ضمانت ضبط

انور ساجدی
مریم نواز نے لاہور میں نیب ہیڈکوارٹر کے سامنے جو ڈرامہ اسٹیج کیا اس کا موقع نیب نے انہیں فراہم کیاتھا سپریم کورٹ پر ن لیگی کارکنوں کے حملے کے بعد یہ اسی نوعیت کا دوسرا حملہ ہے مریم کے چچا جان میاں شہبازشریف نے نوازشریف کے لندن جانے کے موقع پر جو گارنٹی دی تھی وہ مریم بی بی نے ختم کردی ہے جب میاں صاحب باہر جارہے تھے توشہبازشریف نے خفیہ رابطوں کے ذریعے طویل مذاکرات کئے تھے اور یقین دہانی کروائی تھی کہ اس سہولت کے بدلے مسلم لیگ ن کوئی ایجی ٹیشن نہیں کرے گی پارلیمنٹ کے اندر اور باہر حکومت کیلئے مشکلات پیدا کرنے سے گریز کیاجائیگا تاکہ وہ اپنی مدت سکون سے مکمل کرسکے اگرچہ شہبازشریف ایسی کسی گارنٹی طے ہونے سے انکار کرتے ہیں لیکن بیشتر ن لیگی رہنما اس بات سے آگاہ ہیں زبانی سمجھوتے کا ہی نتیجہ تھا کہ نوازشریف نے ن لیگی قیادت کو لندن بلاکر فیصلہ صادر کیاکہ آرمی ایکٹ غیرمشروط طور پر منظور کیاجائے اس سلسلے میں انہوں نے اپوزیشن کی باقی جماعتوں کودرخوداعتنا نہیں سمجھا اس عمل پر باقاعدہ نوازشریف کاشکریہ ادا کیا گیا گزشتہ10ماہ کے دوران نوازشریف سے کئی رابطے ہوئے ہیں اگرچہ انہوں نے مقتدرہ سے تعاون کے بدلے میں کئی شرائط پیش کی ہیں لیکن انکی فوری شرط یہ تھی کہ انکی صاحبزادی کولندن جانے کی اجازت دی جائے لیکن اس سلسلے میں وزیراعظم نے خودرکاوٹ ڈالی کیونکہ مریم کے جانے کے بعد نوازشریف اپنے سیاسی اہداف کے حصول کیلئے زبانی معاہدہ توڑسکتے تھے اس لئے وزیراعظم نے ضد کی کہ مریم باہر نہیں جائے گی ورنہ انکی سودے بازی کی پوزیشن کمزورہوجائے گی حالانکہ سودے بازی دیگر عناصر کررہے تھے اورعمران خان شروع میں ان واقعات سے باخبر بھی نہیں تھے۔
معاہدہ کی تصدیق میاں شہبازشریف کے رویہ حرکات وسکنات سے ہوتی ہے جب وہ لندن سے واپس آئے تو اپنے لب سی لئے تاہم نیب کے نوٹس ملنے پر وہ پارلیمنٹ آکر حکومت کو خالی خولی تڑی سے کام چلاتے تھے بعدازاں وہ کرونا کا بہانہ بناکر روپوش ہوگئے حالانکہ انہیں کرونا ہوا نہیں تھا نیب کی ٹیم جب شہبازشریف کی گرفتاری کیلئے ماڈل ٹاؤن لاہور گئی تھی تو وہ ڈرامہ تھا اگرنیب سنجیدہ ہوتا تو خالی ہاتھ نہ آتا اس سے یہ ظاہر کرنا مقصود تھا کہ شہبازشریف ڈٹے ہوئے ہیں تاکہ کارکنوں کاحوصلہ بندھا رہے مریم نے نیب دفتر کے باہر ہنگامہ آرائی کے بعد رائے ونڈ میں جو پریس کانفرنس کی شہبازشریف نے اس میں شرکت نہیں کی بلکہ انہوں نے بڑے بھائی کو لندن فون کرکے کہا کہ بیٹی نے اچھا نہیں کیا اس سے ہمارے لئے مسائل پیدا ہونگے اس سے مریم اور چاچا کے درمیان اختلافات بھی واضح ہوگئے۔شہبازشریف کو خدشہ ہے کہ اگرپارٹی نے زیادہ گڑبر کی تو انکی شخصی ضمانت ضبط ہوجائے گی جس کے بعد انکی گرفتاری اور مقدمات میں تیزی سمیت کچھ بھی ہوسکتا ہے شہبازشریف کومعلوم ہے کہ ان پر منی لانڈرنگ کے الزامات ثابت ہیں اگرحکام بالا ہاتھ ”ہولا“ نہ رکھیں تو انکو سزاسے کوئی نہیں بچاسکتا نیب والوں کو تویہ بھی معلوم ہے کہ شہبازشریف کی لندن میں کتنی خفیہ جائیدادیں ہیں لیکن ابھی تک اس مسئلہ کو نہیں چھیڑا گیا ہے اگر انہوں نے وعدہ خلافی کی تو لندن کی خفیہ جائیدادوں کا مسئلہ اٹھایا جائیگا اور اس کمپنی کا پتہ بھی چلالیاجائیگا جو آئل آف مین میں رجسٹرڈ کیاگیا ہے اور جس کے ذریعے جائیدادیں خریدی گئی ہیں اسی مقام پر کمپنی رجسٹرڈ کرنے کے بعد عمران خان نے بھی اپنے لندن کا فلیٹ خریداتھا یعنی سب کا راستہ ایک ہی ہے ایمانداری اور دیانتداری اس ریاست سے رخصت ہوچکی ہے حالانکہ عمران خان زرداری اور شریف خاندان کے احتساب کانعرہ لگاکر آئے تھے لیکن انکے اپنے ساتھی بھی زرداری اور نوازشریف کے راستے پرگامزن ہیں چہرے تبدیل ہونے سے ملکی حالات پر کوئی فرق نہیں پڑا اگرنوازشریف اور زرداری کی لوٹ مار ختم ہوگئی ہے تومعیشت کااتنا براحال کیوں ہے پارساؤں کے دور میں تو خزانہ کو لبریز ہونا چاہئے تھا لیکن عالمی اداروں کے جائزوں کے مطابق کرپشن کا لیول اور شرح بڑھ گئی ہے۔دنیا نے وہ فوٹیج دیکھی جب لندن کی ایک سڑک پر احتساب کے انچارج شہزاد اکبر ملک ریاض سے ایک بریف کیس پکڑ رہے ہیں کیا ملک صاحب اتنے پارسا ہیں کہ وہ لندن کی سڑکوں پر حکومتی شخصیات کو احادیث اورسی پا رے بھر کر سوٹ کیس دیتے ہیں سوال یہ ہے کہ احتساب کے ذمہ دار اتنے بڑے نیک نام شخص سے ملتے کیوں ہیں؟اس سے ثابت ہوتا ہے کہ ملکی حالات میں کوئی بہتری نہیں آئی ابھی تک آوے کا آوا بگڑاہوا ہے پشاور بی آر ٹی میں جو اربوں روپے کا نقصان ہوا آج تک نیب نے کسی ذمہ دار کو نہیں بلایا جب عدالت نے اس کا نوٹس لیا تو حکومت نے اسٹے آرڈر حاصل کرلیا اگر آپ کے ہاتھ صاف ہیں تو آپ اسٹے آرڈر کاسہارا کیوں لیتے ہیں۔
مختلف وجوہات کی بناء پر حکومت کو پے درپے ناکامیوں کا سامنا کرنا پڑرہا ہے جس کی وجہ سے اس کا واحد ہدف جیسے تیسے کرکے اپنی مدت پوری کرنی ہے جیسے کہ زرداری نے کی تھی کشمیر کا محاذ ہو یا خارجہ پالیسی مسلسل غلطیاں سرزدہورہی ہیں وزیرخارجہ نے مسئلہ کشمیر پر سعودی عرب کی سردمہری پرتنقید کیا کی پی ٹی آئی کے سوشل میڈیا کے شہہ سواروں نے سعودی عرب کی مخالفت میں آسمان سرپراٹھالیا لیکن دودن نہ گزرتے تھے کہ معافی کیلئے رجوع کیا گیا جب آپ کے تلوں میں تیل نہیں تو بڑھکیں کیوں مارتے ہیں ابھی فکر پڑی ہوئی ہے کہ سعودی عرب سے معافی ملے گی کہ نہیں اگر نہیں ملی تو بڑوں کو ولی عہد کے چرنوں میں جاکر گرنا پڑے گا یہ کہنا ہے کہ ہم نیااسلامی بلاک بنائیں گے محض ڈائیلاگ بازی ہے کیونکہ کوئی بھی اسلامی ملک آپ کا ساتھ نہیں دے گا اور تو اور افغانستان اور مالدیپ بھی ساتھ نہیں دیں گے جو اس وقت کمزور ترین مسلمان ملک ہیں ملائیشیا میں مہاتیر برسراقتدار نہیں ہیں انکی بات اور تھی نئے حکمران سعودی عرب کو نارض کرنے کی پوزیشن میں نہیں حکومت کے پلے اور کچھ نہیں ہے تو وہ کمزوراپوزیشن کی کرپشن اورمقدمات کو اچھال کرعوام کو مطمئن کرنے کی کوشش کررہی ہے حکومت کو خطرہ ہے کہ اگرآٹا،چینی،تیل اور دیگراشیاء کی مہنگامی جاری رہی تو عوام سڑکوں پر آسکتے ہیں حالانکہ اپوزیشن عوام کو سڑکوں پرلانا نہیں چاہتی مولانا نے گزشتہ سال کوشش کی تھی لیکن ن لیگ اور پیپلزپارٹی نے دھوکہ دے کر انکی کوشش ناکام بنادی تھی اگرچہ اپوزیشن نے مریم نواز کے مسئلہ پر اتحاد کا مظاہرہ کیا ہے لیکن مولانا کو دونوں جماعتوں کی کمزوریوں کااچھی طرح علم ہے۔وہ جانتے ہیں کہ یہ دونوں صرف ایک ٹیلی فون کال کی مار ہیں پیپلزپارٹی کی کمزوری تو سندھ حکومت ہے اسے خدشہ ہے کہ تحریک چلانے کے نتیجے میں یہ حکومت اس کے ہاتھ سے جاسکتی ہے پیپلزپارٹی حساب کتاب لگائے تو آئندہ انتخابات میں اگراسے بہت کامیابی ملی تو سندھ واپس مل سکتا ہے باقی صوبوں میں تو صرف گھاٹے کا سودا ہے پیپلزپارٹی اس امید میں ہے کہ ڈیموکریٹک امیدوار جوبائیڈن امریکی صدارتی انتخاب جیتیں گے جس کے بعد تبدیلی اوراسکے اقتدارمیں آنے کی راہ ہموار ہوجائے گی لیکن یہ محض ایک سہانا سپنا ہے ضروری نہیں کہ یہ شرمندہ تعبیر ہوجائے زرداری کو پارک لین ریفرنس میں ملزم نامزد کردیا گیا۔مریم اورشہباز کونیب نے طلب کرکے دباؤ بڑھایا ہے تاکہ یہ جماعتیں اپوزیشن کواکٹھا نہ کرسکیں خود حکومتی جماعت کابھی برا حال ہے یہ اندر سے ٹوٹ پھوٹ کی شکار ہے لیکن حکام بالا اس سے مزید کام لینا چاہتے ہیں ایک کام سندھ حکومت کو چلتا کرنا ہے لیکن یہ کام دیگرذرائع سے کروائے جانے کا پروگرام ہے۔سندھ حکومت پر پہلے سے نااہلی کرپشن اوروسائل ضائع کرنے کا الزام ہے اس الزامات کے باوجود حکومت کوہٹانا مشکل ہے اس مقصد کیلئے آئینی گنجائش تلاش کی جارہی ہے۔
سوشل میڈیا پر اینکرز جوخیالی گھوڑے دوڑارہے ہیں جس کے ذریعے سعودی عرب کو دیوالیہ،تباہ اور اسرائیل کا دوست وغیرہ ثابت کرنے کے ساتھ یہ بھی خیال آرائی کی جارہی ہے کہ ولی عہد نے مطالبہ کیا ہے کہ بھارتی جاسوس کلبھوشن کورہائی دی جائے اورشریف فیملی کیخلاف کارروائی ختم کی جائے اگرچہ ماضی میں سعودی بادشاہ شریف خاندان کو معافی دینے اور قید ختم کروانے کامطالبہ منواچکا ہے لیکن حالات کی تبدیلی کے بعد یہ ممکن نہیں کہ ولی عہد کوئی اس طرح کا مطالبہ کریں اور نہ ہی یہ سفارتی آداب سے مطابقت رکھتا ہے کہ پاکستان پر ایک جاسوس کو رہاکرنے کیلئے دباؤ ڈالاجائے اس طرح کے پروپیگنڈے سے تعلقات میں مزید بگاڑ پیدا ہوجائے گا وزیرخارجہ کے غیر ذمہ دارانہ رویہ سے سعودی عرب پہلے ہی تیل کی فراہمی بند کرچکا ہے جبکہ ادھار کی رقم واپس مانگ لی ہے یہی وجہ ہے کہ اعلیٰ پاکستان قیادت معافی تلافی پرآئی ہوئی ہے۔معافی تو ضرور ملے گی لیکن آئندہ کوئی رعایت نہیں ملے گی سعودی عرب سے پرجوش دوستانہ تعلقات کی بنیاد ذوالفقارعلی بھٹو نے 1972ء میں رکھی تھی شاہ فیصل اور انکے درمیان نہایت ہی قریب تعلقات تھے جبکہ 1973ء کی عرب اسرائیل جنگ کے دوران عربوں نے تیل کو بطور ہتھیار استعمال کرنے کا جو ہنر آزمایا تھا کہاجاتا ہے کہ اس کا مشورہ بھی بھٹو نے دیا تھا کیا وجہ ہے کہ ملک ودولخت ہونے کے باوجود بھٹو نے سارے عرب حکمرانوں کو شیشے میں اتارلیا تھا جبکہ موجودہ حکومت پہلے سے قائم تعلقات کو بھی برقراررکھنے میں ناکام ہے سعودی عرب کی طرح متحدہ عرب امارات نے بھی تقریباً منہ موڑ لیا ہے لیکن متحدہ عرب امارات کی کئی کمزوریاں ہیں وہ ان کمزوریوں کی وجہ سے خوفزدہ ہے اس لئے وہ بہت دور تک نہیں جائیگا اگرشاہ محمود کاخیال ہے کہ ایران سعودی عرب کی جگہ لے گا تو یہ انکی خام خیالی ہے کیونکہ ایران امداد دینے والا ملک نہیں ہے دوسرا یہ کہ اگر چین نے ایران پرتوجہ دی تو دوسوتنوں والا مسئلہ پیداہوسکتاہے۔
ایران کی مجبوری ہے کہ امریکی قہرآلود کارروائیوں کی وجہ سے وہ چین کی بالادستی قبول کررہا ہے کیونکہ اسکے سوا کوئی راستہ نہیں ہے یہی مجبوری پاکستان کی بھی ہے کہ وہ ایسٹ چائنا کمپنی کاغلبہ قبول کرے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں