آبیل مجھے مار – انور ساجدی
انور ساجدی
جب سے حکومت نے سعودی عرب سے تعلقات میں بگاڑ کا عندیہ دیا ہے۔ہوا کے رخ پر چلنے والے اینکر حضرات اور سوشل میڈیا کے شاہ سواروں نے سعودی عرب کیخلاف ایک طوفان کھڑا کردیا ہے۔70سال کے تعلقات میں ایسے کیڑے نکالے جارہے ہیں جیسے سعودی عرب شروع سے ہی پاکستان کا دوست نہیں دشمن تھا یہ عناصر وہ اربوں ڈالر بھی بھول گئے جو سعودی عرب نے افغان جہاد کیلئے جنرل ضیاؤ الحق کے ہاتھوں میں رکھے تھے اگرچہ اس جنگ نے افغان عوام کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا تھا بے شمار جانی نقصان ہوا تھا لیکن اسکے نتیجے میں سینکڑوں اعلیٰ عہدیدار راتوں رات پیٹرو ڈالروں میں کھیلنے لگے تھے یہ جو برطانیہ،امریکہ اور دوبئی میں سرفلک عمارتیں شاندار محفل اور ولاکہاں سے خریدے گئے؟یقینا سعودی ڈالروں نے اس سلسلے میں اہم کرداراداکیاتھا ہمارے طبقہ علماء نے بھی خوب فائدہ اٹھایا تھا پہلے بیشترکی زندگی مسجد کے حجروں میں بسر ہوتی تھی بعدازاں ان کا معیار زندگی کافی بلندہوگیا اور وہ بھی بنگلوں،محلوں اور فارم ہاؤسزمیں آگئے سیاسی علماء تواپنی جگہ سادہ زندگی کادرس دینے اور آخرت کی فکر کرنے والے طارق جمیل اور انکے ساتھی بھی لینڈکروزروں سے کم گاڑیوں میں سفر نہیں کرتے یہ تمام آسائشیں اور مہربانیاں سعودی عرب کی امداد خیرات اور بخشش کانتیجہ ہیں یہ جو ضیاؤ الحق اور بعدازاں جنرل پرویز مشرف نے ملاملٹری الائنس بنایا تھا یہ بھی پیٹرو ڈالروں کومل بانٹ کر کھانے کا اتحاد تھا۔1970ء کے عام انتخابات میں سب سے بڑی مذہبی جماعت علامہ شاہ احمد نورانی کی جمعیت علمائے پاکستان بن کر ابھری تھی لیکن افغان جہاد شروع ہونے کے بعد بریلوی مکتبہ فکر سکڑگیا اور اچانک سلفی مسلک چھانے لگا سعودی فنڈز سے پاکستان کے طول وعرض میں مساجد کا جال بچھ گیا اور دیکھتے ہی دیکھتے سعودی مکتبہ فکر چھا گیا ضیاؤ الحق اور مشرف کے دور میں سعودی عرب نے پاکستان کے اندرونی معاملات میں بھی دخل اندازی شروع کردی اور فارن پالیسی کو بھی ڈکٹیٹ کرنے لگا البتہ نائن الیون کے سانحہ نے سعودی عرب کے فلسفہ جہاد اسکے جہادہ فلسفہ کے روح رواں اسامہ بن لادن کوشدید نقصان پہنچایا کیونکہ ٹون ٹریڈ ٹاورز پرحملے میں ملوث بیشتر افراد کا تعلق سعودی عرب سے تھا اگراس وقت امریکہ کے آگے سعودی عرب کھربوں ڈالر نہ رکھتے تو امریکہ اسکی اینٹ سے اینٹ بجادیتا لیکن امریکہ نے سارا غصہ غریب افغانستان پرنکال دیا اس ملک کو تورا بورہ کردیا۔
اسامہ کامنصوبہ تھا کہ افغانستان پرقبضہ کرکے اسے دوسرا سعودی عرب بنادیا جائے موصوف پاکستان کی سیاست میں بھی مداخلت کرنے لگے تھے1990ء میں محترمہ بینظیر کیخلاف دائیں بازو کے اسلامی اتحاد کی تحریک عدم اعتماد کی انہوں نے مالی مدد بھی کی تھی یہ جو الزام ہے کہ میاں نوازشریف نے پاکستان میں کرپشن کرکے لندن کے ایون فیلڈ اپارٹمنٹ خریدے تھے میرذاتی خیال ہے کہ یہ اپارٹمنٹ ان رقومات سے خریدے گئے تھے جواسامہ بن لادن نے بینظیر کیخلاف فراہم کی تھیں البتہ حسن اور حسین نوازنے جو باقی جائیدادیں خریدیں ممکن ہے کہ وہ پاکستان کے اندر کرپشن کے پیسے کے ذریعے خریدی گئی ہوں۔
سعودی فرمان رواشاہ عبداللہ نے نوازشریف اور پرویز مشرف کو کروڑوں ڈالر بخشش کے طور پر بھی دیئے تھے سعودی شاہی خاندان نوازشریف پراتنامہربان کیوں تھا آج تک اسکی تحقیق نہیں ہوئی ایک وقت آئیگا جب سعودی عرب کی خفیہ ٹیکنالوجی کا کھوج لگایاجائیگا تب یہ عقدہ کھلے گا بعض حلقوں کا خیال ہے کہ جنرل پرویز مشرف نے بھی یہ تعاون جاری رکھا تھا انہوں نے تو بذات خودیہ اعتراف کیا تھا کہ شاہ عبداللہ نے لندن میں آدھی رات کو ان کا اکاؤنٹ کھلوایا تھا جس میں بھاری رقم جمع کروائی تھی ان پیسوں سے مشرف نے لندن کے پوش علاقہ ایجویرروڈ پر اپنا پہلا فلیٹ30لاکھ پاؤنڈ میں خریدا تھا جو پاکستانی 60کروڑ روپے بنتے ہیں غالباً انہوں نے دوبئی کاولا بھی شاہی پیسوں سے خریداتھا۔
آج پرویز مشرف معصوم بنتے ہیں کہ انہیں معلوم نہیں تھا کہ اسامہ بن لادن ایبٹ آباد میں ہیں لیکن یہ ممکن نہیں ہے کہ اتنے بااختیار حکمران کو اسامہ کا اتہ پتہ معلوم نہ ہو لگتاہے کہ وہ ڈبل گیم کھیل رہے تھے ایک طرف امریکہ سے کویشن سپورٹ فنڈز لے رہے تھے اور دوسری طرف اسامہ کو چھپاکر مناسب وقت پر انہیں کیش کرنا چاہتے تھے اگرکبھی ڈاکٹر قدیر خان عالمی برادری کے ہاتھ بگ جائیں تو وہ کئی پاکستانی حکمرانون کے قیمتی رازوں سے پردہ اٹھاسکتے ہیں یہی وجہ ہے کہ کسی پاکستانی حکمران نے ڈاکٹرقدیرخان کو امریکہ کے حوالے نہیں کیا۔
سعودی عرب کو پاکستان کی خارجہ پالیسی ڈکٹیٹ کرنے کااختیار خود یہاں کے حکمرانوں نے دیا تھا البتہ زرداری کو شاہی خاندان پسند نہیں کرتا تھا اس لئے انکے دور میں دوطرفہ تعلقات سردمہری کاشکار رہے اسی وجہ سے زرداری نے ایران سے تعلقات بڑھائے تھے اور گیس پائپ لائن کامعاہدہ کیا تھا لیکن نوازشریف نے آتے ہی یہ معاہدہ سردخانے میں ڈال دیا ہوسکتا ہے کہ آئندہ چل کر عمران خان اس معاہدے پر عملدرآمد کریں دلچسپ امر یہ ہے کہ معاہدے کی روسے پاکستان کو8ارب ڈالر بطور حرمانہ ایران کو دینا ہے لیکن ایران نے ابھی تک صبر سے کام لیا ہے ورنہ وہ بھی عالمی عدالت سے رجوع کرسکتا ہے کہ یہ کیس جیت بھی سکتاہے۔
نوازشریف جب2013ء میں برسراقتدار آئے تو سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات سے انکے تعلقات کشیدہ ہوگئے تھے کیونکہ نوازشریف نے ترکی کی طرف رخ کرلیا تھا اور ایک عالمی ادارہ کے انتخاب میں یو اے ای کی بجائے ترکی کو ووٹ دیا تھا یہی وجہ ہے کہ جب شہزادہ محمد بن سلمان نے اقتدار سنبھالا تو انہوں نے ان تمام غیر ملکی شخصیات سے بخشش کی وہ رقومات واپس مانگ لیں جو شاہ عبداللہ نے دی تھیں انہوں نے لبنان کے وزیراعظم سعدحریری کوکئی دن تک حراست میں بھی رکھا تھا اور 2ارب ڈالر واپس لینے کے بعد ہی انکی جان خلاصی ہوئی تھی نوازشریف نے ادائیگی کیلئے مہلت طلب کی تھی اور یہ ثابت کیاتھا کہ انکو دی جانے والی رقم بہت زیادہ نہیں تھی غالباً انہوں نے کوئی ٹھوس گارنٹی بھی دی تھی جس کے بعد ان پر زور نہیں دیا گیا نوازشریف سے ناراضگی کی سب سے بڑی وجہ یہ تھی کہ نام نہاد اسلامی فوج کیلئے انہوں نے پاکستانی دستے طلب کئے تھے لیکن راحیل شریف نے یمن کی جنگ میں حصہ لینے سے منع کردیا تھا جس پر نوازشریف نے پارلیمنٹ کا سہارا لیا تھا اور جوازپیش کیا تھا کہ پارلیمنٹ نے یمن کی جنگ میں جگہ لینے سے منع کردیا ہے تاہم راحیل شریف نے پارلیمنٹ کے فیصلے کو نظرانداز کرکے سعودی اتحادمیں شامل ہونے کافیصلہ کیا یہی وجہ ہے کہ انہیں اتحاد کی کمانڈر انچیف بنایاگیا یہ الگ بات کہ سعودی عرب کویمن اور شام میں وہ کامیابی حاصل نہ ہوسکی جس کی اسے امید تھی۔
شہزادہ محمد نے آکر اپنی سلطنت کی پوری پالیسی تبدیل کردی کیونکہ انہیں معلوم تھا کہ پیٹرول کا دورختم ہورہا ہے مستقبل میں سعودی عرب کو دیگر ذرائع پر اکتفا کرنا پڑے گا اور اپنی اکانومی کو فروغ دینے کیلئے سیاحت کو فروغ دینا پڑے گا جبکہ ذرائع آمدن بڑھانے کیلئے باہر کے ممالک میں سرمایہ کاری کرنا پڑے گی اس پالیسی کے تحت ولی عہد نے انڈیا کاانتخاب کیا انکے خیال میں انڈیا سعودی سرمایہ کاری کیلئے سب سے مفید ملک ہے چنانچہ آرامکونے مکیش امبانی کے ریلائنس گروپ کے ساتھ ایک سو ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کا معاہدہ کرلیا اسکے علاوہ سعودی عرب انڈیا کے رئیل اسٹیٹ اور مختلف شعبوں میں بھی دلچسپی لے رہا ہے انڈیا کے مقابلے میں پاکستان سعودی عرب کوحالت جنگ میں مدد فراہم کرسکتا ہے اور سیکیورٹی ایشوز میں ہاتھ بٹاسکتا ہے جبکہ وہ اسے مالی فائدہ نہیں پہنچاسکتا بلکہ الٹا امداد اور قرضے مانگتا رہتا ہے شہزادہ محمد نے2018ء میں پیشکش کی تھی کہ وہ مسئلہ کشمیر پر ثالثی کاکردارادا کرے گا لیکن دونوں طرف سے گر مجوشی کامظاہرہ نہیں کیا گیا برہان والی کے قتل کے بعد جب مقبوضہ کشمیر کے حالات خراب ہوگئے تو پاکستان نے بہت کوشش کی اسلامی کانفرنس میدان میں آئے اور انڈیا کی مذمت کرے لیکن سعودی عرب نے ایسا نہیں کیا بلکہ مودی کو ریاض بلاکر سب سے بڑے اعزاز سے نوازا متحدہ عرب امارات تو اس سے پہلے مودی کو قومی اعزاز سے نوازچکا تھا حتیٰ کہ وہان پر ہندوؤں کیلئے مندر بھی کھولے گئے اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ سعودی عرب کی ترجیحات بدل گئی ہیں انہیں مستقبل کے امکانات اورمعاشی ترقی پرسوچنا ہے اوراسکے خیال میں انڈیا زیادہ کارآمد ثابت ہوسکتا ہے۔نئے دور میں ممالک اپنے معاشی مفادات کو پہلی ترجیح کے طور پر دیکھتے ہیں چونکہ انڈیا امریکہ کا سب سے بڑا اسٹریجک پارٹنر بن چکا ہے اس لئے سعودی عرب اوردیگرامریکی اتحادی انڈیا کو بھی اپنا اتحادی سمجھتے ہیں سعودی عرب کی بلا سے کہ کشمیری مسلمانوں کے ساتھ کیا ہوتا ہے اسرائیل فلسطینی مسلمانوں کے ساتھ کیا سلوک کررہا ہے اور شام اوریمن کے بچے مرتے ہیں تو مرنے دے۔
ایسے نازک وقت میں پاکستانی حکومت کا سعودی عرب سے ناراض ہونا اورسوشل میڈیا گروپوں کی جانب سے سعودی عرب کیخلاف مہم چلانا کوئی دانشمندی نہیں ہے اس سے پاکستان کوکوئی فائدہ نہیں نقصان ہوگا سعودی عرب ادھار پرتیل دینا بند کردے گا ریزرو میں رکھے گئے سارے پیسے واپس مانگ چکا ہے اسکی دیکھا دیکھی یواے ای بھی یہی کرے گا پاکستان کو جذباتی فیصلہ کی بجائے صبر سے کام لینا چاہئے تھا۔
جہاں تک ترکی کا تعلق ہے تو ایوب خان کے دور میں ترکی پاکستان اور ایران نے مل کرآرسی ڈی بنایا تھا تینوں ممالک میں آمریت کی قدر مشترک تھی جمال گرسل ایوب خان اورشاہ ایران بدترین حکمران اور امریکہ کے طفیلی تھے اگر پاکستان سعودی عرب کوچھوڑ کرترکی،قطر اوردیگر ممالک سے اتحاد بنانا چاہتا ہے بے شک بنائے لیکن یہ ممالک اس پوزیشن میں نہیں کہ اسے مالی فوائد پہنچاسکیں پاکستان جس طرح چین کی ناز برداری کررہا ہے باقی ممالک سے بھی تعلقات کوٹھیک رکھے ایک طرف عمران خان کو کشمیر میں ہونیوالے مظالم کی بڑی فکر ہے دوسری جانب چین سنجیانگ میں مسلمانوں کی بدترین نسل کشی کررہا ہے اس پر وہ آنکھیں بند کئے ہوئے ہیں یہ دوغلی پالیسی ہے اگر پاکستان عالم اسلام کا قلعہ ہے اسے دنیا کے تمام مسلمانوں کیخلاف مظالم پر آواز اٹھانی چاہئے لیکن معاشی اشارے بہت گھمبیر ہیں جب تک اسکے معاشی حالات درست نہیں ہوتے پاکستان نہ ہوتو مسلمانوں کیلئے کوئی کردارادا کرسکتا ہے اور نہ ہی عالمی سیاست میں کوئی مقام حاصل کرسکتا ہے۔عمران خان کی خارجہ پالیسی شدید ناکامی سے دوچار ہے جتنا زور وہ زرداری شریف خاندان کے احتساب پرلگارہے ہیں اگر معیشت اور دیگر مسائل پر لگاتے تو اچھے نتائج آسکتے تھے زرداری اورنوزشریف نے ملک کوباالکل اسی طرح لوٹا ہے جس طرح عمران خان کے ساتھی لوٹ رہے ہیں یہ لوگ بھی ریاست پر کوئی رحم نہیں کھارہے ہیں دلچسپ بات یہ ہے کہ موجودہ چور سابق چوروں کو پکڑنے کی کوشش کررہے ہیں نیب جو کچھ کررہا ہے اس سے انتقام کی بوآرہی ہے نوازشریف اور زرداری ایک آنہ بھی واپس کرنے کوتیارنہیں بے شک حکومت دونوں کو پھانسی لگادے لیکن اس کاکوئی فائدہ ہونے والا نہیں سوائے اسکے کہ دونوں جماعتیں یک جا ہوجائیں اور مولانا کوپچھلی وعدہ خلافیوں پرفوری معافی نامہ لکھ کر دینے کے علاوہ تحریری معاہدہ کریں حکومت اپنے مسائل میں خود اضافہ کررہی ہے اگراپوزیشن جو اس وقت فدوی اور تابعداری کاکردارادا کررہی ہے یک جا ہوگئی تو حکومت کی ہی مشکلات میں اضافہ ہوگا ایک کمزور حکومت کمزور رٹ نحیف معیشت اور بے قاعدگیوں میں گھری ہوگئی انتظامیہ اپنے عوام کی کیاخدمت انجام دے سکتی ہے؟


