مستقبل کا منظرنامہ
انور ساجدی
یہ جو وزیراعظم نے کشتیاں جلانے اور پیچھے مڑ کر نہ دیکھنے کی بات کی ہے سیاسی حلقے اس کا مطلب خوب سمجھتے ہیں وزیراعظم نے غیر فعال اور بیمار اپوزیشن خاص طور پر ن لیگ اور پیپلزپارٹی کو پیغام دیا ہے کہ انکے خلاف کرپشن کے مقدمات کو منطقی انجام تک پہنچایا جائیگا انہوں نے اپوزیشن کی بلیک میلنگ اورنیب کے قانون میں ترمیم کے بدلے میں این آر او مانگنے کی بات بھی کی ہے چہاراطراف مشکلات میں گھرے وزیراعظم کو اگرخوف نہیں ہے تو وہ اپوزیشن ہے کچھ عرصہ قبل شیخ رشید نے کہا تھا کہ جن لوگوں کو کام نکالنا ہے وہ اپنا کام خوب جانتے ہیں اس سے زیادہ واضح مگر غیرمہذب بات بوٹ والے فیصل واؤڈا نے ایک ٹی وی ٹاک شو میں بتائی تھی ان کا کہنا تھا کہ جب بھی ضرورت پڑے اپوزیشن کے اراکین دم ہلاتے ہوئے آئیں گے اورانگوٹھا ثبت کردیں گے بعد میں حالات نے یہی ثابت کیا توسیع کا معاملہ ہو اور فیٹف کے قوانین سے متعلق ترامیم ہوں اپوزیشن کی دونوں بڑی جماعتوں نے حکومت کا ساتھ دیا دونوں جماعتوں کی ظاہری مجبوری انکے خلاف بدعنوانی اور منی لانڈرنگ کے کیس ہیں۔حکمران حسب ضرورت نیب کو متحرک کردیتے ہیں اور نیب نئے ریفرنسز کے ساتھ پرانے مقدمات چلانا شروع کردیتا ہے جس سے خوفزدہ ہوکر دونوں جماعتیں حکام بالا سے وقتی ریلیف حاصل کرلیتے ہیں اور ان کا کہامانتے ہیں مجھے تو پکایقین ہے کہ اگر1973ء کے آئین کو بدل کر صدارتی نظام لانا ہو تو ن لیگ مقدمات کے خاتمہ کے بدلے میں یہ سودا کرنے پر بھی تیار ہوگی اگرزرداری پر لمبا ہاتھ ڈالا گیا تو ابتدائی انکار اورڈائیلاگ بازی کے بعد کوئی بعید نہیں کہ وہ بھی مان جائیں زرداری یقینی طور پر وفاقی اور صوبائی کارڈ کھیلیں گے لیکن بالآخر اس طرح سرنڈر کریں گے جس طرح انہوں نے کراچی اورجامشورو کی زمینیں ملک ریاض کے آگے سرنڈر کی ہیں آثار بتارہے ہیں کہ زرداری اور شریف خاندان کا جی ابھی تک کھربوں روپے کے مال ومتاع سے بھرا نہیں ہے۔وسطی لندن اور اطراف میں نوازشریف کے صاحبزادوں کی کئی درجن سے زائد قیمتی جائیدادیں ہیں جن کی مالیت کروڑوں پاؤنڈیعنی کھربوں روپے ہے لیکن کاروبار کے نام پر ان جائیدادوں میں مزید اضافہ ہورہا ہے میاں صاحب عمران حکومت کو جل دے کر ولایت گئے تھے اور وہاں ایون فیلڈ کے آرام دہ اپارٹمنٹ میں مزے کی زندگی گزاررہے ہیں میاں صاحب نے کوٹ لکھپت جیل کس طرح گزاری یہ وہی جانتے ہیں انکی نازک مزاجی کایہ عالم ہے کہ موجودہ گرمیوں کے آغاز میں انکے لندن اپارٹمنٹ میں ایئرکنڈیشن کاانتظام کیا گیا کیونکہ اس سال برطانیہ میں شدید گرمی پڑرہی ہے گزشتہ ہفتہ لندن میں درجہ حرارت37ڈگری تک جاپہنچا تھا ایون فیلڈ اپارٹمنٹ کیا ہے میاں صاحب کے دیگر فلیٹ ملاکر ایک محل نما پرتعیش رہائش گاہ تیار کرلی گئی ہے پرانے مالک کو ایرانی قالینوں کاشوق تھا ابتدائی تصاویریں ڈائننگ ہال میں لاکھوں پونڈ مالیت کا ایک بیش قیمت قالین نظرآرہا تھا جسے میاں صاحب نے وہاں سے اٹھادیا ہے شائد ان کا خیال ہے کہ یہ بیش قیمت قالین خراب نہ ہوجائے۔میاں صاحب کی تیمارداری کیلئے پارٹی کے سابق سینیٹرنہال ہاشمی جب لندن گئے تھے تو میاں صاحب نے اشارے سے انہیں اندرآنے سے منع کردیا تھا یعنی وہ اہم شخصیات کے سوا کسی کو اپنے محل کے اندر آنے کی اجازت نہیں دیتے میاں صاحب تو لندن میں سکون کی زندگی گزاررہے ہیں پیچھے انکے چھوٹے بھائی اورصاحبزادی سخت کرب میں مبتلا ہیں شہبازشریف اچھے خاصے لندن کی سیر میں مصروف تھے لیکن حکام بالا نے دھوکہ دے کرانہیں واپس بلایا پہلے وہ کرونا کاشکار ہوئے اب انہیں نیب کے مقدمات کا سامنا کرنا پڑے گا۔اسی طرح مریم بی بی کو بھی نیب نے طلب کرلیا ہے لگتا ہے کہ کسی کوبلانا ہے کس کے مقدمات شروع کرنے ہیں اسکی فہرست وزیراعظم ہاؤس سے آتی ہے کسی زمانے میں وزیراعظم صدر اور آرمی چیف پرمشتمل ٹرائیکا ہوتا تھا لیکن آج کل صدرآؤٹ اور چیئرمین نیب اس پاورگیم میں شامل ہیں۔اعلیٰ حکمرانوں اور نیب کے درمیان گٹھ جوڑ کوئی راز کی بات نہیں نیب کو باالکل اسی طرح استعمال کیاجارہا ہے جس طرح جنرل پرویز مشرف نے ق لیگ کی حکومت بنانے کیلئے استعمال کیا تھا لطف کی بات یہ ہے کہ موجودہ ق لیگ کو ڈرانے اور پابند کرنے کیلئے نیب کا استعمال کیاجارہا ہے حالانکہ ق لیگ حکومت کے ساتھ اتحاد ختم کرے تو پنجاب اور مرکز دونوں میں حکومت کی اکثریت ختم ہوجائے لیکن حکام بالاکو معلوم ہے کہ پارلیمنٹ میں اپنی اپنی جماعتوں کے وفادار کم اور اسکے وفادار زیادہ ہیں اس لئے جب تک وہ ساتھ ہیں حکومت گرانا مشکل ہے یہ بات عمران خان سے زیادہ کوئی نہیں جانتا اس لئے وہ بڑے دھڑلے کے ساتھ اپوزیشن کو تڑی لگاتے ہیں عمران خان جانتے ہیں کہ ان سے کونسے کام لینے ہیں وہ پیچھے مڑکر اس لئے نہیں دیکھ رہے کہ انہوں نے اقتدار کے بعد اس ملک میں رہنا نہیں ہے وہ آخری آرام گاہ کے طور پر لندن کا انتخاب کرچکے ہیں جب تک وہ چلے جائیں ان کا آراستہ وپیراستہ محل تیار ہوگا عمران خان کو یہ بھی معلوم ہے کہ انکے وزیراورمشیر جس جلد بازی سے زادراہ جمع کررہے ہیں اقتدار کے بعد کوئی نہیں بچے گا یہی وجہ ہے کہ وہ نیب کے اختیارات ختم کرکے اسے اس قابل نہیں چھوڑنا چاہتے کہ وہ بعد میں ان پرہاتھ ڈال سکے عمران خان کاآخری داؤ راوی گرینڈ سٹی ہے اس پر5کھرب روپے کا زرخطیر خرچ ہوگا اور بچت بھی کافی ہوگی آئندہ تین سال میں معیشت تو کوئی خاص نہییں ابھرے گی البتہ حکام بالا اپنا ایجنڈا مکمل کرنے کی کوشش ضرور کریں گے انکی کوشش ہوگی کہ سندھ اور بلوچستان کی ساحلی پٹی بشمول کراچی کو وفاق کے دائرہ کار میں لایاجائے اس سلسلے میں جو منصوبہ ہے سوشل میڈیا کے ذریعے اس کا شوشہ تفصیل کے ساتھ چھوڑا گیا ہے کراچی اور بلوچستان کے ساحل پر آبادی کے توازن کو کس طرح تبدیل کیاجائے یہ اسی پلان کا حصہ ہے یہ جو بحریہ ٹاؤن کے پروجیکٹ ہیں جن میں ایک ملین لوگوں کو بسانے کا پروگرام ہے یہ بھی ڈیموگرافک تبدیلی کا ایک حصہ ہے یہ تباہی کوئی اور نہیں زرداری اپنے ہاتھوں سے لائے ہیں انہوں نے کراچی اور دادو کی انتہائی قیمتی زمین ایک ایسے شخص کے حوالے کردی ہیں جو پیسے کے سوا کسی کے وفادار نہیں اگر یہ کہاجائے تو بے جانہ ہوگا کہ بحریہ ٹاؤن کی ہئیت یروشلم کی صیہونی بستیوں کی طرح ہے جہاں سے فلسطینیوں کو بے دخل کردیا گیا ہے اگر ملک ریاض کا تعلق راولپنڈی سے نہ ہوتا تو وہ اب تک جیل میں ہوتے لیکن میگا کرپشن کے باوجود وہ نہ صرف دندناتے پھررہے ہیں بلکہ مزید ہزاروں ایکڑ پر قبضہ کرتے چلے جارہے ہیں۔
مجرمانہ خاموشی پر برفت سردار کو سندھ کے عوام کبھی معاف نہیں کریں گے ایک افسوسناک بات یہ ہے کہ سندھی لیڈر کراچی کی زمینوں کوبلوچوں کی ملکیت سمجھ کر ملک ریاض کے حوالے کرنے پر خوش ہیں کیونکہ بلوچ کراچی کے اصل آبادی اور شہر کے آباد کرنے والی قوم ہے۔وہ غالباً بلوچوں کو بھی غیرسمجھتے ہیں اس لئے ڈیڑھ لاکھ ایکڑ زمین کے قبضے پرسندھی لیڈروں کا کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا اگرسندھی لیڈروں کی بے حسی یا مصلحت کا یہی عالم رہا تو کراچی کو سندھ سے علیحدہ کرنے کامنصوبہ مستقبل قریب میں ضرور کامیاب ہوگا اور یہ دعویٰ باطل ثابت ہوجائیگا کہ کراچی اور اسکی ساحلی پٹی سندھ کااٹوٹ انگ ہے حکمران پہلے ہی پی ٹی آئی کے نام پر کراچی کی بیشتر نشستوں پرقبضہ کرچکے ہیں جبکہ ایم کیو ایم کویہ لارا لپا دیا جارہا ہے کہ کراچی سندھ سے علیحدگی کے بعد انکے قبضے میں چلاجائیگا بعض حلقے بلوچوں کہ باور کرارہے ہیں کہ کراچی کے حوالے سے ان کے سماجی اور پیداواری رشتے یہاں کے لوگوں سے بنتے ہیں لہٰذا وہ ان منصوبوں کیخلاف آواز نہ اٹھائیں۔
سندھی رہنماؤں کو معلوم نہیں کہ کراچی کے سینئراور ممتاز بلوچ لیڈر یوسف مستی خان نے خاموش رہنے کے بدلے میں کروڑوں روپے کی آفر ٹھکرادی ہے ورنہ انکی باقی زندگی بھی مزے میں گزرتی وہ مالی کمزوری کے باوجود اپنے لوگوں کے ساتھ کھڑے ہیں کیونکہ وہ اپنی دھرتی کاسودا کرنا نہیں چاہتے آج تک سندھی قیادت نے کراچی آکر مقامی لوگوں سے ہمدردی کاایک لفظ نہیں کہا جس کے گاؤں گوٹھ اورقبرستان اجڑ گئے ہیں بھلا اس سے کڑا وقت کب آئیگا سندھی میڈیا مکھی مرجانے پر آسمان سرپر اٹھالیتا ہے لیکن ملیر گڈاپ اور جام شورو کی زمینوں کے مسئلہ پر اسے سانپ سونگھ گیا ہے دراصل یہ میڈیا ایک بڑا گھاٹے کا سودا کررہا ہے جس کی بھاری قیمت ادا کرنا پڑے گی۔
٭٭٭


