پاکستان ہی ہمارا مستقبل ، لاحاصل جنگ سے کچھ حاصل نہیں ہوگا ،سرفراز بگٹی
چاغی(یو این اے )وزیر اعلی بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے نوکنڈی عوامی اجتماع سے خطا ب کرتے ہوئے کہا آج میں اس سرزمین پر کھڑا ہوں بلوچستان میں جس طرح کے حالات رہے ہیں ان قبائل نے نہ صرف بلوچستان بلکہ پاکستانی ریاست سے جڑے رہے ہیں اور مضبوط کردار ادا کیا ہے ۔یہ جو بلوچستا ن کے موجودہ حالات ہیں ہمیں بحثیت بلوچ کس منزل کی طرف دھکیلا جارہا ہے کیا یہ منزل حاصل کی جاسکتی ہے جس جنگ کی طرف ہمیں مسلط کی جارہی ہے جس جنگ کی بنیادی وجوہات بتاہی جارہی ہے،پاکستان ہی ہمارا مستقبل ، لاحاصل جنگ سے کچھ حاصل نہیں ہوگا، یہ جنگ یہ بندوق کھبی بھی مسلے کا حل نہیں ہے بحیثیت بلوچ بحیثیت بلوچستان آج تک ہمیں جو حقوق ملے ہیں وہ تاریخی طور پر پارلیمنٹ سے حاصل کی جاسکی ہے ہمیں پارلیمنٹ نے وہ حقوق دیئے ہیں چائے وہ ہمارا صوبہ ہوں ون یونٹ کا خاتمہ ہوں چائے وہ اٹھارویں ترمہم ہوں ۔انھوں نے مزید کہا یہ جو بندوق کے ذریعے ہم پر اپنا نظریہ مسلط کی جارہی ہے اور اسے قوم پرستی کا نام دیا جارہا ہے یہ انتہائی نامناسب عمل ہے بندوق سے ہمیشہ بھوک اور افلاس وجود میں آیا ہے بندوق سے کھبی خوشحالی نہیں آسکتی ہے اگراس بندوق کے ذریعے بلوچستان آزاد ہوسکتا ہے اسکا جواب نفی میں ہے بندوق کے ذریعے ریاستیں ٹوٹا نہیں کرتے وہ بھی ایک منظم ریاست جو ٹوٹ ہی نہیں سکتی ہے ۔انھوں نے مزید کہا ہم بندوق کی بجائے یہ کہہ دیں کہ ہمارے پاس ترقی نہیں ہے یہ بات درست ہیں بلوچستان میں وہ ترقی نہیں ہے جو بلوچستان کا حق ہے لیکن یہ مسلہ صرف بلوچستان کا نہیں ہے غور سے دیکھے یہ پورے پاکستان کا مسلہ ہے اسکا مثال یہ ہے جو ترقی کوئٹہ می ڈیولپ ہوئی ہے کیا وہ چاغی میں ہوئی ہے اس طرح کے مسائل بہت سے دیگرممالک میں بھی ہے اور انکے دور دراز علاقوں میں ہے جیسے بلوچستان کا سب سے لمبا واٹر سپلائی نوکنڈی کا ہے جو اسی کلو میٹر ہے ،انھوں نے مزید کہا بلوچستان کے پاس اس وقت جو وسائل ہے وہ دوسو دس ارب روپے کے قریب ہیں اس حکومت سے قبل ان پیسوں کو خرچ کرنے کی قابلیت نہیں تھی وہ یہ پیسے بھی خرچ نہیں کرتے تھے یہ پیسے بلوچستان کے ان دوردراز علاقوں کے لوگوں کے امانت تھے جو ہمارے حکمران نمائندے بیوروکریسی خرچ نہیں کرتے تھے انشا اللہ پہلی دفعہ ہماری حکومت ان پیسوں کو خرچ کریگا سو فیصد خرچ نہ کرسکیں 90 فیصد ضرور گراونڈ پر خرچ کرینگے انھوں نے مزید کہا ہم نے بلوچستان کے لوگوں کو وہ ترقی نہیں دی ہے جو بلوچستان کے لوگوں کا حق بنتا ہے لیکن ہماری حکومت نے ایک اسکالر شپ پروگرام شروع کیا ہے بلوچستان کا جو بچہ دنیا کے سو یونیورسٹی ہم نے سلیکٹ کی ہے وہ جہاں بھی پی ایچ ڈی کرنا چاہتا ہے جاکر کریں بلوچستان حکومت اس کے تمام اخراجات برداشت کریگی بچے جاکر وہاں پی ایچ ڈی کریں واپس آکر اپنے لوگوں کی خد مت کریں ۔انھوں نے مزید کہا اس کے علاوہ بلوچستان کے تمام اضلاع کے دس بچے اور بچیاں جو میٹرک ٹاپ کی ہے وہ ڈاکٹر بننا چاہتے ہیں انجینئر بننا چاہتی ہے اگلے 16 سال تک حکومت بلوچستان اس کو اسکالر شپ دیگی ۔ وزیر اعلی بلوچستان نے مزید کہا ہماری حکومت نے بلوچستان کے تیس ہزار بچوں کو مختلف شعبوں میں پہلے ہنر سکھائینگے ٹرینگ دینگے اور پوری دنیا میں انکو بھیج دینگے ایک تو دنیا دیکھ لینگے وہاں کاروبار کرکے اپنے ملک میں پیسے بھی بھیج دینگے اور باہر بھیجنے والوں کو بلوچستان بھر سے یکساں بنیاد پر سلیکٹ کرینگے ۔انھوں نے مزید کہا 80 ارب روپے حکومت بلوچستان ہیلتھ ڈیپارٹمنٹ کو دیتی ہے کہ وہ بلوچستان کے لوگوں کا علاج کریں لیکن جب ہم ان کو ٹھیک کرنے کی کوشش کرتے ہیں وہ زندہ باد مردہ باد لگانا شروع کرتے ہیں اور ہڑتالیں کرتے ہیں ہم صرف یہ کہتے ہیں کہ 80 ارب روپے کے بدلے آپ لوگ بلوچستان کے لوگوں کا علاج کریں اور ہیلتھ ڈیپارٹمنٹ والے خود اپنا علاج آغا خان میں کرتے ہیں ریکارڈ موجود ہیں کسی نے تو ہیلتھ ڈیپارٹمنٹ کو ٹھیک کرنا ہے ہم نہیں چاہتے ہیں ہم اسی ارب بھی خرچ کریں اور ہمارے ہسپتال بھی ویران ہوں انھوں نے مزید کہا اب جس کسی کو سرکاری ملازمت کرنی ہے اسے سرکاری ڈیوٹی کرنی ہوگی چائے اس کی ڈیوٹی کہیں پر بھی ہوں انھوں نے مزید کہا چاغی کے جس یونین کونسل میں اسکلول نہیں ہے ہم ان یونین کونسل میں پرائمری ،مڈل اور ہائی اسکلو ل بنادینگے اور اسی یونین کونسل کے لوگوں کو کنٹریکٹ بنیاد پر بھرتی کرینگے دالبندین ہسپتال کا کوٹہ ایک کروڑ سے بڑھا کر دوکروڑ کردینگے ۔انھوں نے مزید کوئی بھی سرکاری نوکری نہیں بھکے گی سب میرٹ پر ہونگے اور دانش اسکول فیڈرل بنا دیگا اگر وہاں سے نہیں ہوا اگلے بجٹ میں سب سے پہلے دالبندین میں بنادونگا انھوں نے ضلع کونسل کے لیئے 15 کروڑ روپے کا بھی اعلان کردیا وزیر اعلی بلوچستان نے مزید کہا ریکودک ،سیاہ دک اور بڑی بڑی ملٹی نیشنل کمپنیاں کام کررہے ہیں اب کام شروع ہوچکا ہے سب سے پہلے مقامی لوگوں کا حق ہے اور مقامی لوگ ہی مستفید ہونگے ۔وزیر اعلی بلوچستان کے ہمراہ صوبائی وزیر شعیب نوشیروانی، ایم این اے انجینیر عثمان بادینی ،سینیٹر دنیش کمار ,کمشنر رخشان نجبیب قمبرانی، ڈپٹی کمشنر چاغی عطا المنیم، ڈی آئی جی پولیس ودیگر آفسیران تھے وزیر اعلی بلوچستان سابق مشیر میر اعجاز خان سنجرانی کی دعوت پر نوکنڈی آئے تھے تقریب سے میر اعجاز خان سنجرانی، ڈسڑکٹ چیئرمین میر عبد الودود خان سنجرانی، وائس چیئرمین میر اسفندیار خان یار محمد زئی نے خطاب کیا وزیر اعلی بلوچستان کو چاغی کے جملہ مسائل سے اسے آگاہ کیا اور انکا شکریہ ادا کیا تقریب میں ضلع بھر سے قبائلی عمائدین اور پیپلزپارٹی کے ضلعی زمہدارانے بھی شرکت کیا اور وزیر اعلی کو چاغی آنے پر خوش آمدید کہا اور انکا شکریہ ادا کیا ۔


