انصاف میں تاخیر، انصاف سے انکار کے مترادف ہے، یوسف رضا گیلانی
ملتان(یو این اے) چیئرمین سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی نے جامعہ زکریا میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ انصاف میں تاخیر انصاف سے انکار کے مترادف ہے۔ انہوں نے اپنے خطاب میں اس بات پر زور دیا کہ انصاف کی بروقت فراہمی نہ صرف ایک حق ہے، بلکہ یہ معاشرتی انصاف اور ترقی کے لئے انتہائی اہمیت رکھتی ہے۔سید یوسف رضا گیلانی نے اس موقع پر کہا کہ ان کے لیے اس تقریب میں شرکت ایک اعزاز کی بات ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ آج کے دور میں ٹیکنالوجی، خاص طور پر آرٹیفیشل انٹیلی جنس (AI)، کا معاشرتی زندگی کے مختلف شعبوں میں گہرا اثر پڑ رہا ہے، اور اس کا اثر عدلیہ اور انصاف کے نظام پر بھی مرتب ہو رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ دیکھنا ضروری ہے کہ کس طرح ٹیکنالوجی کو انصاف کے حصول میں معاونت کے طور پر استعمال کیا جا سکتا ہے۔سینیٹ چیئرمین نے اس بات پر بھی روشنی ڈالی کہ آرٹیفیشل انٹیلی جنس صرف ایک نظریہ نہیں بلکہ ایک حقیقت بن چکی ہے، جو دنیا بھر میں مختلف شعبوں میں انقلابی تبدیلیاں لا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ قوانین کا مقصد معاشرے میں انصاف کے حصول کو یقینی بنانا ہے، تاہم پاکستان میں انصاف کا حصول اکثر پیچیدہ اور وقت طلب ہوتا ہے، جس کی وجہ سے مقدمات کئی سال تک التوا کا شکار رہتے ہیں۔سید یوسف رضا گیلانی نے اس بات پر زور دیا کہ انصاف میں تاخیر کا مطلب ہے کہ انصاف سے انکار کر دیا گیا ہے۔ اگر انصاف بروقت فراہم نہ ہو، تو یہ عوام کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی کے مترادف ہے، اور اس کا معاشرتی توازن پر منفی اثر پڑتا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ اگر ہم آرٹیفیشل انٹیلی جنس کا درست استعمال کریں تو یہ انصاف کی فراہمی کے عمل کو تیز اور مثر بنا سکتی ہے۔ البتہ، اس کے آغاز میں کچھ مشکلات کا سامنا ہو سکتا ہے، مگر عالمی سطح پر اس کے استعمال سے ملنے والے مثبت اثرات واضح ہیں۔ ان کا ماننا تھا کہ اگر صحیح طریقے سے اس ٹیکنالوجی کو اپنایا جائے تو پاکستان میں عدلیہ کے نظام میں بھی بڑی اصلاحات لائی جا سکتی ہیں، جو عوام کو بروقت اور معیاری انصاف فراہم کرنے میں مددگار ثابت ہوں گی۔


