اجارہ داری کی نامقبولیت
راحت ملک
ورلڈ بینک کے لئے پاکستان میں موجودہ ملکی ایگزیکٹو ڈائریکٹر کی معیاد ملازمت رواں برس اکتوبر میں ختم ہورہی ہے چنانچہ پاکستان میں بینک کے نئے ایگزیکٹو ڈائریکٹر کی تقرری کے لئے چار ناموں پر مشتمل سمری وزیراعظم کو منظوری کیلئے بجھوائی گئی ہے۔ روایت کے مطابق اس سمری کو گریڈ 22 کے افسران کو بجھوایا جاتا ہے لیکن اس بارے مخصوص سرکل میں بھی اسے مشتہر نہیں کیا گیا سمری میں سرفہرست وزیراعظم کے موجودپرنسپل سیکرٹری اعظم خان کا نام ہے جبکہ دیگر تین افراد میں سے ایک ریٹائرڈ سرکاری افسر طارق باجوہ اور دو حاضر سروس افسران سیکرٹری خزانہ نوید کامران بلوچ اور سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ اعجاز منیر کے نام شامل ہیں۔ذرائع ابلاغ نے اس کی نشاندہی کی ہے جبکہ سرکاری طور پر موقف اختیار کیا گیا تھا کہ سمری میں درج نام ظاہر نہیں کئے جاسکتے۔جو نام سمری میں موجود ہیں وہ اس معیار کے مطابق ہیں جس کی کسی قانون ساز ادارے نے تو منظوری نہیں دی ہوئی البتہ ضوابط کے مطابق اس عہدے پر تقرری کے لئے تجربہ معاشی شعبہ میں مہارت ودیگر ایسے امور مقرر نہیں گئے جو بینکاری و مالیاتی شعبہ سے آگہی پر مشتمل ہوں۔حالانکہ عالمی مالیاتی سرمائے کے نمائیندہ عالمی بینک میں پاکستان کے ملکی مفادات کی موثر نگہبانی کیلئے بینکاری کی بجائے معاشیات کے امور وعلم اور اس سے وابستہ معاشی نظریات سے مکمل آگاہی اور مطلوبہ معیار ہونی چاہیے تھی مگر یہاں موضوع (سبجیکٹ) تجربے اور مہارت علمی کی بجائے 22 ویں گریڈکا حاضر یاریٹائرڈ افسر ہونا بنیادی اہلیت ومعیار طے کیا گیا ہے۔22 ویں گریڈ کے عہدے تک رسائی پانے والے افسر کی معاشی مہارت تو ثابت نہیں ہوتی البتہ یہ معلوم ضرور ہوجاتا ہے کہ شخص مذکورہ ترقی کی منازل طے کرنے کے لئے حکمران حلقہ کی آنکھ کا تارا ضرور رہا ہوگا۔یہ بھی تسلیم کہ22 ویں گریڈ کے عہدے تک ترقی پانیوالا افسر نہایت زیرک ہوسکتا ہے اورخدا داد صلاحیتوں کا مالک بھی لیکن وہ عقل بھی ہے یہ مسلمہ امر نہیں
میں یہاں دو سوال اٹھانے کی جسارت کرتا ہوں۔
1) کیا سی ایس ایس سول افسران کے علاوہ صوبائی سروسز کے افسران کو 22 ویں گریڈ تک ترقی ملتی ہے؟
2۔) ورلڈ بینک کے اس عہدہ کامتذکرہ صدر معیار کس اصول اور قانون ساز ادارے کا منظور شدہ ہے؟
یہ اس لئے اہمیت رکھتے ہیں کہ معیار مذکورہ علمی اہلیت کی بجائے وفاقی سول سروسز کے افسران کی اجارہ داری کی عکاسی کرتا ہے۔ جسے 22 ویں گریڈ کے ساتھ نتھی کر دیا گیا ہے
یہ سوال بھی اٹھایا جاسکتا ہے کہ کیا صوبائی سول سروسز کے ڈھانچے میں 21ویں گریڈ تک ترقی پانے والوں میں ایسا ایک بھی افسر نہیں ہوتا جو ورلڈ بینک کے لیے ملکی ایگزیکٹو کے عہدے پر نامزد ہونے کی ذہنی استعداد و صلاحیت رکھتا ہو؟
سی ایس ایس کے افسران ملک کے سیاہ و سفید کے مالک مختار ہیں وہی اپنے لئے مراعات اور انکے تحفظ و اجارہ داری کیلئے معیارات و ضوابط مرتب کرتے اور انہیں نافذ کراتے ہیں جبکہ اس ناروا ضابطے سے کی زد میں صوبائی سول سروسز کے تحت خدمات انجام دینے والے افراد کا استحصال ہونا ایک مسلمہ امر ہے افسر شاہی کے وفاقی بالائی سانچے کا کمال یہ ہے کہ وہ خبط عظمت کے نو آبادیاتی اور طاقت کے روایتی خمار سے پوری طرح لتھڑا ہوا ہے
یہاں دو مختلف نکات کو ملحوظ رکھنا ہوگا۔ سی ایس ایس افسران چونکہ مختلف صوبوں سے ہی بھرتی ہو کر آتے ہیں لہذا وہ کچھ عہدوں پر تو صوبائی کوٹہ کے ذریعے غلبہ پاتے ہیں اور بعض عہدوں بالخصوص بیرونی دنیا سے تعلق رکھنے والے اداروں کے عہدوں کیلئے 22 ویں گریڈ کی شرط نافذ کر کے ہر دو صورتوں میں اپنی اجارہ داری برقرار رکھتے ہیں چونکہ مذکورہ افسر شاہی حلقہ صوبوں سے ہی آتا ہے تو پھر وہ بعض عہدوں کیلئے جیسے بلوچستان پبلک سروس کمیشن کے چیئرمین واراکین بننے کیلئے اپنے آبائی صوبے سے تعلق کا سہارا لیتے ہیں اسکی حالیہ مثال سی ایس ایس کے سابق اعلیٰ افسر جن کا میں ذاتی طور پر بہت احترام کرتا ہوں جناب عبدالسالک درانی صاحب کی بطور چیئرمین بلوچستان پبلک سروس کمیشن تقرری ہے۔
یہ جان کر حیرت ہوتی ہے کہ صوبائی سروسز کے افسران 22 ویں گریڈ تک ترقی کرہی نہیں سکتے تو ورلڈ بنک کے ملکی ایگزیکٹو بننے کیلئے زیر غور ہی نہیں آتے کیونکہ وہ اس معیار پر پورے ہی نہیں اترتے جسے سی ایس ایس والوں نے اپنی بالادست یا اجارہ داری کے لیے مقرر کرا لیا ہے۔ مگر اپنی مدت ملازمت مکمل کرنے کے بعد یہی سی ایس ایس افسران صوبائی سروس کمیشن کے ارکان بننے کیلے اپنے آبائی صوبے سے تعلق ظاہر کرنے والی شہریتی سند کا سہارا لیتے اور سابقہ ملازمت سے حاصل شدہ اثر و رسوخ استعمال کرتے ہیں اس طرز عمل کے منفی اثرات صوبائی سروسز کے افسران میں احساس کم تری استحصال اور امتیازی درجہ بندی کے منفی رجحانات کی نموکاری کا سبب بنتے ہیں
میں تجویز کروں گا کہ ورلڈ بینک کے ملکی ایگزیکٹو کی تقرری کے لئے مالیاتی شعبے کے ساتھ گہری علمی تعلیمی و عملی وابستگی اور تجربے کو بنیادی معیار بنایا جائے اور اس سلسلے میں گریڈ22کی شرط ختم کی جائے گریڈ ہر عہدے کیلئے معیاری اہلیت کامنطقی پیمانہ نہیں ہوتا یہ بہت ممکن ہے کہ کوئی افسر جو20یا 21 ویں گریڈ میں حاضر سروس ہو یا ریٹائرڈ ہوا ہو۔اس افسر سے زیادہ قابلیت کا حامل ہو سکتا اور اس عہدے کے لئے موزوں ہو جو22ویں گریڈ پر موجود یا سبکدوشی حاصل کرچکا ہے۔سی ایس ایس کا مطلب ہر فن مولاہونا قطعی نہیں یہاں محکمہ جاتی تقرریوں یا تبادلوں میں بھی تعلیمی قابلیت کے متعلقہ شعبہ کو معیار بنانا ضروری ہونا چاہیے۔ چی جائیکہ ایک عالمی مالیاتی بینک میں ملکی مفاد کی نگہبانی کے لئے انجینئر یا کسی بھی دوسرے شعبہ میں تعلیم یافتہ لیکن 22ویں گریڈ کا افسر ہونا ضروری ہے یہ معیاری اصول ہے نہ منصفانہ طرز عمل۔
دوسری بات اس مخصوص عہدے کے حوالے یہ بھی ملحوظ رکھی جانی چاہیے کہ اس عہدے کو تمام صوبوں کے افسران کے لئے قابل رسائی بنانے کی خاطر صوبائی ترتیت کا فارمولہ طے کیا جائے تاکہ ہر بار دوسرے صوبے کو یہ عہدہ مل سکے مگر علمی وعملی تجربے قابلیت کی بنیاد پر۔
اس طرح عالمی بینک سے قرضہ جات کے معاملات میں باری بار ی تمام صوبے اپنی شرکت کے ذریعے عالمی مالی معاملات کے ساتھ جڑ جائیں گے جس سے ملکی و قومی ہم آہنگی اور اتحاد وشراکت کے وسیع الاثر ثمرات مرتب ہونگے
حالیہ دنوں میں ایک مختلف واقعہ بھی بلوچستان کے لوگوں کے لئے اپنی صوبائی حکومت سے بیگانگی کے اظہار کا پہلو لیے نمو دار ہوا ہے۔بلوچستان کے لوک فنکار واسو خان جسے جناب شہزاد رائے نے ہی متعارف کرایا تھا۔مالی مشکلات اور بیماری کی وجہ سے پریشان حال ہوئے تو اس کی مالی امداد کے لئے ایک بار پھر جناب شہزاد رائے کو وسیلہ بننا پڑا۔کیا یہ بہتر نہ ہوتا کہ بلوچستان کے وزیراعلیٰ جو ایک قبائلی سردار گھرانے کے چشم و چراغ ہونے کے ناطے اپنی ثقافت فنون اور لوگوں سے زیادہ قرابتداری کے مدعی بھی ہیں اپنے صوبے کے اس معروف فنکار کی دلجوئی ومالی مدد کے لئے خود یا اپنی کابینہ کے کسی رکن کو متحرک کرتے خود واسو خان کے پاس جاتے۔
جناب شہزاد رائے کے کردار کی توصیف اپنی جگہ مگر یہ واقعہ بتا رہا ہے کہ بلوچستان کے عوام کو اب اپنے ہی وزیراعلیٰ اوراپنی حکومت سے جائز تعاون لینے کیلئے بھی اب دوسرے صوبوں کے افراد کا سہارا لینا ہوگا؟ کیا یہ ذہنی غلامی کی ایک قسم نہیں؟
جو اجارہ داریوں کے پھیلے ہوئے سلسلے کے ساتھ مل کر بھیانک صورت میں بلوچستان کو پسماندگی کی طرف دھکیل رہا ہے معاشی سیاسی اور ذہنی پسماندگی کی جانب؟


