خواتین صحافیوں کو حراساں کرنا ناقابل قبول ہے، شیریں مزاری
اسلام آباد:وفاقی وزیربرائے انسانی حقوق ڈاکٹر شیریں مزاری نے کہا ہے کہ خواتین صحافیوں کو نشانہ بنانے اور بد سلوکی کا سن کر دکھ ہوا، خواتین صحافیوں کو حراساں کرنا ناقابل قبول ہے، وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات سے درخواست کی ہے کہ صحافیوں کے تحفظ کے بل میں رہنمائی کریں، اس کی نہ صرف اشد ضرورت ہے بلکہ ہمارے آئین اور بین الاقوامی قوانین کے تحت ہماری ذمہ داری ہے۔ٹویٹر پر جاری اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ صحافی پیشہ وارانہ خدمات سرانجام دے رہے ہیں اور انہیں نشانہ بنانا بالخصوص صنفی بنیادوں پر بدسلوکی کرنا انتہائی قابل افسوس ہے اور ناقابل قبول ہے۔ انہوں نے وفاقی وزیراطلاعات و نشریات سے بھی مطالبہ کیا ہے کہ صحافیوں کے تحفظ کے بل کی تیاری میں تیزی لانے کے لئے رہنمائی کریں، اس بل کی نہ صرف اشد ضرورت ہے بلکہ ہمارے آئین اور بین الاقوامی قوانین کے تحت ہماری ذمہ داری بھی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ کسی بھی سیاستدان یا ان کے اہل خانہ کی طرف سے خواتین صحافیوں کو حراساں کرنا ناقابل قبول ہے


