہونی چاہیے۔سینیٹر شہادت اعوان نے کہا کہ ایک بندے کے مرنے تک جیل میں رکھنے کے جملے پر مجھے تحفظات ہیں لیکن ریپ ایک سنگین جرم ہے اس کی سزا سخت سے سخت ہونی چاہیے۔اسپیشل سیکرٹری قانون نے بتایا کہ معصوم بچے، ذہنی معذور یا معذور کے ساتھ ریپ کرنے والے کو سزائے موت کی سزا پہلے ہی قانون میں موجود ہے۔کمیٹی میں سینیٹر پلوشہ خان کی جانب سے انسداد دہشت گردی ترمیمی بل دوبارہ پیش کیا گیا۔سینیٹر پلوشہ خان نے کہا کہ پچھلے دنوں چینی وفود آئے اور ان پر حملہ ہوا جبکہ ایس سی او کانفرنس میں کیا ہوا سب نے دیکھا۔سیکرٹری داخلہ نے وضاحت دی کہ کراچی میں جو حادثہ ہوا وہ ایئرپورٹ کی حدود میں نہیں ہوا، اے ایس ایف کو ایئرپورٹ کی حدود میں چیکنگ سے کوئی نہیں روکتا، ایئرپورٹ پر لوگ بندوقیں لے کر نہیں آتے۔سینیٹر پلوشہ خان نے کہا کہ 9/11کے لیے بندوقیں ایئرپورٹ سے ہی لیکر گئے، اس بل پر اعتراض کیا ہے مجھے کوئی یہ سمجھائے۔ سینیٹر ثمینہ زہری نے کہا کہ اسلام آباد میں 4بینکوں میں ڈکیتیاں سب نے دیکھیں، ملک کے داخلی راستوں کو مزید محفوظ بنانے کی ضرورت ہے۔سینیٹر شہادت اعوان نے کہا کہ سول آرمڈ فورسز کے حوالے سے وزارت اپنا نوٹیفکیشن دیکھ لے۔ سینیٹر افنان اللہ نے کہا کہ اے ایس ایف کو اگر اختیارات ملیں تو وہ گرفتاریاں بھی کر سکیں گے۔کمیٹی میں نیشنل فارنزک ایجنسی بل کے حوالے سے بریفنگ دی گئی جس کے بعد کمیٹی نے نیشنل فارنزک ایجنسی 2024بل منظور کرلیا۔سینیٹر شہادت اعوان نے کہا کہ یہ اچھا بل ہے ہونا چاہیے اور یہ ایجنسی بہت پہلے بن جانی چاہیے تھی، چلیں دیر آید درست آید، اس بل میں آپ نے ایکسپریس کی تعریف نہیں لکھی۔پراجیکٹ ڈائریکٹر نے کہا کہ اس ایجنسی کو ایکٹ کے ذریعے ریگولر ایجنسی بنانا چاہتے ہیں، پاکستان میں جرائم بین الاصوبائی اور بین الاقوامی سطح پر بھی ہو رہے ہیں، ایجنسی اس حوالے سے انٹرنیشنل سطح پر بھی روابط قائم کر سکے گی۔سینیٹر شہادت اعوان نے کہا کہ یہ ایک اچھا ایکٹ ہے پہلے سندھ اور پنجاب میں موجود ہے، اس ایجنسی کی بہت دیر سے ضرورت تھی آپ نے دیر کر دی۔پراجیکٹ ڈائریکٹر نے بتایا کہ اس ایجنسی کی سالانہ رپورٹ وزیراعظم کو پیش کی جائے گی۔ سینیٹر شہادت اعوان نے کہا کہ سالانہ رپورٹ وزیراعظم کے ساتھ پارلیمنٹ کو بھی پیش کی جائے۔آئی جی اسلام آباد نے جرائم کی صورتحال پر کمیٹی کو بریفنگ دی۔ سینیٹر پلوشہ خان نے کہا کہ اسلام آباد میں بہت سی پرائیویٹ ہاؤسنگ سوسائیٹیاں ہیں اور ان سوسائٹیوں نے مسلح گارڈز رکھے ہوئے ہیں، یہ گارڈز چوریاں اور وارداتیں کرتے ہیں۔چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ اسلام آباد کو ہم اسلحہ فری کس طرح بنا سکتے ہیں؟ آئی جی اسلام آباد نے بتایا کہ میں اس پر بھی بریفنگ بنا کر لاوں گا اور آپ کو بتاوں گا۔


