شاہ صاحب کی قربانی
انورساجدی
جیسے کہ میںنے گزشتہ کالموں میںلکھا تھا کہ موجودہ حکومت بہت جلد اپنی کامیابیوں اورکامرانیوں کاعشرہ منانا شروع کردے گی چنانچہ 2سال تاخیر سے مکمل ہونے والے پشاور بی آر ٹی پروجیکٹ کے افتتاح سے عشرہ کاآغاز کردیا گیا ہے حکومت کرونا کے کیسوں میںکمی کو بھی اپنا کارنامہ شمار کررہی ہے ایک خوش خبری گیس کمپنیوں سے سیس کی رقم کی واپسی کا عدالتی فیصلہ بھی ہے جبکہ بجلی کمپنیوں سے بھی چار کھرب روپے سے زائد وصول ہورہے ہیں اسکے علاوہ سندھ حکومت کے حوالے سے بھی حکومت کو آئندہ کچھ عرصہ میںحسب منشا نتائج ملنے والے ہیں سندھ حکومت لاکھ واویلا مچائے کون سنے گاپیپلزپارٹی زیادہ سے زیادہ سڑکوں پر آنے کی دھمکی دے سکتی ہے یا کشتیاں جلا کر مولانا فضل الرحمن کی منت سماجت کرے گی کہ وہ حکومت کیخلاف ایک عوامی تحریک کا راستہ ہموار کرے اگر ن لیگ کیخلاف کارروائیوں کا سلسلہ جاری رہا تو اسے بھی کشتیاں جلانی پڑیںگی ممکنہ ہے کہ اس صورت میںحکومت کیخلاف کوئی تحریک چلے ورنہ دونوں جماعتوں کو تین سال تک عام انتخابات کا انتظار کرنا پڑے گا لیکن یہ ضروری نہیں کہ آئندہ انتخابات میںکوئی کامیابی ملے جب کوئی جماعت پٹڑی سے اترجائے اس کا دوبارہ منزل پر پہنچنا مشکل ہوجاتاہے۔حال ہی میںسعودی عرب سے تعلقات میںجوغبار آیا تھا اس میںبھی کسی حد تک بہتری کے امکانات پیدا ہورہے ہیں آرمی چیف کے دورے کے نتیجے میںتعلقات دوبارہ نارمل ہوجائیںگے البتہ ان میںدوبارہ گرمجوشی پیداہونا ممکن نہیں ہے سفارتی مبصرین کے مطابق وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی کو عہدے کی قربانی دینا پڑے گی اگرحاکم بالازیادہ مہربان ہوئے تو انہیںایک اور وزارت دی جائے گی ورنہ حکومت اور تحریک انصاف سے شاہ جی کی چھٹی وہ چونکہ جذباتی انسان ہیں اس لئے دلبرداشتہ ہوکر کوئی اور جائے پناہ تلاش کریںگے۔گیلانی کی وجہ سے پیپلزپارٹی میںانکی گنجائش نہیں ہے اگر ن لیگ نے معافی دیدی تو انہیںوہیں پر پناہ مل سکتی ہے ادھر عثمان بزدار کو تذلیل کے بعد مجبور کیاجائیگا کہ وہ عہدہ چھوڑدیںاگر نیب نے واقعتاً انکے خلاف سنجیدہ کارروائی شروع کردی تو انکے لئے ممکن نہ ہوگا کہ وہ وزارت اعلیٰ کے عہدے پر براجمان رہیںکیونکہ انہوںنے ہوٹل کوشراب کالائسنس جاری کرنے کے علاوہ بڑی تیزی کے ساتھ اپنی جائیدادوں میںاضافہ کیاہے۔اگر وہ ان جائیداوں کی خرید کا جواز فراہم نہ کرسکے تو ان کا جانا ناگزیرہوجائے گا۔عمران خان نے تو متبادل کی تلاش شروع کردی ہے اتنے بڑے پنجاب اور 365ممبران صوبائی اسمبلی کے باوجود کوئی ایسا ڈھنگ کاشخص موجود نہیں جو پنجاب کا وزیراعلیٰ بننے کا اہل ہو عمران خان کے پسندیدہ امیدوار علیم خان پارک ویو اسکیم کی وجہ سے نیب کے ریڈار پر ہیں موزوں ترین امیدوار چوہدری پرویز الٰہی ہیں لیکن عمران خان انہیں وزیراعلیٰ بنانے کا رسک نہیں لے سکتے انکے آنے سے پورا پنجاب تحریک انصاف کے ہاتھ سے نکل جائے گا اور آئندہ بلدیاتی انتخابات میںبھی مطلوبہ کامیابی نہیںملے گی ویسے بیشتر مبصرین کاخیال ہے کہ تحریک انصاف کوئی مستقل یا دائمی جماعت نہیں ہے اسے وقتی طور پر بعض اہداف کے حصول کیلئے اقتدار میںلایا گیا اسکے لئے مشکل ہے کہ وہ آئندہ کئی انتخابات تک زندہ رہے جس طرح ق لیگ مشرف کے بعد زوال کا شکار ہوگئی اسی طرح تحریک انصاف بھی زمین بوس ہوجائے گی کیونکہ ابھی تک اس ملک میںجمہوری نظام مستحکم نہیںہوا بلکہ پرانے اور آزمودہ تجربے جاری ہیں ہردفعہ کنگز پارٹی بدل جاتی ہے آئندہ کے حالات کے مطابق شائد ایک نئی کنگز پارٹی کی ضرورت پڑے جیسے کہ2018ء کے انتخابات کے وقت اچانک باپ پارٹی کھڑی کی گئی اور اسے اتنی اکثریت دلائی گئی کہ وہ ایک کولیشن حکومت تشکیل دے سکے اسی طرح کی ایک جماعت یا وسیع اتحاد وسندھ میںبھی قائم کرنے کی کوشش کی جائیگی تاکہ یہ پیپلزپارٹی کا متبادل ثابت ہوسکے ماضی میںجام صادق اور ارباب رحیم کی صورت میںاس طرح کے تجربات کئے جاچکے ہیں اس وقت بھی ق لیگ ایم کیو ایم اور جی ڈی اے پرمشتمل حکومت قائم کی گئی تھی جام صادق علی نے تو پیپلزپارٹی کا صفایا کردیا تھا حالانکہ اس زمانے میںبینظیر جیسی قدآور شخصیت پارٹی کی قیادت کررہی تھی لیکن اب صورتحال بدل گئی ہے بوجوہ زرداری اور بلاول اتنے موثر نہیں ہیں جتنی کہ بینظیر تھیں اس دور میںپارٹی پرکرپشن کے اتنے بڑے الزامات نہیںتھے جو اس وقت ہیںگزشتہ 12سال میںپیپلزپارٹی اپنے آپ کو حکومت چلانے کی اہل ثابت نہیں کرسکی حتیٰ کہ کراچی کے بدترین حالات پروفاق اورعدلیہ کو مداخلت کرنا پڑی خیر گورننس کے لحاظ سے باقی صوبوں کا بھی برا حال ہے لیکن سندھ اپنی آمدنی پورٹس وسائل اور سیاسی اہمیت کی وجہ سے خاص ٹارگٹ ہے وفاق کوشش کررہا ہے کہ سندھ ہر قیمت پر اسے ملے یا اتحادیوں کے ہاتھ آئے تاکہ اسکے وسائل وفاقی اداروں پر خرچ کئے جاسکیں اور ادائیگیوں کے توازن میںبہتری آئے سندھ کیلئے جو طویل المدتی منصوبہ تیار کیا گیا ہے اسکے تحت پیپلزپارٹی کی بے دخلی سرفہرست ہے اسکے بعد آئندہ انتخابات میںاسے اکثریت میںآنے نہیں دیا جائیگا پہلے مرحلے میںارباب رحیم جیسے ’’ریلوکٹے‘‘ سندھی کو وزیراعلیٰ بنایاجائیگا لیکن کوشش ہوگی کہ یہ آخری سندھی وزیراعلیٰ ہو پیپلزپارٹی کو اندرون سندھ میںجی ڈٰ اے سے متصادم کردیاجائیگا لیکن آئندہ کے پلان میںجی ڈی اے کا کردارایک لاحقہ یاطفیلی کا ہوگا۔ اگر زرداری 18ویں ترمیم واپس لینے اور این ایف سی ایوارڈ میںصوبوں کاحصہ کم کرنے پر راضی نہ ہوئے تو سندھ میںایسی حکومت لائی جائے گی جو آنکھیں بند کرکے وفاق کا ہر حکم مانے گی آئین میںمطلوبہ ردوبدل اس وقت کیاجائے گا حب سندھ میںمرضی کی حکومت قائم ہوجائے گی اس درمیان کیا کیا ہوگا حکام بالا اسکو کوئی اہمیت نہیں دے رہے مثال کے طور پر پیپلزپارٹی مولانا اور اے این پی سے مل کر ایک آئینی مزاحمتی تحریک چلانے کو کوشش کرے گی جس کے نتیجے میںصوبائی خودمختاری کے حامیوں اور وفاقی فورسز میںتصادم ہوگا اس سے سیاسی عدم استحکام مزید بڑھ جائیگا لاء اینڈ آرڈر کی صورتحال خراب ہوجائے گی۔پیپلزپارٹی کی وجہ سے جو سیاسی خلا پیدا ہوگا اسے مرکز گریز علاقائی قوتیں پر کرنے کی کوشش کریںگی اسکے نتیجے سندھ میںبھی بلوچستان جیسی صورت حال پیدا ہوجائے گی کوئی سندھ حکومت سکون سے نہیںچل سکے گی اس سے صنعتی اور معاشی ترقی کو شدید دھچکہ لگے گا پشتونخوا اور بلوچستان کی بے چینی میںاضافہ ہوجائے گا وفاق کے مکمل غلبہ سے وحدانی طرز کانظام قائم ہوجائے گا جس کی وجہ سے مشرقی پاکستان کی علیحدگی کی بنیاد پڑی تھی اس وقت سندھ کے حالات اس لئے قابو میںنہیںآرہے ہیں کہ دوسرے صوبوں کے ایک کروڑ کے قریب لوگ یہاں مقیم ہیں بیشتر کچی بستیاں انکی وجہ سے قائم ہیں کراچی شہر اس لئے گوٹھ بن گیا ہے کہ کچی آبادیاں کوٹھیک کرنے کیلئے اسکی صلاحیت کم ہے یہاں پر کوئی بھی حکومت آجائے چاہے گورنر راج ہو یا براہ راست وفاق کی حکومت کراچی کی صورتحال ٹھیک نہیں ہوسکتی ہے بدقسمتی سے تین صوبوں کے بے روزگار لوگوں کا رخ کراچی کی طرف ہے یہاں لوگوں کاآنا جاری ہے اور آئندہ بھی جاری رہے گا کراچی بمبئی کی طرح آئوٹ آف کنٹرول ہوگیا ہے۔حالانکہ بمبئی کے بڑے وسائل ہیں لیکن وہاں کی ریاستی حکومت مسائل پر قابوپانے میںبری طرح ناکام ہے حالیہ بارشوں میںبمبئی تین دن تک ڈوبارہا حالات کا تقاضہ ہے کہ وفاق کسی بھی صوبے کے ساتھ چھیڑ چھاڑ نہ کرے ورنہ نقصان بالآخر اسی کا ہوگا اگرمعاشی زبوںحالی جاری رہی تو آخر کار لوگ گھروں سے باہر آجائیںگے اور سڑکوں پر حکومت کا احتساب کریںگے دوسری طرف پیپلزپارٹی ،اے این پی ،بی این پی ،نیشنل پارٹی اور مولانا مل کر حکومت کا چلنا دوبھر کردیںگی جس کا نقصان بھی وفاقی حکومت کوہوگا۔


