وے بخیر گزشت
جمشید حسنی
عیدیں خیریت سے گزر گئیں کورونا کا زور ٹوٹ رہا ہے کراچی اور لاہور بارشیں سیلابی کیفیت کچرہ قومی آفات کا دارہ کراچی شہر ہے۔کور کمانڈر اور ایف ڈبلیو او کی مدد سے کچرہ سے صاف کررہا ہے۔کراچی میں یومیہ بیس ہزار ٹن کچرہ پیدا ہوتا ہے دوسرے ملکوں میں کچرہ جلا کر بجلی پیدا کی جاتی ہے یہاں کچرہ سمندر،دریاؤں میں پھینک دیا جاتا ہے۔روای دریا میں لاہور کا کچرہ پھینک دیا جاتا ہے۔پلاسٹک کے تھیلوں کے استعمال پر ہم پابندی نہ لگا سکے۔عید پر لاکھوں جانوروں کی آلائشیں اس کے علاوہ ہیں۔راقم ڈائریکٹر جنرل ماحولیات رہا۔جاپان حکومت نے کچرہ ٹھکانے لگانے کے لئے لاہور میں تربیت کا بندوست کیا۔صوبائی حکومت کو تحفہ میں مشینری دی گئی۔جاپان میں بڑے بڑے گڑھے کھود کر کچرہ اس میں دبادیتے ہیں۔ہمارے ہاں عمران خان نے ماحولیات آلودگی کا شعور اجا گر کرنے بلین ٹری پروگرام شروع کیا ہے درختہفتہ مہینہ میں نہیں پلنا بڑھتا اس کی بلوغتکے لئے چار پانچ سال مدت اور حفاظت کی ضرورت ہوتی ہے۔ہمارے ہاں ہر سال درخت لگتے ہیں تقاریب تصاویر انہیں جانور اجارڑد یتے ہیں۔پانی کی کمی ہے جسٹس محمد ہاشم خان کیانی نے اپنی کتاب افکار پریشان میں لکھا یہاں سرکاری اعدوشمار کے مطابق جتنے درخت لگتے ہیں اگر یہ سب بچ جائیں تو ہمیں درختوں پر رہنا پڑے۔لکڑی کا استعمال حضر ت نوح نے طوفان کے لئے اسے کشتی بنانے میں کیا آج آبادی بڑھ گئی ہے جنگلات کم ہورہے ہیں۔یورپ امریکہ بڑے شہروں میں سر سبز پارک بنائے جاتے ہیں درخت لگائے جاتے ہیں ہمارے ہاں شہروں میں پارکوں پر بھی مافیا قبضہ کر لیتا ہے جنگلات موسم پر اثر انداز ہوتے ہیں تیل گیس کوئلہ کے استعمال سے گیسوں کے اخراج سے ماحول آلودہ ہوتا ہے کاربن ڈائی اکسائیڈ بڑھ گئی ہے اوراوزونگیس کی تہہ پتلی ہورہی ہے درخت کاربن ڈائی اکسائیڈ جذب کرتے ہیں اور آکسیجن خارج کرتے ہیں جنگلات میں انسانی صحت کے لئے دوائیوں میں استعمال ہونے والی جڑی بوٹیاں پائی جاتی ہیں۔ہند و ویدک حکیم اور چینی جڑئی بوٹیوں سے علاج کرتے ہیں۔
ذکر عید کا ہورہا تھا مسلمانوں کے تین مقدس تہوار ہیں چھوٹی عید عیدالفطر رمضان کے آخر میں اور عید الاضحی حج کے بعد منائی جاتی ہے عید میلاد النبی رسول اکرم ؐ کی پیدائش کا دن ہے۔عید الاضحی پر جانورکی قربانی دی جاتی ہے اس کے علاوہ محرم کے بڑے اجتماعات ہوتے ہیں تکر یہ غم انگیز ہوتے ہیں۔حضرت امام حسین کو میدان کربلا میں شہید کیا گیا مسلمان دو فرقوں شیعہ سنی میں بٹ گئے۔ہندوؤں کے تہوار دیوالی ہولی بسنت ہوتے ہیں۔ہولی بہار کی علامت ہوتی ہے ایک دوسرے پر رنگ پھنکے جاتے ہیں دیوالی میں چراغ جلائے جاتے ہیں۔عیسائیوں کا تہوار کرسمس ہوتا ہے۔کرسمس حضرت عیسیٰ کی پیدائش کا دن ہے اس کے علاوہ گڈ فرائی ڈے اور ایسٹر ہوتا ہے۔ایسٹر بہار کی اور نئی زندگی کی علامت ہوتا ہے اس کا نشان انڈہ اور خرگوش ہوتا ہے۔خرگوش بہار میں سب سے پہلے نکلنے والا جانور ہوتا ہے۔امریکن سال کے آخر میں برداشت کے بعد ٹھینکس یا شکریہ ادا کرتے ہیں ٹرکی کو ذبح کو کرتے پکایا جاتا ہے دعوت ہوتی راقم امریکن دوستوں کے ہاں دعوت میں دوبار شریک ہوا گوشت بہت پھیکا ہوتا ہے۔
یہودوں کا یاس اوور ہوتا ہے یہ یہودیوں کے مصر فرار ہونے کا دن ہے یہودی راتوں رات فرار ہوتے ہیں اور آٹا بھی خمیر نہ کرسکے چنانچہ یاس اوور میں ان کیونڈ بریڈ یا خمیر روٹی کھائی جاتی ہے۔
چین دنیا سے الگ تھلگ رہا ہے بدھ مت جاپان منگولیا تک گیا۔بدھ مت سے پہلے ان کے تہوار کیا تھے راقم کیمعلومات ناقص ہیں۔جاپان میں شنٹوازم ہے۔عبادت گاہ نہیں ہوتی گھر میں چھوٹی سی میر پر کھانے پینے کی اشیاء رکھ کر اس کے سامنے عبادت کی جاتی ہے۔جاپان کے اصلی باشندے آئینو ہیں آج کل شمال تک محدود ہیں ان کے سر داڑھی جسم کے بال گھنے ہوتے ہیں آج بھی طرز زندگی روایتی ہے روسی اگر چہ آرتھوڈ کس عیسائی ہیں عیسائیت سے پہلے کے ان کے تہواروں کا علم نہیں۔
وسطی امریکہ چیلی پیرو انکا تہذیب تھی یہ سورج کی پرستشکرتے تھے۔مصر میں بافراغہ خود دا بنے بیٹھے تھے آسٹریلیا کے الورجنی وحشی تھے۔امریکہ کے اصلی باشندے ریڈ انڈین تھے امریکہ میں انہیں مخصوص آبادیوں تک محدود کرددیا گیا۔
مذہب عقل وجذبات کا امتزاج ہوتا ہے جذبا ت کے اخراج اور اظہار کے لئے تہواررسومجشن ضروری ہوتی ہیں بدھ ہندو یو گا کرے گا۔عیسائی یہودی مسلمان عبادت کرے گا۔دوسرا مطلب کائنات کی خوشنودی اور ہم آہنگی ہے۔غیض وغضب سے بچنے کے لئے قربانی کی جاتی ہے تہوار معاشرتی صرفت ہیں۔کچھ مذاہب موسیقی کو جائز سمجھتے ہیں ہندوؤں کے مندر کی دیو واسیوں کو باقاعدہ رقص موسیقی کی تربیت دی جاتی ہے عیسائیت میں بھی گنجائش ہے اسلام میں اس کی اجازت نہیں بعد میں تصوف کے قادریسہروردی مکتبہ فکر نے قوالی کی گنجائش نکالی ہے نقشبندی موسیقی کی اجازت نہیں دیتے شیعہ مسلک بھی موسیقی کی حوصلہ افزائی نہیں کرتا۔
بہر حال عید گزر گئی خدا کرے کورونا سے بھی جان چھوٹے اپنا خیال رکھیئے۔


